العزیزیہ ریفرنس: میں نے ذاتی طور پر کبھی قطری خطوط پر انحصار نہیں کیا، نواز شریف

نواز شریف

اسلام آباد: احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم میاں‌ نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے معزز جج محمد ارشد ملک نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے بغیر حلف نامے کے 342 کا بیان یوایس بی میں عدالت کوفراہم کردیا گیا، ان کے جوابات کو عدالتی ریکارڈ پرلایا جا رہا ہے۔

نواز شریف کی جانب سے151 سوالات میں سے 120 کے جوابات دیے گئے، نوازشریف نے آج مزید 30 سوالات کے جوابات فراہم کرنے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے فراہم کیے گئے جوابات میں تصحیح کرائی جا رہی ہے۔

نوازشریف نے احتساب عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ حماد بن جاسم نےکہا تھا جے آئی ٹی دوحہ آ کرخطوط کی تصدیق کرلے۔

انہوں نے کہا کہ جےآئی ٹی کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی قطری خطوط کو محض افسانہ قراردے، قطری کے خطوط میں نے کبھی بھی کسی فورم پردفاع کے لیے پیش نہیں کیے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر کبھی قطری خطوط پرانحصارنہیں کیا، العزیزیہ کی فروخت یا اس سے متعلق کسی ٹرانزیکشن کا کبھی حصہ نہیں رہا۔

loading...

نوازشریف نے کہا کہ حسین نوازنے 6 ملین ڈالرمیں العزیزیہ کے قیام کا بیان میری موجودگی میں نہیں دیا، حسین نوازکا بیان قابل قبول شہادت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ شریک ملزم حسین نوازاس عدالت کے سامنے بھی موجود نہیں ہے، یہ درست نہیں العزیزیہ حسین نوازنے قائم کی، والد نے قائم کی تھی، العزیزیہ اسٹیل مل کا کاروبار حسین نواز چلاتے تھے۔

عدالت میں گزشتہ روز نوازشریف نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران پوچھے گئے سوالات کے جواب دیتے ہوئے قطری شہزادے کے خطوط سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

سابق وزیراعظم نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ جے آئی ٹی کے 10 والیم محض ایک تفتیشی رپورٹ ہے، کوئی قابل قبول شہادت نہیں، میرے ٹیکس ریکارڈ کے علاوہ جے آئی ٹی کی طرف سے پیش کی گئی کسی دستاویز کا میں گواہ نہیں۔

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نوازشریف اب تک مجموعی 151 سوالات میں سے 89 کے جواب دے چکے ہیں۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم کے خلاف ٹرائل مکمل کرنے کے لیے معزز جج ارشد ملک کو سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کل 17 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔

احتساب عدالت کی جانب سے ٹرائل کی مدت میں ساتویں بار توسیع کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کا بھی امکان ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں