دو طلباء نے اپنے دادا دادی کی راکھ کوکیز میں پکا کر ہم جماعتوں کو کھلا دی

راکھ

عام طور پر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی راکھ سمندر یا دریا میں بہا دی جائے۔

کچھ لوگ راکھ کو ہوا میں اڑانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں لیکن شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس کے مرنے کے بعد کوئی اس کی راکھ کو کوکیز میں پکا کر کسی کو کھلا بھی جا سکتا ہے۔

ڈیوس، کیلفورنیا کی پولیس آج کل ایسے ہی ایک انوکھے کیس کی تفتیش کر رہی ہے۔ ایک ہائی سکول کے دو طلباء نے اپنے دادا داری کی راکھ کو کوکیز میں پکایا اور اس کے بعد یہ کوکیز اپنے ہم جماعتوں میں تقسیم کر دی۔

loading...

حکام کے مطابق ڈاونچی چارٹر اکیڈمی کے تقریباً 9 طلباء نے ان کوکیز کو کھایا۔ ڈیوس پولیس لیفٹینٹ پاؤل ڈوروشو کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے میریجوانا اور دیگر منشیات کے کوکیز میں ملانے کا سنا تھا لیکن انسانی راکھ کو کوکیز میں ملانے کا کیس کبھی سامنے نہیں آیا۔

پولیس اب دو طلباء سے تفتیش کر رہی ہے۔ اگر طلباء کی واقعے میں شمولیت ثابت ہوگئی تو پولیس کیس کو کیسے آگے بڑھائے گی۔ لیفٹینٹ  پاؤل کا کہنا ہے کہ  یہ کیس کافی غیر روایتی ہے۔ اس کے لیے انہیں مزید تحقیق کرنا پڑے گی۔

اگرچہ انسانی راکھ کا کھانا کافی عجیب و غریب لگتا ہے لیکن 2013 میں ایک واقعہ ایسا سامنے آ چکا ہے، جس میں ایک خاتون تقریبا ہر روز ہی اپنے شوہر کی راکھ کو کھاتی تھیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں