“پرائز بانڈز” بیچنا حلال۔۔۔ مگر انعام “حرام”۔

پرائز بانڈ مسلسل انعامی رقم حاصل کرنے کا آسان اور سرکاری فارمولا ہے، اس کی خرید و فروخت کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آئیں۔

پاکستان میں پرائز بانڈ کے دو سائیکل (چھوٹا ، بڑا) ہیں، دونوں تین تین ماہ کے ہیں، پہلے یعنی چھوٹے سائیکل میں 100 ، 200 اور 750 روپے والے انعامی بانڈ آتے ہیں جن کی قرعہ اندازی بالترتیب پہلے، دوسرے، تیسرے مہینے میں ہوتی ہے چوتھے ماہ کے آخر میں 100 والے بانڈ کی قرعہ اندازی کا دوبارہ انعقاد کیا جاتا ہے۔
دوسرے سائیکل کا آغاز 1500 سے ہوتا ہے اس کی قرعہ اندازی بھی تین ماہ بعد ہوتی ہے۔
کوئی بھی خواہش مند صارف اسٹیٹ بینک سے اپنی خواہش اور استطاعت کے مطابق انعامی بانڈ خریدتا ہے، انہیں اس کے نمبر دیے جاتے ہیں اور پھر قرعہ اندازی میں ان ہی کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے۔
پہلے، دوسرے، تیسرے نمبر والوں کے لیے زیادہ انعامی رقم ہوتی ہے، جیتنے والے امیدوار اپنی رقم ٹیکس ادائیگی کے بعد اسٹیٹ بینک سے حاصل کرتا ہے۔
انعامی بانڈ کی خرید و فروخت کے حوالے سے لوگوں کے ذہنوں میں ابہام پایا جاتا ہے۔وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا یہ کاروبار جائز یا نہیں؟
نجی ٹی وی کے پروگرام میں ایک کالر نے مفتی اکمل کے سامنے سوال رکھا کہ ’میں گزشتہ 30 ، 35 سال سے پرائز بانڈ خرید رہا ہوں اور پھر قرعہ اندازی سے کچھ روز قبل انہیں مہنگے داموں فروخت کردیتا ہوں، کیا یہ کاروبار جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کی رقم سے حج ہوسکتا ہے؟۔
اس سوال کے جواب میں مفتی اکمل کا کہنا تھا کہ ’ہم پرائز بانڈ کے جواز پر فتویٰ دیتے ہیں اور ہمارے نزدیک یہ کاروبار بالکل جائز ہے کیونکہ یہ مالِ تجارت ہے‘۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ بالکل ویسی ہے کہ ’کچھ لوگ مخصوص سیزن سے پہلے کچھ مخصوص چیزیں خرید کر اسٹاک کرلیتے ہیں اور پھر عید بقرہ عید پر اُسے دگنے منافعے کے ساتھ فروخت کیا جاتا ہے، اگر ان اشیاء کی عوامی ضرورت نہ ہو تو یہ اقدام ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں ہوتا‘۔
مفتی اکمل کا کہنا تھا کہ ’پرائز بانڈ کے معاملے پر علماء کا اختلاف ہے کیونکہ کچھ اسے ناجائز بھی کہتے ہیں، لہذا آپ کے حج کے سوال کی وجہ سے مشورہ یہ ہے کہ اسے حلال اور طیب پیسوں سے کریں جیسے کسی سے قرض حاصل کریں اور پھر اُسے پرائز بانڈ سے حاصل ہونے والی رقم سے لوٹا دیں‘۔

Spread the love
  • 4
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں