میمو گیٹ اسکینڈل: حسین حقانی کی گرفتاری کے لیے ایف آئی اے نے انٹرپول سے رابطہ کر لیا

میمو گیٹ اسکینڈل

سپریم کورٹ میں میموگیٹ اسکینڈل کی سماعت کے دوران عدالتی معاون نے بتایا کہ حسین حقانی کے معاملے پر ایف آئی اے نے انٹرپول سے رابطہ کرلیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے میموگیٹ اسکینڈل کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران عدالتی معاون احمر بلال صوفی نے عدالت کو بتایا کہ حسین حقانی کے خلاف ایف آئی اے نے اسپیشل کورٹ میں چالان جمع کرا دیا، ایف آئی اے نے انٹر پول سے رابطہ کر لیا ہے، حسین حقانی کے دائمی وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

احمر بلال صوفی نے کہا کہ نیب نے ایف آئی اے کو اختیار تفویض کر دیا ہے، آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ جمع کرا دیں گے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں جانے سے پہلے اس کام کو نمٹا کر جانا چاہتا ہوں۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

میمو گیٹ اسکینڈل کیا ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں اُس وقت امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی کا ایک مبینہ خط (میمو) سامنے آیا تھا۔

loading...

حسین حقانی کی جانب سے بھیجے جانے والے میمو میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا تھا کہ ایبٹ آباد میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی حملے کے بعد ممکن ہے کہ پاکستان میں فوجی بغاوت ہو جائے۔

میمو گیٹ میں اُس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت کے لیے امریکہ سے معاونت مانگی گئی تھی تاکہ حکومت ملٹری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو قابو میں رکھ سکے۔

اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا جس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ مذکورہ میمو درست ہے اور اسے امریکہ میں تعینات سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔

کمیشن نے کہا تھا کہ میمو لکھنے کا مقصد امریکی حکام کو اس بات پر قائل کرنا تھا کہ پاکستان کی سول حکومت امریکہ کی حامی ہے۔

اس معاملے کو اُس وقت کے اپوزیشن لیڈر نواز شریف سپریم کورٹ میں لے کر گئے تھے جس کے بعد حکومت نے حسین حقانی سے استعفیٰ لے لیا تھا اور وہ تب سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں