طالبان سے براہ راست مذاکرات کریں گے، امریکہ

روس کو سابق امریکی سفیر سے تفتیش کی اجازت نہیں دی جائے گی، مائیک پومپیو
loading...

امریکا کی افغان پالیسی میں بڑی تبدیلی، افغان طالبان سے امریکا براہ راست مذاکرات کرے گا

واشنگٹن: افغانستان کی طویل ترین خانہ جنگی ختم کرانے کے لیےصدر ٹرمپ نے امریکی سفارتی وفود کو احکامات جاری کردیے، افغانستان میں اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن نے بھی خبر کی تصدیق کردی ہے۔

مغربی میڈیا کی معلومات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے طالبان سے براہ راست مذاکرات نہ کرنے کا اپنا دیرینہ مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے سفارتکاروں سے کہنا ہے کہ وہ 17 سالہ یہ تنازع ختم کرانے کے لیے طالبان سے براہ راست ابتدائی بات چیت کی کوشش کریں۔

ادھرافغانستان میں اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے قیامِ امن کا عمل آگے بڑھے گا

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پالیسی میں یہ تبدیلی وائٹ ہاؤس میں افغان پالیسی کے حوالے سے پھیلی مایوسی کی عکاس ہے اور طالبان کی جانب سے رویے میں نرمی ظاہر کرتی ہے۔

یاد رہے کہ طالبان نے گزشتہ ماہ امریکا سے براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا۔

Spread the love

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کی سینیٹر شپ عبوری طور پرمعطل کردی

اپنا تبصرہ بھیجیں