“ہمارے محلے میں بیس روپے پر لڑکا مل جاتا ہے اور سو ڈیڑھ سو میں عورت”

زینب

زینب کے ایک وارث نے پولیس ٹیم کے ساتھ مل کر زینب کے قاتل کی حتمی شناخت کے لیے عمران علی سے سوال جواب کیے تھے۔ اس وارث نے صحافی احمد اعجاز کو اس انٹرویو کی مندرجہ ذیل تفصیل بتائیں۔

وارث: تم نے فلاں بچی (بچی کا نام یہاں نہیں دیا جا رہا) کو کہاں سے اُٹھایا تھا؟
عمران علی: جب بچی دودھ کی شاپ پرگئی تو اُس کے پیچھے گیا۔

وارث: تم بچی کو کیا کہہ کر اپنے ساتھ لے گئے؟ یا بچی تمہارے ساتھ کیوں گئی تھی؟
عمران علی: کہا، بیٹا تم نے چاول کھانے ہیں؟ بچی نے کہا، ہاں انکل۔ کہا، ہمارے گھر چاول تقسیم ہو رہے ہیں اور ساتھ بیس روپے بھی ملیں گے۔ تم چلو میرے ساتھ۔ بچی چلنے پر راضی ہوگئی۔ کہا، میرے پیچھے آجاؤ، ہمارا گھر یہاں سے تھوڑادُور ہے۔ مَیں آگے چل پڑا، بچی پیچھے چل پڑی۔

وارث: بچی نے کس رنگ کے جوتے پہن رکھے تھے اور جوتے کیسے تھے؟ (واضح رہے، بچی نے جوتے نہیں پہن رکھے تھے۔ وارث کے مطابق ہم نے یہ بات پولیس کو نہیں بتائی تھی۔

عمران علی: اُس نے جوتے نہیں پہن رکھے تھے۔

وارث: بچی کس زبان میں بات کررہی تھی؟ ( بچی کو اُردوکے علاوہ اور کوئی زبان نہ آتی تھی۔ ماں باپ پنجابی تھے، بیٹی کے ساتھ اُردو میں بات کرتے، بچی پنجابی میں بات نہ کرسکتی تھی۔ ہم نے یہ بات بھی پولیس کو نہیں بتائی تھی۔ یا یوں سمجھیں کہ پولیس اور تفتیش کرنے والوں کو اس بات کا علم نہ تھا)۔

عمران علی: بچی اُردو میں بات کررہی تھی۔

وارث: تم اُسے کہاں لے کر گئے؟

عمران علی: حاجی پارک کے ایک زیرِ تعمیر مکان میں۔ یہ بچی کے گھر سے کئی گلیاں چھوڑ کر آتا ہے۔ (وہ بچی کو ایسی گلیوں سے لے کر گیا جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں تھے۔ اگر وہ اُن گلیوں کی جگہ متبادل گلیوں سے گزرتا تو وہاں کئی گھروں، ایک سکول اور ایک دُکان کے سامنے کیمرے نصب تھے۔ وہ اتفاقی طور پر ایسی گلیوں سے گزرا جہاں کیمرے نہیں تھے)

وارث: تم نے بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا؟

عمران علی: وہ شور کر رہی تھی، مَیں نے گلا دبا دیا۔

وارث: اُس کے بعد تم کہاں گئے؟

عمران علی: اُس کے بعد رکشے پر بیٹھ کر گھر آگیا۔

وارث: تم ایسا کیوں کرتے تھے؟

loading...

عمران علی: جب چھوٹا تھا، میرا ایک قریبی رشتہ دار(اُس نے بتایا کہ کون رشتہ دار، مگر یہاں نام اور رشتہ درج نہیں کیا جا رہا) میرے ساتھ جب جی چاہتا، زیادتی کرتا۔ مَیں جب بڑا ہوا تو دو قریبی رشتہ دار خواتین کے ساتھ، اُن کی مرضی سے زیادتی کرنے لگ گیا۔ پھر میرے تعلقات، اُس خاتون کے ساتھ بنے جو میری اُس رشتہ دار جو میرے ساتھ زیادتی کرتا تھا، کی بیوی تھی۔ پھر مَیں نے اُن کے بچے کے ساتھ زیادتی کی۔ ہمارے محلے میں بیس روپے پر لڑکا مل جاتا ہے اور سو ڈیڑھ سو میں عورت۔

وارث: تم کم سن بچیوں کو ہی ہوس کا نشانہ کیوں بناتے رہے ہو؟

عمران علی: میرا ایک اُستاد کہتا کہ چھوٹی عمر کی بچیوں کے ساتھ برائی کرنی چاہیئے کیونکہ —

وارث: تم کب سے چھوٹی بچیوں کا شکار کر رہے ہو؟

عمران علی: دو ہزار پندرہ میں پہلی بار چھوٹی بچی کو نشانہ بنایا۔ وہاں ایک بندے نے مجھے پکڑ لیا۔ مَیں بھاگ گیا، میری جوتی وہاں رہ گئی۔

وارث: کیا تمہارے گھر والوں کو معلوم پڑ گیا تھا کہ تم ہی قاتل ہو۔ جب اُنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی تھی؟

عمران علی: میرے چھوٹے بھائی نے پہچان لیا تھا۔ اُس نے گھر والوں کے سامنے بتا دیا۔ مگر مَیں دو دن انکاری رہا، یہ کہتا رہا کہ کیمرے میں آنے والا میرا ہم شکل ہے۔ دو دن بعد ماں کو بتایا۔ ماں نے میری ٹوپی اور جیکٹ اُتروا کر گھر میں چھپا دی اور دوسری چیزیں پہننے کو دیں۔ چچا نے بھی مجھے پہچان لیا تھا۔ چچا نے کہا کہ اس کو پکڑوا دیتے ہیں۔ ہم سب غریب لوگ ہیں۔ ایک کروڑ روپے ملیں گے تو ہمارے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ میرے دوسرے عزیز بھی یہی کہہ رہے تھے مگر ماں ایسا نہیں چاہتی تھی۔ پھر ایک دِن محلے میں ڈی این اے والے آگئے۔ مسجد میں اعلان ہوا، محلے کے تمام نوجوان آکر ٹیسٹ کروائیں۔ ماں نے کہا کہ ٹیسٹ کروا کر تم پاکپتن اپنے عزیزوں کے ہاں چلے جاؤ۔ (وارث کے مطابق اُس کی ماں اور عمران علی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ ٹیسٹ کیا ہوتا ہے؟ اور اس پر کوئی پکڑا بھی جاسکتا ہے) ٹیسٹ کروایا اور پاکپتن چلا گیا۔ پھر واپس آگیا۔ ماں نے مجھے چار دن گھر سے باہر نکلنے نہ دیا۔

(وارث کے مطابق جب ہماری ملاقات عمران علی سے کروائی گئی تو تفتیشی ٹیم نے کہا کہ تم اُس کے سامنے بچیوں کے وارث بن کر مت جاؤ۔ بلکہ عمران علی کو کہا گیا کہ یہ تحقیق کرنے والی ٹیم کے ارکان ہیں۔ کسی اور جگہ سے آئے ہیں۔ تم سے جو بھی پوچھیں سچ سچ بتانا، اگر سوالوں کے جوابات ٹھیک دیے تو تم کو رعایت ملے گی۔ پھر ہم اُس کو تفتیش کاروں کے طور پر ملے۔ اُسی طرح سوال و جواب کیے۔ اُس نے ستر فیصد سوالوں کے جواب ٹھیک دیے۔ اُس کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے بلکہ پورا جسم ہی کانپ رہا تھا۔ سخت گھبرایا ہواتھا۔ ہر دوسری بات پر “سر” کا لفظ استعمال کرتا، کہتا مجھے معاف کردیں، دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔ وہ جس طریقے سے اپنے حالات بتارہا تھا، محسوس ہوتا تھا کہ اُس کے نزدیک بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل، کوئی گھناؤنا عمل نہیں)۔

بشکریہ: ہم سب ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے

Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں