مشکل دورے کیلئے وہاب ریاض کو منتخب کیوں نہ کیا جو یاسر شاہ کی عدم موجودگی میں بہترین چوائس ہوتے :رمیز راجہ،

Wahab Riaz ,Yasir Shah
loading...

کراچی:قومی سلیکشن کمیٹی نے آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دورے کیلئے جو 16رکنی اسکواڈ منتخب کیا ہے اس پر روانگی سے قبل انگلیاں اٹھنے لگی ہیں

سابق قومی کپتان رمیز راجہ نے ٹوئٹر پر اپنے مداحوں کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ انگلینڈ کی سخت کنڈیشنز سے قبل فخر زمان کو پہلے ایشیائی ماحول میں کھیلنے کا موقع دینا چاہئے تھا،سیم فرینڈلی ماحول میں بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کی تیکنیک کافی کمزور ہے جن کوانگلینڈ میں کھلانااچھا آئیڈیا نہیں ہوگا،مشکل دورے کیلئے وہاب ریاض کو کیوں منتخب نہیں کیا جو یاسرشاہ کی عدم موجودگی میں بہترین چوائس ہوتے ،سابق قومی فاسٹ بالر جلال الدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ اور سپن بالنگ کا شعبہ جدوجہد کرے گا۔تفصیلات کے مطابق آئرلینڈ اور انگلینڈ ٹور کیلئے قومی ٹیم کے انتخاب پرانگلیاں اٹھنے لگی ہیں کیونکہ سابق قومی کپتان اور موجودہ کمنٹیٹر رمیز راجہ کا آئرلینڈ اور انگلینڈ کیلئے منتخب اسکواڈ کے بارے میں خیال ہے کہ اس اہم دورے کیلئے پانچ ایسے کھلاڑیوں کو منتخب کرنا حیران کن ہے جنہوں نے ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی ہے جبکہ تین کھلاڑی مجموعی طور پر محض پانچ ٹیسٹ میچز کھیل سکے ہیں۔

واضح رہے کہ سلیکٹرز کے مطابق سلیکٹ کیا ہوا سکواڈ نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا امتزاج ہے لیکن رمیز راجہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتے جنہوں نے سلیکشن کے حوالے سے بعض سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ فخر زمان کو انگلش کنڈیشنز میں اوپننگ بیٹسمین کی حیثیت سے کھلانا اچھا آئیڈیا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ سیمنگ فرینڈلی ماحول میں بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کی تکنیک کافی کمزور ہے جس کا انہیں انگلینڈ میں سامنا کرنا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر فخر زمان کو ٹیسٹ میچوں میں اوپنر کی حیثیت سے کھلانا ہی تھا تو زیادہ بہتر ہوتا کہ انہیں پہلے ایشیائی کنڈیشنز میں کھلانے کی کوشش کی جاتی تاکہ وہ تھوڑا سا تجربہ حاصل کر لیتے۔سابق قومی کپتان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ انجری کے شکار یاسر شاہ کی عدم موجودگی کے باوجود فاسٹ بالر وہاب ریاض کو ڈراپ کیوں کیا گیا کیونکہ دو اہم بالرز کی غیر حاضری میں اب حریف ٹیم کی وکٹیں کون حاصل کرے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سپر لیگ میں متاثر کن کارکردگی کے باوجود وہاب ریاض کو منتخب نہ کرنا حیران کن بات ہے کیونکہ 150کلومیٹرز فی گھنٹہ کی رفتار سے بالنگ کرتے ہوئے وہ بال کو ریورس سوئنگ کرنے میں بھی کامیاب رہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس ٹیم میں یاسر شاہ اور وہاب ریاض دونوں ہی شامل نہ ہوں تو پھر حریف ٹیم کو آوٹ کون کرے گا۔

رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں وہاب ریاض بہترین چوائس ثابت ہوتے لیکن بدقسمتی سے انہیں منتخب ہی نہیں کیا گیا۔سابق قومی ٹیسٹ کرکٹراور ون ڈے کرکٹ میں اولین ہیٹ ٹرک کے خالق فاسٹ بالر جلال الدین کا کہنا تھا کہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دورے میں گرین شرٹس کو ٹاپ آرڈر بیٹنگ اور اسپن بالنگ کے شعبے میں جدوجہد کا سامنا ہوگااور خاص کر انگلینڈ کیخلاف کامیابی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ میچز میں اسپنرز اہم کردار ادا کرتے ہیں تاہم پاکستان کو صرف ایک سپیشلسٹ سپنر شاداب خان کی خدمات حاصل ہوں گی جن پر دباو بڑھ جائے گا جبکہ حارث سہیل اتنے موثر اسپنر نہیں جن سے زیادہ توقعات وابستہ کی جائیں۔جلال الدین کا کہنا تھا کہ قومی ٹاپ آرڈر بیٹنگ میں فخرزمان،امام الحق،سمیع اسلم اور اظہرعلی کو رکھا گیا ہے جن میں سے فخر زمان ٹیسٹ فارمیٹ کے بیٹسمین نہیں ہیں اور سلیکٹرز کو یہ وجہ بتانی چاہئے تھی کہ انہوں نے بائیں ہاتھ کے کھلاڑی کو انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ اسکواڈ میں منتخب کیوں کیا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ ان سے شاید بطور اوپنر تیزی سے پچاس یا ساٹھ رنز کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ایک سوال پر جلال الدین کا کہنا تھا کہ امام الحق کو فواد عالم پر ترجیح دی گئی ہے حالانکہ اگر ریکارڈز پر نظر ڈالی جائے تو دونوں کا کوئی موازنہ نہیں کیونکہ فواد عالم کا تجربہ بھی بہت زیادہ ہے جبکہ ان کی اچھی فیلڈنگ کی اہلیت بھی انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔سابق پیسر کا کہنا تھا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں فواد عالم تسلسل کے ساتھ اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں جن کو انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ سیریز کا حصہ بنانا چاہئے تھا تاہم موجودہ اسکواڈ میں پیس بیٹری موثرنظر آرہی ہے کیونکہ محمد عامر کے علاوہ محمد عباس اور حسن علی سے بھی اچھی توقعات وابستہ ہیں کہ وہ انگلش کنڈیشنز میں بہترین بالنگ کر سکیں گے۔جلال الدین کا مزید کہنا تھا کہ انگلش کنڈیشنز میں پاکستانی بیٹنگ لائن مشکلات سے دوچار رہے گی لہٰذا آئرلینڈ کیخلاف تو واحد ٹیسٹ جیتنے کی امید ہے تاہم انگلینڈ کیخلاف کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں