پاک بھارت تعلقات براستہ افغانستان

پاک بھارت تعلقات

ایک سینئر امریکی سفارتکار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کا جلد افغانستان سے رابطہ کرنا اس خواہش کا اظہار ہے کہ وہ زمینی راستے کے ذریعے افغانستان اور بھارت کے درمیان دوبارہ تجارت بحال کرنے کا خواہاں ہے۔

گزشتہ روز امریکی سفیر جوہن باس نے بھارتی نشریاتی ادارے اکنامک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی اور وسطی ایشیاء کے درمیان زمینی راستہ دوبارہ کھلنے سے خطے کے تمام ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔ جوہن باس کا کہنا تھا کہ کچھ ماہ قبل پہلی مرتبہ پاکستانی حکومت نے اپنے زمینی راستے کے ذریعے بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے اپنے افغان ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

افغانستان کے لیے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ بھارتی کمپنیاں افغانستان میں آہستہ آہستہ اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں۔ افغانستان میں سیاسی استحکام پاکستان کے طویل ترین مفاد میں ہے اور دونوں سمتوں میں بڑھتی ہوئی تجارت سے وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء میں تعلقات بہتر ہوں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے زمینی راستے کے ذریعے افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارت بحال کرنے پر مذاکرات کے آغاز پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

پاکستان کی طرف سے بھارت کو 2015ء سے منجمد زمینی راستے سے تجارت کی بحالی کے لیے مذاکرات کی پیشکش تو براہ راست پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کرچکے ہیں۔ لیکن اکتوبر 2017ء میں میں کابل ہی کے توسط سے کی جانے والی اس پیشکش کو بھارتی حکام نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ زبانی باتوں پر بین الملکی سفارتی بات چیت شروع نہیں ہو سکتی۔ تاہم اب لگتا ہے کہ ایران اور بھارت کے حوالے سے دو مختلف قسم کی امریکی پریشانیوں کے سبب پاکستان کی سنگین سفارتی مشکلات کے حل کا کوئی امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

دونوں ہمسایہ ملکوں کے باہمی تعلقات کا سرا ایک طرف طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ پاکستان کے رویہ سے جڑا ہے تو دوسرا سرا بھارت کے ساتھ تعلقات کی نوعیت سے جا ملتا ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں اپنے اہداف پورے کرنے کے لیے جنگ اور سفارت کاری کے علاوہ افغانستان میں بھارت کو سرگرمی سے متحرک ہونے اور سفارتی، معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت میں نریندر مودی کی حکومت نے افغان قیادت کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے بھاری بھرکم سرمایہ کاری کی اور متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے۔ اس کے علاوہ بھارت کا نجی شعبہ بھی مسلسل افغانستان میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔

اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کا انتقام لینے کے لیے بلوچستان میں علیحدگی پسند قوم پرست گروہوں کی مالی اور سفارتی سرپرستی کا بیڑا اٹھایا اور افغان سرزمین کو پاکستان میں تخریب کاری کے مقاصد سے استعمال کرنا شروع کیا۔

اسی کا نتیجہ تھا کہ جو دہشت گرد عناصر 2014ء اور 2015ء کے دوران آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے فرار ہوکر افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ بھارت نے ان کو آلہ کار بناتے ہوئے پاکستان کی فوج اور عوام کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا۔

اس پس منظر میں دو دیگر عوامل بھی اہم رہے ہیں۔ ایک تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال جولائی میں افغانستان کے بارے میں نئی امریکی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان کے کردار پر سخت تنقید کی اور اسلام آباد کا رویہ تبدیل نہ ہونے کی صورت میں سخت نتائج کی دھمکی دی۔ پاکستان کو اس دھمکی سے زیادہ اس بات کا افسوس رہا ہے کہ ٹرمپ نے جس سانس میں پاکستان کو ح ف تنقید بنایا اسی سانس میں بھارت کو علاقے کی بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے افغانستان میں اس کے کردار کو اہم قرار دیا۔

پاکستان کے لیے اس علاقے اور خاص طور سے افغانستان میں بھارت کی بالادستی قابل قبول نہیں۔ اسی لیے پاکستان کی طرف سے امریکی دھمکیوں کا جواب بھی نپاتُلا رہا اور پاک فوج کے سربراہ نے واضح کیا کہ پاکستان کو امریکی امداد کی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کے احترام کی ضرورت ہے۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد سے مسلسل بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے کے اشارے دیے ہیں اور کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے مسائل جنگ سے حل نہیں ہو سکتے۔ اسی حکمت عملی کے نتیجے میں افغان صدر اشرف غنی کے ذریعے بھارت کو یہ پیغام پہنچایا گیا تھا کہ پاکستان زمینی راستے سے بھارت کا تجارتی اسباب افغانستان بھیجنے کے معاملہ پر بات کے لیے تیار ہے۔

اس حوالے سے 2015ء میں افغانستان پاکستان ٹرانزٹ معاہدہ (اپٹا) کی مدت پوری ہونے کے بعد خشکی کے پاکستانی راستے سے بھارتی مصنوعات کی ترسیل میں مشکلات حائل ہونا شروع ہوگئی تھیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور سرد مہری کی وجہ سے پاکستان نے بھارت کو کراچی کی بندرگاہ کے ذریعے مال افغانستان پہنچانے کی پیش کش کی تھی اور واہگہ کا راستہ جو کہ مختصر اور سستا متبادل تھا اس مقصد کے لیے بند کردیا گیا۔

پاکستان میں اس منصوبے کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ بھارت اس منصوبے کے ذریعے سی پیک معاہدے کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے کیوںکہ اس کے تحت گوادر کی بندر گاہ کو اس علاقے میں مواصلات اور باربرداری کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ تاہم بھارت دراصل ایرانی بندرگاہ پر تصرف حاصل کر کے افغانستان تک متبادل تجارتی راستہ حاصل کرنے کا خواہشمند تھا۔

بھارت نے اس منصوبے پر تیزی سے کام شروع کیا اور گزشتہ برس اکتوبر میں بھارتی اجناس چاہ بہار کے ذریعے افغانستان روانہ کی جانے لگیں۔ اب ایران کو تنہا کرنے اور زیر بار رکھنے کے لیے سفارتی اور مالی دباؤ میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کی وجہ سے بھارت کے لیے دو بڑے مسئلے پیدا ہو چکے ہیں۔ بھارت ایران کے تیل کا بڑا خریدار ہے اور ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے بھارت پر دباؤ ہے کہ وہ یہ تجارت بند کرے۔ دوسرا مسئلہ چاہ بہار کے ذریعے کاروبار جاری رکھنے سے متعلق ہے ۔ یہ منصوبہ ٹھپ ہونے سے افغانستان کے لیے بھارت کا متبادل راستے کا خواب پورا ہونے سے پہلے ہی منتشر ہورہا ہے۔

امریکہ براہِ راست پاکستان کو کوئی سہولت دینے پر آمادہ نہیں کیوں کہ اسے پاکستان کی افغان پالیسی پر شدید تحفظات ہیں لیکن وہ بھارت کی مدد کرنے اور ایران کا معاشی بائیکاٹ مؤثر بنانے کے لیے بھارت کو پاکستان سے بات چیت پر آمادہ ضرور کرسکتا ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں