روس نے امریکی صدارتی انتخابات میں کوئی مداخلت نہیں کی، روسی صدر

روسی صدر ولادی میر پوتین

ماسکو:پیر کو فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسنکی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سربراہ ملاقات کے بعد مغربی میڈیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں روسی صدر ولادی میر پوتین کافی ناراض نظر آئے۔

 انٹرویو کے وڈیو کلپ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ پوتین کو اس بات پر شدید غصّہ ہے کہ امریکی جیوری نے روسی ایجنٹوں کو امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی کوشش کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے پوتین نے باور کرایا کہ روس نے امریکی صدارتی انتخابات میں کوئی مداخلت نہیں کی۔

انٹرویو کے دوران ایک موقع پر میزبان نے اپنے سوال کے بیچ پوتین کو روسی ایجنٹوں پر عائد کیے جانے والے امریکی الزامات کی فہرست پیش کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تاہم پوتین انتہائی ناخوش نظر آئے اور انہوں نے حرکت کیے بغیر میزبان کو سرد مہری کے ساتھ بول دیا کہ وہ ان کاغذات کو ساتھ موجود میز پر رکھ دیں۔مذکورہ الزامات کی فہرست میں روس کے 12 جاسوسوں کے نام ہیں۔ یہ فہرست ٹرمپ اور پوتین کے درمیان سربراہ ملاقات سے چند گھنٹے پہلے جاری ہوئی۔

تقریبا 35 منٹ جاری رہنے والے انٹرویو میں روسی صدر نے باور کرایا کہ وہ ایسی کوئی معلومات نہیں رکھتے جو ٹرمپ اور ان کے خاندان کے لیے بلیک میلنگ کا ذریعہ ثابت ہو۔انٹرویو کے دوران میزبان نے پوتین پر کافی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تاہم روسی صدر نے دوٹوک موقف اختیار کیا۔ ایک موقع پر پوتین نے کہا کہ صبر کریں، امریکی امور میں مداخلت کے حوالے سے آپ کو سوال کا مکمل جواب مل جائے گا۔پوتین نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ واقعی ایسا سمجھتے ہیں کہ روس کی سرزمین پر موجود کوئی شخص امریکا پر اور کروڑوں امریکیوں کے انتخاب پر اثرا انداز ہو سکتا ہے ؟ یہ مکمل طور پر ایک مضحکہ خیز بات ہے۔

مزید پڑھیں۔  امریکی سفارتکار کی گاڑی کی ٹکر سے 2 موٹر سائیکل سوار زخمی، موٹر سائیکل سواروں اور امریکی سفارتخانے کے سیکیورٹی افسر کے خلاف مقدمہ درج
Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں