سی پیک کے خلاف امریکی اور بھارتی پراپیگنڈا مسترد

سی پیک

چینی حکومت نے سی پیک کے خلاف بھارت اور امریکی قیادت اور میڈیا کے منفی پراپیگنڈا کو مسترد کرتے ہوئے اسکے مقابلے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات کمیونسٹ پارٹی کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور سٹیٹ کونسل انفارمیشن ایم ایس سی نے پاکستانی سینئر ایڈیٹرز اور ٹی وی اینکرز کے وفد سے ملاقات میں کہی۔ انہوں نے کہا سی پیک کا ہر قیمت پر دفاع کرینگے۔ مزید راہداریوں کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔

ایم ایس شی پنچون نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے دونوں ممالک کے عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں۔ اس میگا پراجیکٹ کو کوئی بھی نقصان پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ منفی پراپیگنڈا اور مہم سے نمٹنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ نقصان دہ تاثر کو ختم کرنے کے لیے عوام میں شعور اجاگر کیا جائے گا۔ پاکستان اور چین دوستی کے بندھن میں بندھے ہیں۔ پاکستان کو قابل بھروسہ سٹرٹیجک پارٹنر سمجھتے ہیں۔

ملک میں زبوں حال معیشت کی بحالی کے لیے تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف کے ناپسندیدہ قرضے کے حصول سمیت بلاشبہ متعدد ضروری اقدامات کر رہی ہے لیکن ان کوششوں کے بار آور ہونے میں کئی منفی عوامل بھی حائل ہیں جن کے اثرات عملی طور پر ہر سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان عوامل میں دوسری باتوں کے علاوہ بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی، تجارتی خسارہ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی، اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تحفظات اور حکومت کی جانب سے گیس کے بعد بجلی کے نرخوں میں متوقع اضافہ سرفہرست ہیں۔

سوموار کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ جو کافی عرصہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار تھی، ایک بار پھر کریش کر گئی جس سے انڈیکس 36768 کی کم ترین سطح پر آگیا اور سرمایہ کاروں کے سوا کھرب روپے ڈوب گئے۔ پونے تین سو کے قریب کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں کم ہوئیں۔ ایک ہی روز میں 133 لاکھ ڈالر کا آؤٹ فلو ہوا اور ڈالر تقریباً ڈیڑھ روپیہ مزید مہنگا ہو گیا۔

ادھر حکومت نے قومی اقتصادی کونسل میں بجلی پونے چار روپے مہنگی کرنے کی سمری پیش کی ہے۔ منظوری کی صورت میں نئے نرخوں پر عملدرآمد کروانے کی صورت میں صارفین سے تقریباً 4 کھرب روپے ماہانہ وصول کیے جائیں گے۔ سمری کے مطابق زرعی صارفین کے لیے اضافہ نہیں کیا جائے گا اور صنعتی شعبے کے لیے بھی 3 روپے فی یونٹ سپورٹ پیکیج جاری رہے گا جو برآمدات میں اضافے کے لیے ایک مستحسن اقدام ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ گھریلو صارفین پر بوجھ بڑھ جائے گا۔

پاور سیکٹر میں گردشی قرضوں کا حجم 12 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے جو بجلی کے نرخوں میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ چین نے جو سی پیک منصوبوں میں 50 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، نہ صرف کرپشن کے خاتمے میں پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے بلکہ آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول میں بھی مدد دینے کا یقین دلایا ہے۔

بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سی پیک کو پاکستان کی معاشی خرابی کا ذمہ دار قرار دینے کے امریکی دعوے کو غلط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کا معاشی بحران چینی قرضے کی وجہ سے نہیں کیونکہ یہ قرضہ اتنا زیادہ نہیں اور آئی ایم کے قرضے سے پاک چین تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ چین ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور موجودہ معاشی بحران میں بھی اس کی جانب سے مثبت پیغام پاک چین دوستی کے لازوال ہونے کی علامت ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ دوست ممالک کی امداد اور بین الاقوامی مالی اداروں کی معاونت سے پاکستان پر معاشی ابتری کا یہ دور کتنا عرصہ جاری رہے گا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ مشکلات کا یہ عرصہ ڈیڑھ دو سال میں ختم ہو جائے گا اور 5 سال بعد لوگ پوچھیں گے کہ پاکستان کی معیشت اتنی بہتر کیسے ہوئی اس پس منظر میں معاشی تجزیہ کار پرامید ہیں کہ ملک جلد اقتصادی مشکلات سے باہر آجائے گا تاہم اس کے لیے قوم کو چھوٹی بڑی قربانیاں ضرور دینا ہوں گی۔ جس کے لیے اسے تیار رہنا چاہیئے۔

حکومت کو بھی مشکل فیصلے کرنے میں عام آدمی کے مفادات کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، حکومتی اقدامات کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا جس سے غریب اور متوسط طبقے میں بے چینی پھیل سکتی ہے اور انہیں مطمئن کرنے کے لیے یہ دلیل کافی نہیں ہوگی کہ معیشت کا بیڑا تو پچھلی حکومت نے غرق کیا۔ پچھلی حکومت نے جو کچھ کیا عوام عام انتخابات میں اس پر اپنا ردعمل ظاہر کر چکے ہیں اب مستقبل کی بات ہونی چاہیئے اور اسی کے بارے میں سوچنا چاہئیے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں