پاکستان کو قانون کے ذریعے چلانا ہے یا پھر سٹریٹ پاور کے ذریعے، سپریم کورٹ

چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے فیض آباد پر دھرنے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کو بتایا جائے کہ پاکستان کو قانون کے ذریعے چلانا ہے یا پھر سٹریٹ پاور کے ذریعے۔

بی بی سی کے مطابق سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ وہ حکومت سے پوچھ کر بتائیں کہ کیا ہو اس مقدمے کو چلانا بھی چاہتی ہے یا پھر اس کو بند کر دیا جائے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس مقدمے کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو لاہور طلب کر رکھا ہے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیے کہ طلبی کی ہدایت چیف جسٹس نہیں بلکہ عدالت دیتی ہے اور یہ بھی ایک عدالت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی خواہش پر اس مقدمے کی سماعت کی تاریخ مقرر کی گئی تھی لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ اس سے بڑا اور کون سا مقدمہ ہو سکتا ہے کہ ایک مذہبی اور سیاسی جماعت نے پورے ملک کو بند کر دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل ٹیکسوں سے تنخواہ لیتے ہیں اس لیے اُنھیں عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا۔

سماعت کے دوران عدالت نے پیمرا کے چیئرمین سلیم بیگ سے استفسار کیا کہ گذشتہ سال اس دھرنے کے دوران مختلف ٹی وی چینلز کی نشریات بند ہونے کی بھی شکایات ملی ہیں اور کیا مجاذ حکام نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہے جس پر پیمرا کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ان کو جرمانے کیے گئے ہیں۔

loading...

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر ان کے پاس جرمانوں کی کوئی رسید ہے تو وہ دکھا دیں۔

عدالت نے پیمرا کے چیئرمین سے استفسار کیا کہ کیا میڈیا کو پیمرا کے علاوہ کوئی اور بھی ہدایات دیتا ہے جس کا پیمرا کے چییرمین نے نفی میں جواب دیا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پیمرا کے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے نام بتانے سے کیوں ڈرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ کیا کوئی خفیہ طاقت چینلز کو ہدایات دیتی ہے جس کا چیئرمین پیمرا نے کوئی جواب نہیں دیا۔

جسٹس فائز عیسٰی نے چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ نجی ٹی وی چینلز کو خفیہ ہدایات آ رہی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ایک بڑا آدمی چینل کو بند کروا سکتا ہے چھوٹا تو کروا نہیں سکتا اور بڑے آدمی کے خلاف آپ کارروائی کر ہی نہیں سکتے۔

سماعت کے دوران الیکشن کمیشن اور حساس اداروں کی طرف سے فیض آباد دھرنے سے متعلق رپورٹس جمع کروائی گئیں جنہیں عدالت نے مسترد کر دیا اور متعقلہ حکام کو نئی رپورٹس جمع کروانے کا حکم دیا۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل اور سیکریٹری اطلاعات کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

حساس اداروں کی طرف سے اب تک پانچ سے زائد رپورٹس جمع کروائی جا چکی ہیں جسے سپریم کورٹ مسترد کرچکی ہے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا کہ وہ اس بات پر عدالت کو مطمئن کریں کہ تحریک لبیک پاکستان کو کن بنیادوں پر بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کیا گیا۔

Spread the love
  • 8
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں