پختونخوا میں 4 ہزار سے زائد افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص

ایچ آئی وی

خیبر پختونخوا کے تین مراکز صحت پر بچوں سمیت مزید ساڑھے چار ہزار افراد میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہوئی ہے جن کا علاج شروع کردیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق رواں برس جنوری سے جولائی تک حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں مجموعی طور پر 3 ہزار 984 افراد میں ایچ آئی وی ایڈز کی تشخیص ہوئی جن میں 2 ہزار 876 مرد اور 929 خواتین شامل ہیں۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں 23 خواجہ سرا، 98 بچے اور 58 بچیاں بھی مہلک بیماری کے علاج کیلئے رجسٹرڈ ہوئی ہیں۔

کوہاٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ایڈز کنٹرول سینٹر پر مجموعی طور پر 437 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی ہے جن میں 289 مرد، 126 خواتین، 14 بچے اور8 بچیاں شامل ہیں۔

اسی طرح لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں جنوری سے جولائی تک 84 افراد میں ایچ آئی وی تشخیص ہوا جن میں 73 مرد، 10 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ایچ آئی وی ایڈز قابل علاج بیماری ہے لیکن معاشرتی روایات کی وجہ سے لوگ اپنا ٹیسٹ نہیں کروا رہے، بھی لوگوں میں ایچ آئی وی ایڈز تشخیص ہوا وہ تمام افراد سرکاری اسپتالوں میں دوسرے امراض کے سلسلے میں آئے تھے جہاں پر ان کے خون میں یہ وائرس تشخیص ہوا۔

حکام کے مطابق زیادہ تر لوگوں کو انتقال خون اور متعدد افراد کو جنسی مسائل کی وجہ سے یہ مرض لاحق ہوا ہے جبکہ انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد کی بھی بڑی تعداد میں یہ وائرس پھیل گیا ہے۔

ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق کے مطابق اس بیماری کی اسکریننگ اور تشخیص کیلئے اقدامات کے باوجود بھی لوگ ایڈز سینٹرز سے رجوع نہیں کررہے، جس کی وجہ سے ایچ آئی وی بعد میں ایڈز بن کر ان افراد کی جان لینے کا سبب بن رہا ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں