خود کو زندہ دفن کرنے والے شخص کا حال کیا ہوا ؟ ویڈیو دیکھیں

زندہ دفن

خدا کے طور پر دوبارہ زندہ ہونے کے لیے ایک گڑھے میں زندہ دفن ہونے والے بھارتی شخص کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ اس شخص کو 8 گھنٹے بعد گڑھے سے نکالا گیا۔

تانترک (تانتر شاسترکا جاننے والا، جادو ٹونا کرنے والا) دیراج کھرول راجھستان کے بھلوارا ضلع کے ایک گاؤں کے مندر میں رہتے ہیں۔
پچھلے ہفتے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ “سمادھی” (نجات) کے حصول کے لیے مذہبی رسم ادا کرتے ہوئے خود کو زندہ دفن کریں گے اور پھر تین دن بعد خدا کے طور پر دوبارہ ظہور پذیر ہوں گے۔

دیراج کے اس فیصلے پر گاؤں والوں نے انہیں روکنے کی بجائے ان کے ساتھ خوشیاں منانی شروع کر دیں۔
گاؤں والوں نے دیراج کو اپنی ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ گاؤں والوں نے دیراج کے زندہ دفن ہونے کے لیے مندر کے نزدیک گڑھا بھی کھود دیا۔

نوراتری (ہندو تہوار) کے پہلے دن گاؤں والوں نے دیراج کی ہدایات کے مطابق انہیں گڑھے میں دفن کر دیا۔

اس موقع پر قریبی دیہاتوں سے بھی لوگ جمع ہوگئے۔ دیراج کو گڑھے میں اتارنے کے بعد گاؤں والوں نے گڑھے کو کنکریٹ کی سلوں سے ڈھانپ دیا اور ان سلوں پر گارا لیپ دی۔ اس کے بعد گاؤں والے گڑھے کے پاس پوجا کرنے لگے۔
دیراج کی خوش قسمتی کہ ان کے زندہ دفن کیے جانے کی خبر تیزی سے علاقے میں پھیل گئی اور مقامی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو بھی اس کے بارے میں پتا چل گیا۔ ایچ ایس او فوراً اپنی ٹیم کے ساتھ مندر کے پاس موجود گڑھے پر پہنچے۔

آفیسر مان سنگھ دیو اور ان کے ساتھیوں نے رات 2 بجے دیراج کو گڑھے سے نکالا۔ اس دوران انہیں گاؤں والوں کی مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
پولیس نے پہلے گاؤں کے بڑوں کو قائل کیا کہ زندہ دفن ہونے سے دیراج سانس رکنے سے مر جائے گا، جس کے بعد انہیں گڑھا کھولنےکی اجازت دی گئی۔

دیراج کو جب گڑھے سے نکالا گیا تو وہ بمشکل ہی ہوش میں تھے۔ انہیں قریبی صحت کے مرکز پہنچایا گیا، جہاں ان کی حالت اب کافی بہتر ہے۔
انہوں نے پولیس کو بتایا کہ سمادھی کی رسم ادا کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا۔ گاؤں نے والوں نے ان کی مدد کی تھی، اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔
پولیس نے دیراج اور گاؤں والوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مقدمہ میں دونوں پر واضح الزامات عائد نہیں کیے گئے۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں