سانحہ کارساز کو 11 سال بیت گئے

سانحہ کارساز

سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو 11 سال قبل آج کے دن 8 برس کی جلا وطنی کے بعد وطن واپس آئی تھیں تو کراچی کے عوام کی بڑی تعداد اُن کے بھرپور استقبال کے لیے پہنچ گئی۔

استقبالی جلوس کراچی کے علاقے کارساز پر پہنچا ہی تھا کہ 2 دھماکوں نے 170 افراد کی جان لے لی اور 600 سے زائد افراد اس دن زخمی ہوئے۔

پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن اور سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کئی سال کی جلا وطنی کے بعد 18 اکتوبر 2007 کو کراچی ائرپورٹ پہنچیں جہاں عوام کے ٹھاٹھے مارتے سمندر نے ان کا استقبال کیا۔

پیپلزپارٹی کے جیالے ملک بھر سے اپنی قائد کے استقبال اور ایک جھلک دیکھنے کے لیے کراچی پہنچے۔ جہاز سے باہر آتے ہی بے نظیر بھٹو نے عوام کا سمندر دیکھا تو خود بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور ان کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔

loading...

 وزیر اعظم کا استقبالی جلوس چند کلومیٹر کا راستہ گھنٹوں میں طے کر کے جب شارع فیصل پر کارساز کے مقام پر پہنچا تو بینظیر بھٹو کے بلٹ پروف ٹرک کے قریب 2 زور دار دھماکے ہوئے جس میں وہ تو محفوظ رہیں لیکن کارکنوں سمیت 177 افراد جاں بحق جبکہ 600 سے زائد زخمی ہوگئے۔

بعد از پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو مالی امداد کے ساتھ سرکاری ملازمتیں اور مفت رہائشی فلیٹس بھی دئیے گئے۔

اس واقعے کی 2 ایف آئی آرز درج ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود ملزمان ابھی تک نہیں پکڑے جا سکے ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں