سورة مریم میں چھپے سائنسی معجزے کا اعتراف

سورة مریم

1400 سال پہلے قرآن پاک کی سورة مریم میں زچگی کے متعلق بتائے گئے طریقہ کار آج ہسپتالوں میں رائج ہونے لگے…

قرآن پاک کی سورة مریم میں ایک حیرت انگیز سائنسی معجزہ موجود ہے۔ جس کا سائنس نے اعتراف کر لیا کہ بچے کو جنم دینا کوئی آسان بات نہیں ایک ماں جب بچے کو جنم دیتی ہے تو انتہائی تکلیف دہ مرحلہ سے گزرتی ہے ۔
جب حضرت مریم حاملہ تھیں اور اس تکلیف سے گزر رہیں تھیں تو تب اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں انہیں حکم دیا کہ وہ پانی کی ایک ندی کے قریب جائیں ۔
اب آپ ان سائنسی معجزوں کو دھیان سے سنیں ۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ وہ پانی والی ندی کے پاس جائیں اور پھر کھجور کے درخت کے پاس رکیں اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت دی کہ وہ کھجور کے درخت کے پاس تنے کے ساتھ رکیں اور پریشان نا ہوں پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر کھجوریں گرائیں ۔
بہت سے لوگ پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کھجور کے درخت ، پانی کی ندی اور کھجوروں کے بارے میں ہی کیوں کہا ؟
اللہ تعالیٰ نے سادہ الفاظ میں یہ کیوں نا بتایا کہ حضرت عیسی کو جنم دیں اور بس ۔
یہ ساری ہدایات کیوں ۔؟
اب یہ ایک معجزہ ہے پہلی بات :
اللہ تعالیٰ نے انہیں کھجور کے درخت کے بارے میں بتایا ۔
اب حال ہی میں کچھ ہسپتال ایسے ہیں جو بتاتے ہیں کہ بچے کی پیدائش کے سلسلے میں ماں کو یہ چیزیں استعمال کرنی چاہیئیں ۔ اسے خود کو آرام دینا چاہیئے تاکہ اسے پٹھوں کی تکلیف سے آرام ملے ۔
پھر الله تعالیٰ نے انہیں پانی سے ٹھنڈا رکھا اور آج کے جدید ہسپتال بتاتے ہیں کہ حاملہ عورت کو بچے کی پیدائش کے وقت ٹھنڈے پانی میں بیٹھنا چاہئے تاکہ اسے پیدائش میں مدد ملے ۔
پھر الله پاک نے ان کو قرآن میں بتایا کہ جب وہ پانی میں رہیں گی تو انہیں تکلیف سے آرام ملے گا ۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ کھجوروں کا استعمال جاری رکھیں ۔
اب یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ الله تعالٰی نے انہیں کھجوریں کھانے کے لیئے ہی کیوں کہا ۔
تو یہ اس لیئے کہا کیونکہ کھجوروں سےشیرینی بھی آسانی سے حاصل ہو جاتی ہے اور اس سے حرارت اور حرکت پیدا ہوتی ہے اور پھلوں کی غذائیت والی یہ شوگر بلڈ پریشر ٹھیک کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے ۔
کتنی حیران کن بات ہے کہ یہ برتھ پین کے جو طریقے آج ہسپتالوں میں رائج ہیں وہ الله تعالیٰ نے 1400 ( چودہ سو ) سال پہلے ہی ہمیں قرآن پاک میں بتا دیئے تھے ۔
زونیرہ شبیر

Spread the love
  • 2
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں