سکتہ (مرثیہ نوتصنیف)

سکتہ (مرثیہ نوتصنیف)

زینب قتل ہو گئی ۔ ایسا قتل جس پر انسانیت شرمسار ہے۔
مگر ہم شرمندہ نہیں ۔ سراپا احتجاج ہیں۔
ایسا احتجاج جس نے دو قیمتی جانیں لیں۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچا ۔ تشدد ہوا ،ہنگامہ ہوا،فساد ہوا، مظاہرے ہو ئے ،گاڑیاں نذر آتش ہوئیں، سرکاری ہسپتال پر دھاوا بولا گیا۔ پولیس نااہل اور قاتل۔حکومت مطعون۔

  ہر آنکھ اشکبار ،ہر دل افسردہ ،ہر سینہ فگار ،ہر زبان پر ایک ہی پکار ’’زینب کو انصاف دو ‘‘۔ سوشل میڈیا پر  Justice for Zainab کا ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ۔ الیکٹرونک میڈیا پر الیکٹرونک میڈیا پر Hot Issueقرار پایا۔ کئی دن سے مسلسل لیڈ سٹوری جاری ہے۔
زینب کو انصاف کون دے گا؟ از خود نوٹس لینے والے محترم جناب چیف جسٹس آف پاکستان  لیکن کیسے کب کس طرح، ہے کوئی ایسا قانون جو اس درندے کو فوری طور پر پھانسی دے، حقائق اور شواہد کے بغیر۔ رد الفساد میں ہمہ تن مصروف پاک فوج کے سپہ سالا راعظم  جن کے پاس کلبھوشن کو انصاف دینے کی درخواست فیصلہ کی منتظر ہے ۔ وہ کلبھوشن جس پر تمام الزامات ثابت ہیں ۔ جو زینب جیسی سینکڑوں بچیوں کو خون میں نہلانے کا اعتراف کر چکا۔  ہماری ماؤں ،بہنوں ،بیٹیوں ،بیٹوں ،جوانوں اور بوڑھوں کا قاتل۔ یا پھر خادم اعلیٰ پنجاب جن کی ناک کے نیچے پہلا دوسرا یا تیسرا نہیں مسلسل بارہوان ریپ اور قتل ہوا ۔  اسی شہر قصور میں سینکروں بچے بچیوں کے ساتھ جنسی درندگی کا واقعہ پیش آیا ۔ کسی حاکم کسی منصف کسی سپہ سالار نے کیا کیا ؟

اگر کچھ کیا ہوتا تو زینب اس طرح قتل ہوتی ؟ ایک زینب ہی کیوں ؟ کیا ایمان فاطمہ گیا رہ سالہ ،فوزیہ پانچ سالہ،عائشہ آصف نو سالہ ،لائبہ ،سات سالہ ثناء عمر ،پانچ سالہ کائنات جیسی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی ۔ ہماری بچیاں نہیں تھی ؟مذمتی بیانا ت نمائشی اقدامات اور احتجاج مگر ٹھوس اقدامات کہاں ہیں ؟
مذمتی بیانات دینے والے سیاستدان اپنے محل نما گھروں کے ڈیکوریٹڈڈرائنگ رومز میں بند ہیں۔ شوبز ستارے میک اپ زدہ چہروں پر کالی عینکیں چڑھائے سراپا احتجاج ہیں ۔ کرکٹر سٹارز ٹویٹ پر ٹویٹ کر رہے ہیں۔ کراچی تا خیبر مظاہرے جاری ہیں۔ پورا پاکستان سڑکوں پر ہے ۔ سب کی غیرت جاگ اُٹھی ۔ لیکن ایسے وقت بھی ارض پاک میں وحشت اور درندگی کاکام جاری ہے ریپ اور قتل کی شرح آج کے دن بھی بڑھ رہی ہے ۔ کوئی زینب کے گھر تک پہنچا اور نہ اس کے بعد قتل ہونے والے بچے بچیوں کی مدد کو آیا۔ سب سے زیادہ دہائی میڈیا دے رہا ہے ۔ اخبارات کے صفحات خبروں اور کالموں سے بھرے پڑے ہیں۔الیکٹرونک میڈیا 24 گھنٹے چیخ رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر لعن طعن عروج پر ہے ۔ ہر کوئی اپنا فرض پورا کر رہا ہے۔ وہ فرض جس کا قرض کوئی بھی کبھی بھی ادا نہ کر پایا۔ کرتا بھی کسیے ؟ کہ ہم سب کتنے منافق ہیں، ہر روز اپنے سے کمزورپر ظلم کرتے ہیں مگر کوئی دوسرا کسی پر ظلم کرے تو ظلم ظلم چیخنا شروع کر دیتے ہیں ۔انصاف انصاف کا ماتم کرنے لگتے ہیں ۔ کوئی چیختا ہے۔ آؤ بیٹیاں جلائیں کہ شاید پھر انصاف ہوجائے۔ شکر ہے میری کوئی بیٹی نہیں۔ اگلے جنم مورے بٹیا ناکیجئیو۔ بلھے شاہ کو پکارا جا رہا ہے۔ وے بھلیا اج مر گیا توں تیری قبر تے ناوجن ڈھول  تیرے شہر قصور دے شمراں نے  اج زینب دتی رول۔

مجھ پر سکتہ طاری ہے۔ قصور کی زینب قبر میں جا سوئی۔ قُل پڑھے جا چکے ۔ لیکن ہم اس کی لاش کو رگیدے جا رہے ہیں۔ بار بار پوسٹ مارٹم ہورہا ہے ۔
خدارا! زینب کو انصاف دو، نہ دو لیکن اسے معاف کر دو۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی کوڑے پر پڑی نعش تمہارے پورے معاشرے کو تعفن زدہ کردے اور غلا ظت سے بھری تما م آلائشیں تمہارے چہروں پر مل دے۔ زینب اور شمر کا ذکر کرنے والو
آؤ! تمہیں قصور سے کربلا لے چلوں جہاں قافلہ حسینی لُٹ چکا ۔ اس یزید کے ہاتھوں جو تاقیامت نہ صرف تاریخ میں بلکہ ہر صاحب ایمان کے دل و نگاہ میں ملعون و مطعون ہے۔ کسی نے داستانِ کربلا کا خلاصہ بیا ن کیا تھا۔ ’’یزید تھا ،حسین ہے‘‘ اسی یزید کے کارندے شمر نے حسینیت کا قتل عام کیا، خیموں کو آگ لگائی ، علی اکبر سے لیکر علی اصغر تک کے سروں کو نیزوں پر چڑھایا ، یہاں تک کہ سب مرد مارے جا چکے ، سوائے عابد بیمار کے۔ جنگ میں جو ہوا سو ہوا ۔ زینب کے سر سے چادر اور سکینہ کے کانوں سے بالیاں ضرور نوچی گئیں، لیکن! یزید اور شمر نے اکیلی رہ جانے والے بیبیوں کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالا، ان کی حرمت پامال نہیں کی۔ اور ہم عرض پاک کے ناپاک لوگ ۔ حسین کے نام لیوا۔ یزیدیت کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔ شمر سے بھی آگے بڑھ گئے۔ غالباًثابت کر رہے ہیں ۔ نعوز باللہ ۔استغفراللہ ۔خاکم بدہن کہ ’’یزید ہے، حسین تھا‘‘ یزید منافقت کا دوسرا نام۔ انصاف انصاف کی دہائی دینے والو۔Justice For Zainabکو تجزیوں ،تبصروں اور خبروں کا موضوع بنانے والو۔ تمہارے لئے زینب اور اس کی نعش محض ایک پڑاڈکٹ ہے ،ہاٹ کیک ہے،اس کے سوا کچھ نہیں۔ بیٹیاں جلانے کامژدہ سنانے والو ، بیٹیوں سے بے زاری کا اعلان کرنے والو ۔ بلھے شاہ کو للکارنے والو۔ پڑھو اپنے نبی محمد ﷺ کا اسوہ حسنہ جنہو ں نے فرمایا۔ ’’فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا ،اس نے مجھے ناراض کیا‘‘۔ (حدیث صحیح البخاری) فاطمہ آتی توآقائے دوجہاں تعظیم میں اپنی چادر اس کے لئے بچھا دیتے۔ کھولو حدیث کھولو قرآن جو کہہ رہا ہے۔ ’’جس نے دوبیٹیوں کی اچھی کفالت اور تربیت کی جنت اس پر واجب ہے ‘‘۔ اور تم جیسوں کو وارننگ دے رہا ہے۔ ’’ہر اس شخص کیلئے ہلاکت ہے جو طعنہ زنی کرنے والا ہے اور پس پشت غیبت جوئی کرنے والا ہے۔(سورہ ہمزہ آیت 1)
آؤ! اپنے اپنے گریبان میں جھانکو۔
کیا ہم سب میں کوئی یزید کو ئی شمر تو چھپا نہیں بیٹھا ؟ کربلا اور قصور کی زینب دونوں تم سے بریت چاہتی ہیں ۔
سنو! کربلا سے قصور تک بلکہ کرہ ارض کے کونے کونے میں گونجنے والی آواز حق ۔ اللہ اکبر ۔اللہ اکبر۔ حییٰ علی الفلاح ۔حیی علی الفلاح ۔ وہ آواز جس پر لبیک کہتے ہوئے حسین نے اپنا سر سجدے میں کٹا دیا۔ میں ہوں کہ آواز بلند ہورہی ہے ، مگر رجوح کی توفیق ندارد۔’’سکتہ طاری ہے‘‘۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں