بانجھ

فوبھا بائی

میری اور اُس کی ملاقات آج سے ٹھیک دو برس پہلے اپولو بندر پر ہُوئی شام کا وقت تھا۔ سورج کی آخری کرنیں سمندر کی اُن دراز لہروں کے پیچھے غائب ہو چکی تھی۔ جو ساحل کے بنچ پر بیٹھ کر دیکھنے سے موٹے کپڑے کی تہیں معلوم ہوتی تھیں۔ میں گیٹ آف انڈیا کے اس طرف پہلا بنچ چھوڑ کر جس پر ایک آدمی چمپی والے سے اپنے سر کی مالش کرا رہا تھا۔ دوسرے بنچ پر بیٹھا تھا۔ اور حدِ نظر تک پھیلے ہوئے سمندر کو دیکھ رہا تھا۔ دور بہت دُور جہاں سمندر اور آسمان گھل مل رہے تھے۔ بڑی بڑی لہریں آہستہ آہستہ اُٹھ رہی تھیں۔

اور ایسا معلوم ہوتا تھا۔ کہ بہت بڑا گدلے رنگ کا قالین ہے۔ جسے ادھر سے اُدھر سمیٹا جا رہا ہے۔ ساحل کے سب قمقمے روشن تھے جن کا عکس کنارے کے لرزاں پانی پر کپکپاتی ہوئی موٹی لکیروں کی صورت میں جگہ جگہ رینگ رہا تھا۔

میرے پاس پتھریلی دیوار کے نیچے کئی کشتیوں کے لپٹے ہوئے بادبان اور بانس ہولے ہولے حرکت کر رہے تھے۔ سمندر کی لہریں اور تماشائیوں کی آواز ایک گنگناہٹ بن کر فضا میں گھلی ہُوئی تھی۔ کبھی کبھی کسی آنے یا جانے والی موٹر کے ہارن کی آواز بلند ہوتی اور یوں معلوم ہوتا کہ بڑی دلچسپ کہانی سننے کے دوران میں کسی نے زور سے

’’ہوں‘‘

کی ہے۔ ایسے ماحول میں سگریٹ پینے کا بہت مزہ آتا ہے میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر سگریٹ کی ڈبیا نکالی۔ مگر ماچس نہ ملی۔ جانے کہاں بھول آیا تھا۔ سگریٹ کی ڈبیا واپس جیب میں رکھنا ہی والا تھا۔ کہ پاس سے کسی نے کہا۔

’’ماچس لیجیے گا۔ ‘‘

میں نے مڑ کر دیکھا۔ بنچ کے پیچھے ایک نوجوان کھڑا تھا۔ یوں تو بمبئی کے عام باشندوں کا رنگ زرد ہوتا ہے۔ لیکن اس کا چہرہ خوفناک طور پر زرد تھا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔

’’آپ کی بڑی عنایت ہے۔ ‘‘

اُس نے جواب دیا۔ آپ سگریٹ سلگا لیجیے۔ مجھے جانا ہے‘‘

مزید پڑھیں: ایکٹریس کی آنکھ

مجھے ایسا محسوس ہُوا کہ اُس نے جھوٹ بولا ہے۔ کیونکہ اس کے لہجے سے اس بات کا پتہ چلتا تھا کہ اُسے کوئی جلدی نہیں ہے اور نہ اسے کہیں جانا ہے۔ آپ کہیں گے کہ لہجے سے ایسی باتوں کا کس طرح پتہ چل سکتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس وقت ایسا محسوس ہوا چنانچہ میں نے ایک بار پھر کہا۔

’’ایسی جلدی کیا ہے۔۔۔۔۔۔ تشریف رکھیے۔ اور یہ کہہ کر میں نے سگریٹ کی ڈبیا اس کی طرف بڑھا دی۔ شوق فرمائیے۔ ‘‘

اُس نے سگریٹ کی چھاپ کی طرف دیکھا۔ اور جواب دیا۔ شکریہ، میں صرف برانڈ پیا کرتا ہوں۔ ‘‘

آپ مانیں نہ مانیں۔ مگر میں قسمیہ کہتا ہوں کہ اس بار اُس نے پھر چھوٹ بولا۔ اس مرتبہ پھر اُس کے لہجے نے چغلی کھائی۔ اور مجھے اس سے دلچسپی پیدا ہو گئی۔ اس لیے کہ میں نے اپنے دل میں قصد کر لیا تھا۔ کہ اسے ضرور اپنے پاس بٹھاؤں گا۔ اور اپنا سگریٹ پلواؤں گا۔ میرے خیال کے مطابق اس میں مشکل کی کوئی بات ہی نہ تھی۔ کیونکہ اس کے دو جملوں ہی نے مجھے بتا دیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے۔ اُس کا جی چاہتا ہے کہ میرے پاس بیٹھے اور سگریٹ پیے۔ لیکن بیک وقت اُس کے دل میں یہ خیال بھی پیدا ہوا تھا کہ میرے پاس نہ بیٹھے اور میرا سگریٹ نہ پیے چنانچہ ہاں اور نہ کا یہ تصادم اُس کے لہجے میں صاف طور پر مجھے نظر آیا تھا۔ آپ یقین جانیے کہ اس کا وجود بھی ہونے اور نہ ہونے کے بیچ میں لٹکا ہوا تھا۔ اُس کا چہرہ جیساکہ میں بیان کر چکا ہوں بے حد پیلا تھا۔ اس پر اُس کی ناک آنکھوں اور منہ کے خطوط اس قدر مدھم تھے جیسے کسی نے تصویر بنائی ہے اور اس کو پانی سے دھو ڈالا ہے۔

کبھی کبھی اس کی طرف دیکھتے دیکھتے اس کے ہونٹ اُبھر سے آتے لیکن پھر راکھ میں لپٹی ہوئی چنگاری کے مانند سو جاتے۔ اس کے چہرے کے دوسرے خطوط کا بھی یہی حال تھا۔ آنکھیں گدلے پانی کی دو بڑی بڑی بوندیں تھیں جن پر اس کی چھوری پلکیں جھُکی ہوئی تھیں۔ بال کالے تھے۔ مگر اُن کی سیاہی جلے ہوئے کاغذ کے مانند تھی جن میں بھوسلا پن ہوتا ہے۔ قریب سے دیکھنے پر اُس کی ناک کا صحیح نقشہ معلوم ہو سکتا تھا۔ مگر دور سے دیکھنے پر وہ بالکل چپٹی معلوم ہوتی تھی۔ کیونکہ جیسا کہ میں اس سے پیشتر بیان کر چکا ہوں۔

اُس کے چہرے کے خطوط بالکل ہی مدھم تھے۔ اس کا قد عام لوگوں جتنا تھا۔ یعنی نہ چھوٹا نہ بڑا۔ البتہ جب وہ ایک خاص انداز سے یعنی اپنی کمر کی ہڈی کو ڈھیلا چھوڑ کے کھڑا ہوتا۔ تو اس کے قد میں نمایاں فرق پیدا ہو جاتا۔ اس طرح جب کہ وہ ایک دم کھڑا ہوتا۔ تو اُس کا قد جسم کے مقابلے میں بہت بڑا دکھائی دیتا۔ کپڑے اُس کے خستہ حالت میں تھے۔ لیکن میلے نہیں تھے۔ کوٹ کی آستینوں کے آخری حصّے کثرتِ استعمال کے باعث گھِس گئے تھے اور پھُوسڑے نکل آئے تھے۔ کالر کھلا تھا۔ اور قمیض بس ایک اور دھلائی کی مار تھی۔ مگر ان کپڑوں میں بھی وہ خود کو ایک باوقار انداز میں پیش کرنے کی سعی کر رہا تھا۔ میں نے سعی کر رہا تھا! اس لیے کہا۔ کیونکہ جب میں نے اس کی طرف دیکھا تھا۔ تو اس کے سارے وجود میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اور مجھے ایسا معلوم ہوا تھا۔ کہ وہ اپنے آپ کو میری نگاہوں سے اوجھل رکھنا چاہتا ہے۔ میں اُٹھ کھڑا ہوا اور سگریٹ سلگا کر اس کی طرف ڈبیا بڑھا دی۔

’’شوق فرمائیے۔ ‘‘

یہ میں نے کچھ اس طریقے سے کہا۔ اور فوراً ماچس سُلگا کر اس انداز سے پیش کی کہ وہ سب کچھ بھول گیا۔ اُس نے ڈبیا میں سے سگریٹ نکال کر منہ میں دبا لیا۔ اور اُسے سلگا کر پینا بھی شروع کر دیا۔ لیکن ایکا ایکی اُسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اور منہ میں سے سگریٹ نکال کر مصنوعی کھانسی کے آثار حلق میں پیدا کرتے ہُوئے اُس نے کہا۔

’’کیو نڈر مجھے راس نہیں آتے ان کا تمباکو بہت تیز ہے۔ میرے گلے میں فوراً خراشیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ‘‘

میں نے اس سے پوچھا۔

’’آپ کون سے سگریٹ پسند کرتے ہیں؟‘‘

اُس نے تتلا کر جواب دیا۔

’’میں ۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔ دراصل سگریٹ بہت کم پیتا ہوں۔ کیونکہ ڈاکٹر اروکر نے منع کر رکھا ہے۔ ویسے میں تھری فالُو پیتا ہوں جن کا تمباکو تیز نہیں ہوتا۔ اس نے جس ڈاکٹر کا نام لیا۔ وہ بمبئی کا بہت بڑا ڈاکٹر ہے۔ اس کی فیس دس روپے ہے۔ اور جن سگریٹوں کا اس نے حوالہ دیا۔ اس کے متعلق آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ بہت مہنگے داموں پر ملتے ہیں۔ اس نے ایک ہی سانس میں دو جھوٹ بولے۔ جو مجھے ہضم نہ ہوئے۔ مگر میں خاموش رہا۔ حالانکہ سچ عرض کرتا ہوں۔ اُس وقت میرے دل میں یہی خواہش چٹکیاں لے رہی تھی۔ کہ اس کا غلاف اتار دوں اور اس کی دروغ گوئی کو بے نقاب کر دوں۔ اور اسے کچھ اس طرح شرمندہ کروں کہ وہ مجھ سے معافی مانگے۔ مگر میں نے جب اُس کی طرف دیکھا تو اس فیصلے پر پہنچا کہ اس نے جو کچھ کہا ہے اس کا جزو بن کر رہ گیا ہے۔ جھوٹ بول کرچہرے پر جو ایک سُرخی سی دوڑ جایا کرتی ہے۔

مجھے نظر نہ آئی بلکہ میں نے یہ دیکھا کہ وہ جو کچھ کہہ چکا ہے۔ اس کو حقیقت سمجھتا ہے۔ اُس کے جھوٹ میں اس قدر اخلاص تھا۔ یعنی اس نے اتنے پُرخلوص طریقے پر جھوٹ بولا تھا۔ کہ اس کی میزانِ احساس میں ہلکی سی جنبش بھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ خیر اس قصّے کو چھوڑیے۔ ایسی باریکیاں میں آپ کو بتانے لگوں تو صفحوں کے صفحے کالے ہو جائیں گے۔ اور افسانہ بہت خشک ہو جائے گا۔ تھوڑی سی رسمی گفتگو کے بعد میں نے اس کو راہ پر لگایا۔ اور ایک اور سگریٹ پیش کرکے سمندر کے دلفریب منظر کی بات چھیڑ دی۔ چونکہ افسانہ نگار ہوں۔ اس لیے کچھ اس دلچسپ طریقے پر اُسے سمندر، اپولُوبندر اور وہاں آنے جانے والے تماشائیوں کے بارے میں چند باتیں سنائیں۔ کہ چھ سگریٹ پینے پر بھی اُس کے حلق میں خرخراہٹ پیدا نہ ہوئی۔ اس نے میرا نام پوچھا۔ میں نے بتایا تو وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔

’’آپ مسٹر۔۔۔۔۔۔۔ ہیں۔۔۔۔۔۔ میں آپ کے کئی افسانے پڑھ چکا ہوں۔ مجھے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے معلوم نہ تھا۔ کہ آپ۔ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے واللہ بہت خوشی ہوئی ہے۔ ‘‘

میں نے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہا۔ مگر اُس نے اپنی بات شروع کر دی۔۔۔۔۔۔۔

’’ہاں خوب یاد آیا ابھی حال ہی میں آپ کا ایک افسانہ میں نے پڑھا ہے۔۔۔۔۔۔ عنوان بھول گیاہوں۔۔۔۔۔۔۔ اس میں آپ نے ایک لڑکی پیش کی ہے۔ جو کسی مرد سے محبت کرتی تھی۔ مگر وہ اُسے دھوکہ دے گیا۔ اسی لڑکی سے ایک اور مرد بھی محبت کرتا تھا۔ جو افسانہ سناتا ہے جب اس کو لڑکی کی افتاد کا پتہ چلتا ہے۔ تو وہ اس سے ملتا ہے اور اس سے کہتا ہے۔ زندہ رہو۔۔۔۔۔۔۔ ان چند گھڑیوں کی یاد میں اپنی زندگی کی بنیادیں کھڑی کرو۔ جو تم نے اس کی محبت میں گزاری ہیں۔ اُس مسّرت کی یاد میں جو تم نے چند لمحات کے لیے حاصل کی تھی‘‘

۔۔۔۔۔۔ مجھے اصل عبارت یاد نہیں رہی۔ لیکن مجھے بتائیے۔ کیا ایسا ممکن ہے۔۔۔۔۔ ممکن کو چھوڑیے۔ آپ یہ بتائیے کہ وہ آدمی آپ تو نہیں تھے؟ ۔۔۔۔۔۔ مگر کیا آپ ہی نے اس سے کوٹھے پر ملاقات کی تھی اور اس کی تھکی ہوئی جوانی کو اُونگھتی ہوئی چاندنی میں چھوڑ کر نیچے اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے آئے تھے۔۔۔۔۔۔‘‘

یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم ٹھہر گیا۔

’’مگر مجھے ایسی باتیں نہیں پوچھنی چاہئیں۔ اپنے دل کا حال کون بتاتا ہے۔ ‘‘

اس پر میں نے کہا۔

’’میں آپ کو بتاؤں گا۔ لیکن پہلی ملاقات میں سب کچھ پوچھ لینا۔ اور سب کچھ بتا دینا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘

وہ جوش جو گفتگو کرتے وقت اس کے اندر پیدا ہو گیا تھا۔ ایک دم ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔

’’آپ کا فرمانا بالکل درست ہے مگر کیا پتہ ہے کہ آپ سے پھر کبھی ملاقات نہ ہو۔ ‘‘

اس پر میں نے کہا۔

’’اس میں شک نہیں بمبئی بہت بڑا شہر ہے لیکن ہماری ایک نہیں بہت سی ملاقاتیں ہو سکتی ہیں بیکار آدمی ہوں یعنی افسانہ نگار۔۔۔۔۔۔۔ شام کو ہر روز اسی وقت بشرطیکہ بیمار نہ ہو جاؤں آپ مجھے ہمیشہ اسی جگہ پر پائیں گے۔ یہاں بے شمار لڑکیاں سیر کو آتی ہیں۔ اور میں اس لیے آتا ہوں کہ خود کو کسی کی محبت میں گرفتار کر سکوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت بُری چیز نہیں ہے!‘‘

’’محبت۔۔۔۔۔۔ محبت۔۔۔۔۔۔ ! اُس نے اس سے آگے کچھ کہنا چاہا۔ مگر نہ کہہ سکا۔ اور جلتی ہوئی رسّی کی طرح آخری بل کھا کر خاموش ہو گیا۔ میں نے از راہِ مذاق اُس سے محبت کا ذکر کیا تھا۔ دراصل اس وقت فضا ایسی دلفریب تھی۔ کہ اگر کسی عورت پر عاشق ہو جاتا تو مجھے افسوس نہ ہوتا جب دونوں وقت آپس میں مل رہے ہوں۔ نیم تاریکی میں بجلی کے قمقمے قطار اندر قطار آنکھیں جھپکنا شروع کر دیں۔ ہوا میں خنکی پیدا ہو جائے اور فضا پر ایک افسانوی کیفیت سی چھا جائے تو کسی اجنبی عورت کی قربت کی ضرورت محسوس ہوا کرتی ہے۔

ایک ایسی جس کا احساس تحت شعور میں چھپا رہتا ہے۔ خدا معلوم اُس نے کس افسانے کے متعلق مجھ سے پوچھا تھا۔ مجھے اپنے سب افسانے یاد نہیں۔ اور خاص طور پر وہ تو بالکل یاد نہیں جو رومانی ہیں۔ میں اپنی زندگی میں بہت کم عورتوں سے ملا ہوں۔ وہ افسانے جو میں نے عورتوں کے متعلق لکھے ہیں۔ یا تو کسی خاص ضرورت کے ماتحت لکھے گئے ہیں۔ یا محض دماغی عیاشی کے لیے میرے ایسے افسانوں میں چونکہ خلوص نہیں ہے۔ اس لیے میں نے کبھی اُن کے متعلق غور نہیں کیا۔ ایک خاص طبقے کی عورتیں میری نظر سے گزر ی ہیں۔ اور ان کے متعلق میں نے چند افسانے لکھے ہیں۔ مگر وہ رومان نہیں ہیں۔ اُس نے جس افسانے کا ذکر کیا تھا۔ وہ یقیناًکوئی ادنیٰ درجے کا رومان تھا۔ جو میں نے اپنے چند جذبات کی پیاس بجھانے کے لیے لکھا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن میں نے تو اپنا افسانہ بیان کرنا شروع کر دیا۔ ہاں تو جب وہ محبت کہہ کر خاموش ہو گیا۔ تو میرے دل میں خواہش پیدا ہُوئی کہ محبت کے بارے میں کچھ اور کہوں۔ چنانچہ میں نے کہنا شروع کیا۔

’’محبت کی یُوں تو بہت سی قسمیں ہمارے باپ دادا بیان کر گئے ہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں۔ کہ محبت خواہ ملتان میں ہو یا سائبیریا کے یخ بستہ میدانوں میں۔ سردیوں میں پیدا ہو یا گرمیوں میں، امیر کے دل میں پیدا ہو یا غریب کے دل میں۔۔۔۔۔۔۔ محبت خوبصورت کرے یا بدصورت بدکردار کرے یا نیکوکار۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت محبت ہی رہتی ہے۔ اس میں کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا جس طرح بچے پیدا ہونے کی صورت ہمیشہ ہی ایک سی چلی آرہی ہے۔ اسی طرح محبت کی پیدائش بھی ایک ہی طریقے پر ہوتی ہے۔ یہ جُدا بات ہے کہ سعیدہ بیگم ہسپتال میں بچہ جنے اور راجکماری جنگل میں۔ غلام محمدؐ کے دل میں بھنگن محبت پیدا کر دے، اور نٹور لال کے دل میں کوئی رانی جس طرح بعض بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں اور کمزور رہتے ہیں۔ اسی طرح وہ محبت بھی کمزور رہتی ہے جو وقت سے پہلے جنم لے بعض دفعہ بچے بڑی تکلیف سے پیدا ہوتے ہیں بعض دفعہ محبت بھی بڑی تکلیف دے کر پیدا ہوتی ہے۔ جس طرح عورتوں کا حمل گر جاتا ہے۔

اسی طرح محبت بھی گر جاتی ہے بعض دفعہ بانجھ پن پیدا ہو جاتا ہے۔ ادھر بھی آپ کو ایسے آدمی نظر آئیں گے جو محبت کرنے کے معاملہ میں بانجھ ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ محبت کرنے کی خواہش اُن کے دل سے ہمیشہ کے لیے مٹ جاتی ہے، یا ان کے اندر وہ جذبہ ہی نہیں رہتا، نہیں، یہ خواہش اُن کے دل میں موجود ہوتی ہے۔ مگر وہ اس قابل نہیں رہتے کہ محبت کر سکیں۔ جس طرح عورت اپنے جسمانی نقائص کے باعث بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتی۔ اسی طرح یہ لوگ چند روحانی نقائص کی وجہ سے کسی کے دل میں محبت پیدا کرنے کی قوت نہیں رکھتے۔۔۔۔۔۔ محبت کا اسقاط بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔‘‘

مجھے اپنی گفتگو دلچسپ معلوم ہو رہی تھی۔ چنانچہ میں اس کی طرف دیکھے بغیر لیکچر دیے جا رہا تھا۔ لیکن جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا۔ تو وہ سمندر کے اُس پار خلا میں دیکھ رہا تھا۔ اور اپنے خیالات میں گم تھا میں خاموش ہو گیا۔ جب دُور سے کسی موٹر کا ہارن بجا تو وہ چونکا اور خالی الذہن ہو کر کہنے لگا۔

’’جی۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے بالکل درست فرمایا ہے!‘‘

میرے جی میں آئی۔ کہ اس سے پوچھوں۔۔۔۔۔۔ درست فرمایا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو چھوڑیے آپ یہ بتائیے کہ میں نے کیا کہا ہے؟‘‘

لیکن میں خاموش رہا۔ اور اس کو موقع دیا کہ اپنے وزنی خیالات دماغ سے جھٹک دے۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔ اس کے بعد اُس نے پھر کہا۔

’’آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ خیر چھوڑئیے اس قصّے کو۔ ‘‘

مجھے اپنی گفتگو بہت اچھی معلوم ہوئی تھی۔ میں چاہتا تھا۔ کہ کوئی میری باتیں سُنتا چلا جائے۔ چنانچہ میں نے پھر سے کہنا شروع کیا۔

’’تو میں عرض کر رہا تھا کہ بعض آدمی بھی محبت کے معاملے میں بانجھ ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے دل میں محبت کرنے کی خواہش تو موجود ہوتی ہے لیکن ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بانجھ پن کا باعث روحانی نقائص ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘

اس کا رنگ اور بھی زرد پڑ گیا جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ یہ تبدیلی اُس کے اندر اتبی جلدی پیدا ہوئی کہ میں نے گھبرا کر اُس سے پوچھا۔

’’خیریت تو ہے۔۔۔۔۔ آپ بیمار ہیں۔ ‘‘

’’نہیں تو۔ نہیں تو‘‘

اُس کی پریشانی اور بھی زیادہ ہو گئی۔

’’مجھے کوئی بیماری و یماری نہیں ہے۔ لیکن آپ نے کیسے سمجھ لیا کہ میں بیمار ہوں۔ ‘‘

میں نے جواب دیا۔ اس وقت آپ کو جو کوئی بھی دیکھے گا۔ یہی کہے گا۔ کہ آپ بہت بیمار ہیں۔ آپ کا رنگ خوفناک طور پر زرد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے آپ کو گھر چلے جانا چاہیے۔ آئیے میں آپ کو چھوڑ آؤں۔ ‘‘

’’نہیں میں چلا جاؤں گا۔ مگر میں بیمار نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔ کبھی کبھی میرے دل میں معمولی سا درد پیدا ہو جایا کرتا ہے۔ شاید وہی ہو۔۔۔۔۔ میں ابھی ٹھیک ہو جاؤں گا آپ اپنی گفتگو جاری رکھیے۔ ‘‘

میں تھوڑی دیر خاموش رہا۔ کیونکہ وہ ایسی حالت میں نہیں تھا کہ میری بات غور سے سُن سکتا۔ لیکن جب اُس نے اصرار کیا۔ تو میں نے کہنا شروع کیا۔

’’میں آپ سے یہ پوچھ رہا تھا کہ ان لوگوں کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے جو محبت کرنے کے معاملے میں بانجھ ہوتے ہیں۔۔۔۔ میں ایسے آدمیوں کے جذبات اور اُن کی اندرونی کیفیات کا اندازہ نہیں کر سکتا۔ لیکن جب میں اس بانجھ عورت کا تصور کرتا ہوں۔ جو صرف ایک بیٹی یا بیٹا حاصل کرنے کے لیے دعائیں مانگتی ہے۔ خدا کے حضور میں گڑگڑاتی ہے اور جب وہاں سے کچھ نہیں ملتا تو ٹونے ٹوٹکوں میں اپنا گوہر مقصود ڈھونڈتی ہے۔ شمشانوں سے راکھ لاتی ہے کئی کئی راتیں جاگ کر سادھوؤں کے بتائے ہوئے منتر پڑھتی ہے۔ منتیں مانتی ہے۔ چڑھاوے چڑھاتی ہے۔ تو میں خیال کرتا ہوں کہ اس آدمی کی بھی یہی حالت ہوتی ہو گی۔ جو محبت کے معاملے میں بانجھ ہو۔۔۔۔۔۔ ایسے لوگ واقعی ہمدردی کے قابل ہیں۔ مجھے اندھوں پر اتنا رحم نہیں آتا جتنا ان لوگوں پر آتا ہے‘‘

اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اور وہ تھوک نگل کر دفعتہ اُٹھ کھڑا ہُوا۔ اور پرلی طرف منہ کر کے کہنے لگا۔

’’اوہ بہت دیر ہو گئی۔ مجھے ضروری کام کے لیے جانا تھا یہاں باتوں باتوں میں کتنا وقت گزر گیا‘‘

میں بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہ پلٹا اور جلدی سے میرا ہاتھ دبا کر لیکن میری طرف دیکھے بغیر اُس نے

’’اب رخصت چاہتاہوا‘‘

کہا اور چل دیا۔ ۔ دوسری مرتبہ اس سے میری ملاقات پھر اپولوبندر ہی پر ہوئی۔ میں سیر کا عادی نہیں ہوں۔ مگر اس زمانے میں ہر شام اپولوبندر پر جانا میرا دستور ہو گیا تھا۔ ایک مہینے کے بعد جب مجھے آگرہ کے ایک شاعر نے ایک لمبا چوڑا خط لکھا جس میں اُس نے نہایت ہی حریصا نہ طور پر اپولوبندر اور وہاں جمع ہونے والی پریوں کا ذکر کیا۔ اور مجھے اس لحاظ سے بہت خوش قسمت کہا۔ کہ میں بمبئی میں ہوں۔ تو اپالوبندر سے میری دلچسپی ہمیشہ کے لیے فنا ہو گئی۔ اب جب کبھی کوئی مجھے اپولوبندر جانے کو کہتا ہے تو مجھے آگرے کے شاعر کا خط یاد آجاتا ہے اور میری طبیعت متلا جاتی ہے۔ لیکن میں اُس زمانے کا ذکر کر رہا ہوں۔ جب خط مجھے نہیں ملا تھا۔ اور میں ہر روز جاکر شام کو اپولوبندر کے اس بنچ پر بیٹھا کرتا تھا۔ جس کے اُس طرف کئی آدمی چمپی والوں سے اپنی کھوپڑیوں کی مرمت کراتے رہتے ہیں۔ دن پوری طرح ڈھل چکا تھا۔ اور اُجالے کا کوئی نشان باقی نہیں رہا تھا۔ اکتوبر کی گرمی میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔ ہوا چل رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ تھکے ہوئے مسافر کی طرح۔ سیر کرنے والوں کا ہجوم زیادہ تھا۔ میرے پیچھے موٹریں ہی موٹریں کھڑی تھیں۔ بنچ بھی سب کے سب پُر تھے۔ جہاں بیٹھا کرتا تھا۔ وہاں دو باتونی ایک گجراتی اور ایک پارسی نہ جانے کب کے جمے ہُوئے تھے۔ دونوں گجراتی بولتے تھے۔ مگر مختلف لب و لہجہ سے۔

پارسی کی آواز میں دو سُر تھے۔ وہ کبھی باریک سُر میں بات کرتا تھا کبھی موٹے سُر میں۔ جب دونوں تیزی سے بولنا شروع کر دیتے۔ تو ایسا معلوم ہوتا جیسے طوطے مینا کی لڑائی ہو رہی ہے۔ میں ان کی لامتناہی گفتگو سے تنگ آکر اُٹھا اور ٹہلنے کی خاطر تاج محل ہوٹل کا رُخ کرنے ہی والا تھا کہ سامنے سے مجھے وہ آتا دکھائی دیا۔ مجھے اس کا نام معلوم نہیں تھا۔ اس لیے میں اسے پکار نہ سکا۔ لیکن جب اُس نے مجھے دیکھا۔ تو اس کی نگاہیں ساکن ہو گئیں۔ جیسے اُسے وہ چیز مل گئی ہو جس کی اُسے تلاش تھی۔ کوئی بنچ خالی نہیں تھا۔ اس لیے میں نے اس سے کہا۔

’’آپ سے بہت دیر کے بعد ملاقات ہوئی۔۔۔۔۔ چلیے سامنے ریستوران میں بیٹھتے ہیں۔ یہاں کوئی بنچ خالی نہیں۔ ‘‘

اُس نے رسمی طور پر چند باتیں کیں اور میرے ساتھ ہو لیا۔ چند گزوں کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ہم دونوں ریستوران میں بید کی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ چائے کا آرڈر دیکر میں نے اس کی طرف سگرٹوں کا ٹین بڑھا دیا۔ اتفاق کی بات ہے۔ میں نے اسی روز دس روپے دے کر ڈاکٹر ارولکر سے مشورہ لیا تھا۔ اور اس نے مجھ سے کہا تھا کہ اوّل تو سگریٹ پینا ہی موقوف کر دو۔ اور اگر تم ایسا نہیں کر سکتے۔ تو اچھے سگریٹ پیا کرو۔ مثال کے طور پر پانچ سو پچپن۔۔۔۔۔۔ چنانچہ میں نے ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق یہ ٹین اُسی شام خریدا تھا۔ اُس نے ڈبے کی طرف غور سے دیکھا۔ پھر میری طرف نگاہیں اٹھائیں، کچھ کہنا چاہا مگر خاموش رہا۔ میں ہنس پڑا۔

’’آپ یہ نہ سمجھیے گا۔ کہ میں نے آپ کے کہنے پر یہ سگریٹ پینا شروع کیے ہیں۔۔۔۔۔۔ اتفاق کی بات ہے۔ کہ آج مجھے بھی ڈاکٹر ارولکر کے پاس جانا پڑا۔ کیونکہ کچھ دنوں سے میرے سینے میں درد ہو رہا ہے چنانچہ اس نے مجھ سے کہا کہ یہ سگریٹ پیا کرو لیکن بہت کم۔۔۔۔۔۔‘‘

میں نے یہ کہتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور محسوس کیا کہ اس کو میری یہ باتیں ناگوار معلوم ہوئی ہیں۔ چنانچہ میں نے فوراً جیب سے وہ نسخہ نکالا۔ جو ڈاکٹر ارولکر نے مجھے لکھ کر دیا تھا۔ یہ کاغذ میز پر میں نے اس کے سامنے رکھ دیا۔

’’یہ عبارت مجھ سے پڑھی تو نہیں جاتی۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے وٹامن کا سارا خاندان اس نسخے میں جمع کر دیا ہے۔ ‘‘

اُس کاغذ کو جس پر اُبھرے ہُوے کالے حروف میں ڈاکٹر ارولکر کا نام اور پتہ مندرج تھا اور تاریخ بھی لکھی ہوئی تھی۔ اُس نے چورنگاہوں سے دیکھا اور وہ اضطراب جو اس کے چہرے پر پیدا ہو گیا تھا فوراً دُور ہو گیا۔ چنانچہ اس نے مُسکرا کر کہا‘‘

کیا وجہ ہے کہ اکثر لکھنے والوں کے اندر وٹامنز ختم ہو جاتی ہیں؟‘‘

’’میں نے جواب دیا۔ اس لیے کہ انھیں کھانے کو کافی نہیں ملتا۔ کام زیادہ کرتے ہیں۔ لیکن اُجرت بہت کم ملتی ہے‘‘

اس کے بعد چائے آگئی اور دوسری باتیں شروع ہو گئیں۔ پہلی ملاقات اور اس ملاقات میں غالباً ڈھائی مہینے کا فاصلہ تھا۔ اس کے چہرے کا رنگ پہلے سے زیادہ پیلا تھا۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پیدا ہو رہے تھے۔ اُسے غالباً کوئی تکلیف تھی جس کا احساس اُسے ہر وقت رہتا تھا۔ کیونکہ باتیں کرتے کرتے بعض اوقات وہ ٹھہر جاتا۔ اور اس کے ہونٹوں میں سے غیر ارادی طور پر آہ نکل جاتی۔ اگر ہنسنے کی کوشش بھی کرتا۔ تو اس کے ہونٹوں میں زندگی پیدا نہیں ہوتی تھی۔ میں نے یہ کیفیت دیکھ کر اس سے اچانک طور پر پوچھا۔

loading...

’’آپ اداس کیوں ہیں؟‘‘

’’اُداس۔۔۔۔۔ اُداس‘‘

ایک پھیکی سی مسکراہٹ جو ان مرنے والوں کے لبوں پر پیدا ہوا کرتی ہے جو ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ موت سے خائف نہیں۔ اُس کے ہونٹوں پر پھیلی۔ میں اُداس نہیں ہوں۔ آپ کی طبیعت اداس ہو گی۔ ‘‘

یہ کہہ کر اُس نے ایک ہی گھونٹ میں چائے کی پیالی خالی کر دی اور اٹھ کھڑا ہوا۔

’’اچھا تو میں اجازت چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔ ایک ضروری کام سے جانا ہے۔ ‘‘

مجھے یقین تھا کہ اسے کسی ضروری کام سے نہیں جانا ہے۔ مگر میں نے اسے نہ روکا اور جانے دیا۔ اس دفعہ پھر اُس کا نام دریافت نہ کر سکا۔ لیکن اتنا پتہ چل گیا کہ وہ ذہنی اور روحانی طور پر بے حد پریشان تھا۔ وہ اداس تھا۔ بلکہ یوں کہیے کہ اُداسی اُس کی رگ و ریشہ میں سرایت کر چکی تھی۔ مگر وہ نہیں چاہتا تھا۔ کہ اس کی اُداسی کا دوسروں کو علم ہو۔ وہ دو زندگیاں بسر کرنا چاہتا تھا۔ ایک وہ جو حقیقت تھی اور ایک وہ جس کی تخلیق میں ہر گھڑی، ہر لمحہ مصروف رہتا تھا۔

لیکن اس کی زندگی کے یہ دونوں پہلو ناکام تھے۔ کیوں؟ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ مجھے معلوم نہیں۔ اُس سے تیسری مرتبہ میری ملاقات پھر اپولو بندر پر ہُوئی۔ اس دفعہ میں اسے اپنے گھر لے گیا۔ راستے میں ہماری کوئی بات چیت نہ ہوئی لیکن گھر پر اس کے ساتھ بہت سی باتیں ہوئیں۔ جب وہ میرے کمرے میں داخل ہوا۔ تو اس کے چہرے پر چند لمحات کے لیے اداسی چھا گئی۔ مگر وہ فوراً سنبھل گیا۔ اور اس نے اپنی عادت کے خلاف اپنے آپ کو بہت تروتازہ اور باتونی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اس کو اس حالت میں دیکھ کر مجھے اُس پر اور بھی ترس آگیا۔ وہ ایک موت جیسی یقینی حقیقت کو جھٹلا رہا تھا۔ اور مزا یہ ہے کہ اس خود فریبی سے کبھی کبھی وہ مطمئن بھی نظر آتا تھا۔ باتوں کے دوران میں اس کی نظر میرے میز پر پڑی۔ شیشے کے فریم میں اس کو ایک لڑکی کی تصویر نظر آئی۔ اٹھ کر اس نے تصویر کی طرف جاتے ہوئے کہا۔

’’کیا میں آپ کی اجازت سے یہ تصویر دیکھ سکتا ہوں۔ ‘‘

میں نے کہا۔

’’بصد شوق۔ ‘‘

اُس نے تصویر کو ایک نظر دیکھا۔ اور دیکھ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ اچھی خوبصورت لڑکی ہے۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی۔۔۔۔۔۔‘‘

’’جی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک زمانہ ہوا۔ اس سے محبت کرنے کا خیال میرے دل میں پیدا ہُوا تھا۔ بلکہ یوں کہیے کہ تھوڑی سی محبت میرے دل میں پیدا بھی ہو گئی تھی۔ مگر افسوس ہے کہ اس کو اس کی خبر تک نہ ہُوئی۔ اور میں۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں۔ بلکہ وہ بیاہ دی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تصویر میری پہلی محبت کی یادگار ہے۔ جو اچھی طرح پیدا ہونے سے پہلے ہی مر گئی۔۔۔۔۔۔‘‘

’’یہ آپ کی محبت کی یادگار ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد تو آپ نے اور بھی بہت سی رومان لڑائے ہوں گے۔ ‘‘

اُس نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری‘‘

یعنی آپ کی زندگی میں تو کئی ایسی نامکمل اور مکمل محبتیں موجود ہوں گی۔ ‘‘

میں کہنے ہی والا تھا کہ جی نہیں خاکسار بھی محبت کے معاملے میں آپ جیسا بنجر ہے۔ مگر جانے کیوں یہ کہتا کہتا رک گیا۔ اور خواہ مخواہ جھوٹ بول دیا۔

’’جی ہاں۔۔۔۔۔ ایسے سلسلے ہوتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ کی کتابِ زندگی بھی تو ایسے واقعات سے بھر پور ہو گی‘‘

وہ کچھ نہ بولا۔ اور بالکل خاموش ہو گیا۔ جیسے کسی گہرے سمندر میں غوطہ لگا گیا ہے۔ دیر تک جب وہ اپنے خیالات میں غرق رہا اور میں اس کی خاموشی سے اداس ہونے لگا۔ تو میں نے کہا۔

’’اجی حضرت! آپ کن خیالات میں کھو گئے؟‘‘

وہ چونک پڑا۔

’’میں۔۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں میں ایسے ہی کچھ سوچ رہا تھا‘‘

میں نے پوچھا۔

’’کوئی بیتی کہانی یاد آ گئی۔ ۔۔۔۔۔۔ کوئی بچھڑا ہوا سپنا مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ پرانے زخم ہرے ہو گئے۔ ‘‘

’’زخم۔۔۔۔۔ پرانے۔۔۔۔۔۔ زخم۔۔۔۔۔۔ کئی زخم نہیں۔۔۔۔۔ صرف ایک ہی ہے، بہت گہرا، بہت کاری۔۔۔۔۔ اور زخم میں چاہتا بھی نہیں۔ ایک ہی زخم کافی ہے‘‘

یہ کہہ کر وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ اور میرے کمرے میں ٹہلنے کی کوشش کرنے لگا۔ کیونکہ اُس چھوٹی سی جگہ میں جہاں کرسیاں، میز اور چارپائی سب کچھ پڑا تھا۔ ٹہلنے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ میز کے پاس اُسے رکنا پڑا۔ تصویر کو اب کی دفعہ گہری نظروں سے دیکھا اور کہا‘‘

اس میں اور اس میں کتنی مشابہت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے چہرے پر ایسی شوخی نہیں تھی۔ اس کی آنکھیں بڑی تھیں۔ مگر ان آنکھوں کی طرح ان میں شرارت نہیں تھی۔ وہ فکر مند آنکھیں تھی۔ ایسی آنکھیں جو دیکھتی بھی ہیں اور سمجھتی بھی ہیں‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اس نے ایک سرد آہ بھری اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ موت بالکل ناقابلِ فہم چیز ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ یہ جوانی میں آئے۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ خدا کے علاوہ ایک طاقت اور بھی ہے جو بڑی حاسد ہے۔ جو کسی کو خوش دیکھنا نہیں چاہتی۔۔۔۔۔۔ مگر چھوڑیے اس قصّے کو۔ ‘‘

میں نے اس سے کہا۔

’’نہیں نہیں، آپ سناتے جائیے۔۔۔۔۔ لیکن اگر آپ ایسا مناسب سمجھیں۔۔۔۔۔ سچ پوچھیے تو میں یہ سمجھ رہا تھا۔ کہ آپ نے کبھی محبت کی ہی نہ ہو گی۔ ‘‘

’’یہ آپ نے کیسے سمجھ لیا کہ میں نے کبھی محبت کی ہی نہیں اور ابھی ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ میری کتاب زندگی ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہو گی‘‘

یہ کہہ کر اُس نے میری طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا‘‘

میں نے اگر محبت نہیں کی تو یہ دکھ میرے دل میں کہاں سے پیدا ہو گیا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے اگر محبت نہیں کی۔ تو میری زندگی کو یہ روگ کہاں سے چمٹ گیا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ میں روز بروز موم کی طرح کیوں پگھلا جا رہا ہوں؟ بظاہر یہ تمام سوال وہ مجھ سے کر رہا تھا۔ مگر دراصل وہ سب کچھ اپنے آپ ہی سے پُوچھ رہا تھا۔ میں نے کہا۔ میں نے جھوٹ بولا تھا۔ کہ آپ کی زندگی میں ایسے کئی واقعات ہوں گے۔ مگر آپ نے بھی جھوٹ بولا تھا کہ میں اداس نہیں ہوں اور مجھے کوئی روگ نہیں ہے۔۔۔۔۔ کسی کے دل کا حال جاننا آسان بات نہیں ہے، آپ کی اُداسی کی اور بہت سی وجہیں ہو سکتی ہیں۔ مگر جب تک مجھے آپ خود نہ بتائیں میں کسی نتیجے پر کیسے پہنچ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ واقعی روز بروز کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ آپ کو یقیناًبہت بڑا صدمہ پہنچا ہے اور۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔

’’ہمدردی۔۔۔۔۔‘‘

اُس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

’’مجھے کسی کی ہمدردی کی ضرورت نہیں اس لیے کہ ہمدردی اُسے واپس نہیں لا سکتی۔۔۔۔۔ اس عورت کو موت کی گہرائیوں سے نکال کر میرے حوالے نہیں کر سکتی جس سے مجھے پیار تھا۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے محبت نہیں کی۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے، آپ نے محبت نہیں کی، اس لیے کہ اس کی ناکامی نے آپ پر کوئی داغ نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔۔ میری طرف دیکھیے‘‘

یہ کہہ کر اُس نے خود اپنے آپ کو دیکھا۔ ‘‘

کوئی جگہ آپ کو ایسی نہیں ملے گی۔ جہاں میری محبت کے نقش موجود نہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔ میرا وجود خود اس محبت کی ٹوٹی ہوئی عمارت کا ملبہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کو یہ داستان کیسے سناؤں اور کیوں سناؤں جب کہ آپ اسے سمجھ ہی نہیں سکیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی کا یہ کہہ دینا کہ میری ماں مر گئی ہے۔ آپ کے دل پر وہ اثر پیدا نہیں کر سکتا۔ جو موت نے بیٹے پر کیا تھا۔۔۔۔۔ میری داستان محبت آپ کو۔۔۔۔۔۔۔ کسی کو بھی بالکل معمولی معلوم ہو گی۔ مگر مجھ پر جو اثر ہوا ہے۔ اس سے کوئی بھی آگاہ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ محبت میں نے کی ہے۔ اور سب کچھ صرف مجھی پر گزرا ہے۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ اس کے حلق میں تلخی پیدا ہو گئی تھی۔ کیونکہ وہ بار بار تھوک نگلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

’’کیا وہ آپ کو دھوکہ دے گئی‘‘

میں نے اس سے پوچھا۔ ‘‘

یا کچھ اور حالات تھے؟‘‘

’’دھوکا۔۔۔۔۔۔۔ وہ دھوکا دے ہی نہیں سکتی تھی۔ خدا کے لیے دھوکا نہ کہیے۔ وہ عورت نہیں فرشتہ تھی۔ مگر بُرا ہوا اس موت کا جو ہمیں خوش نہ دیکھ سکی۔ اور اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پروں میں سمیٹ کر لے گئی۔۔۔۔۔۔ آہ!۔۔۔۔۔۔۔ آپ نے میرے دل پر خراشیں پیدا کر دی ہیں۔ سُنیے۔۔۔۔ سُنیے، میں آپ کو درد ناک داستان کا کچھ حصّہ سناتا ہوں۔۔۔۔۔۔ وہ ایک بڑے اور امیر گھیرانے کی لڑکی تھی جس زمانے میں اس کی اور میری پہلی ملاقات ہوئی۔ میں اپنے باپ دادا کی ساری جائیداد عیاشیوں میں برباد کر چکا تھا۔ میرے پاس ایک کوڑی بھی نہیں تھی۔ پھر بمبئی چھوڑ کر میں لکھنو چلا آیا۔ اپنی موٹر چونکہ میرے پاس ہُوا کرتی تھی۔ اس لیے میں صرف موٹر چلانے کا کام جانتا تھا۔ چنانچہ میں نے اسی کو اپنا پیشہ قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ پہلی ملازمت مجھے ڈپٹی صاحب کے یہاں ملی۔ جن کی اکلوتی لڑکی تھی۔۔۔۔۔ یہ کہتے کہتے وہ اپنے خیالات میں کھو گیا۔ اور دفعتہ خاموش رہا۔ میں بھی چپ ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ پھرچونکا اور کہنے لگا۔

’’میں کیا کہہ رہا تھا؟‘‘

’’آپ ڈپٹی صاحب کے یہاں ملازم ہو گئے۔ ‘‘

ہاں وہ انہی ڈپٹی صاحب کی اکلوتی لڑکی تھی ہر روز صبح نو بجے میں زہرہ کو موٹر میں سکول لے جایا کرتا تھا۔ وہ پردہ کرتی تھی مگر موٹر ڈرائیور سے کوئی کب تک چھپ سکتا ہے۔ میں نے اسے دوسرے روز ہی دیکھ لیا۔۔۔۔۔۔۔ وہ صرف خوبصورت ہی نہیں تھی۔ اس میں ایک خاص بات بھی تھی۔۔۔۔۔۔۔ بڑی سنجیدہ اور متین لڑکی تھی۔ اس کی سیدھی مانگ نے اس کے چہرے پر ایک خاص قسم کا وقار پیدا کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔ میں کیا عرض کروں وہ کیا تھی۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس کی صورت اور سیرت بیان کر سکوں۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

بہت دیر تک وہ اپنی زہرہ کی خوبیاں بیان کرتا رہا۔ اس دوران میں اس نے کئی مرتبہ اس کی تصویر کھینچنے کی کوشش کی۔ مگر ناکام رہا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خیالات اس کے دماغ میں ضرورت سے زیادہ جمع ہو گئے ہیں۔ کبھی کبھی بات کرتے کرتے اُس کا چہرہ تمتما اٹھتا۔ لیکن پھر اداسی چھا جاتی۔ اور وہ آہوں میں گفتگو کرنا شروع کر دیتا وہ اپنی داستان بہت آہستہ آہستہ سنا رہا تھا۔

جیسے خود بھی مزا لے رہا ہو۔ ایک ایک ٹکڑا جوڑ کر اس نے ساری کہانی پوری کی جس کا ماحصل یہ تھا۔ زہرہ سے اسے بے پناہ محبت ہو گئی۔ کچھ دن تو موقع پا کر اس کا دیدار کرنے اور طرح طرح کے منصوبے باندھنے میں گزر گئے۔ مگر جب اس نے سنجیدگی سے اس محبت پر غور کیا۔ تو خود کو زہرہ سے بہت دُور پایا۔ ایک موٹر ڈرائیور اپنے آقا کی لڑکی سے محبت کیسے کر سکتا ہے۔ ؟ چنانچہ جب اُس تلخ حقیقت کا احساس اس کے دل میں پیدا ہوا تو وہ مغموم رہنے لگا۔ لیکن ایک دِن اس نے بڑی جرات سے کام لیا کاغذ کے ایک پُرزے پر اُس نے زہرہ کو چند سطریں لکھیں۔۔۔۔۔۔ یہ سطریں مجھے یاد ہیں۔

’’زہرہ! میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہارا نوکر ہوں! تمہارے والد صاحب مجھے تیس روپے ماہوار دیتے ہیں۔ مگر میں تم سے محبت کرتا ہُوں۔۔۔۔۔ میں کیا کروں، کیا نہ کروں، میری سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔۔۔۔‘‘

یہ سطریں کاغذ پر لکھ کر اس نے کاغذ اس کی کتاب میں رکھ دیا۔ دوسرے روز جب وہ اُسے موٹر میں اسکول لے گیا۔ تو اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ہینڈل کئی بار اس کی گرفت سے نکل نکل گیا۔ مگر خدا کا شکر ہے۔ کہ کوئی ایکسی ڈنٹ نہ ہُوا۔ اس روز اس کی کیفیت عجیب رہی۔ شام کو جب وہ زہرہ کو اسکول سے واپس لا رہا تھا۔ تو راستے میں اس لڑکی نے موٹر روکنے کے لیے کہا۔ اُس نے جب موٹر روک لی۔ تو زہرہ نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ کہا‘‘

دیکھو نعیم آئندہ تم ایسی حرکت کبھی نہ کرنا۔ میں نے ابھی تک ابّا جی سے تمہارے اُس خط کا ذکر نہیں کیا۔ جو تم نے میرے کتاب میں رکھ دیا تھا۔ لیکن اگر پھر تم نے ایسی حرکت کی۔ تو مجبوراً اُن سے شکایت کرنا پڑے گی۔ سمجھے۔۔۔۔۔ چلو اب موٹر چلاؤ۔ ‘‘

اس گفتگو کے بعد اُس نے بہت کوشش کی کہ ڈپٹی صاحب کی نوکری چھوڑ دے اور زہرہ کی محبت کو اپنے دل سے ہمیشہ کے لیے مٹا دے۔ مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ ایک مہینہ اسی کشمکش میں گزر گیا۔ ایک روز اس نے پھر جرأت سے کام لے کر خط لکھا اور زہرہ کی ایک کتاب میں رکھ کر اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کرنے لگا۔ اُسے یقین تھا کہ دوسرے روز صبح کو اُسے نوکری سے برطرف کر دیا جائے گا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ شام کو اسکول سے واپس آتے ہُوئے زہرہ اس سے ہم کلام ہُوئی ایک بار پھر اُس کو ایسی حرکتوں سے باز رہنے کے لیے کہا۔

’’اگر تمہیں اپنی عزت کا خیال نہیں تو کم از کم میری عزت کا تو کچھ خیال تمہیں ہونا چاہیے‘‘

یہ اس نے ایک بار پھراُسے کچھ سنجیدگی اور متانت سے کہا۔ کہ نعیم کی ساری امیدیں فنا ہو گئیں۔ اور اس نے قصد کر لیا کہ وہ نوکری چھوڑ دے گا۔ اور لکھنؤ سے ہمیشہ کے لیے چلا جائے گا۔ مہینے کے اخیر میں نوکری چھوڑنے سے پہلے اُس نے اپنی کوٹھڑی میں لالٹین کی مدھم روشنی میں زہرہ کو آخری خط لکھا۔ اس میں اُس نے نہایت درد بھرے لہجے میں اس سے کہا۔

’’زہرہ! میں نے بہت کوشش کی کہ میں تمہارے کہے پر عمل کر سکوں مگر دل پر میرا اختیار نہیں ہے۔ یہ میرا آخری خط ہے۔ کل شام کو میں لکھنؤ چھوڑ دوں گا۔ اس لیے تمہیں اپنے والد صاحب سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ تمہاری خاموشی میری قسمت کا فیصلہ کر دے گی۔ مگر یہ خیال نہ کرنا کہ تم سے دُور رہ کر تم سے محبت نہیں کروں گا۔ میں جہاں کہیں بھی رہوں گا۔ میرا دل تمہارے قدموں میں ہو گا۔۔۔۔ میں ہمیشہ اُن دنوں کو یاد کرتا رہوں گا۔ جب میں موٹر آہستہ آہستہ چلاتا تھا کہ تمہیں دھکا نہ لگے۔۔۔۔۔ میں اس کے سوا اور تمہارے لیے کر ہی کیا سکتا تھا۔۔۔۔۔‘‘

یہ خط بھی اُس نے موقع پاکر اُس کتاب میں رکھ دیا۔ صبح کو زہرہ نے اسکول جاتے ہوئے اُس سے کوئی بات نہ کی۔ اور شام کو بھی راستے میں اُس نے کچھ نہ کہا۔ چنانچہ وہ بالکل نا امید ہو کر اپنی کوٹھڑی میں چلا آیا۔ جو تھوڑا بہت اسباب اس کے پاس تھا باندھ کر اُس نے ایک طرف رکھ دیا۔ اور لالٹین کی اندھی روشنی میں چارپائی پر بیٹھ کر سوچنے لگا۔ کہ زہرہ اور اس کے درمیان کتنا بڑا فاصلہ ہے۔ وہ بے حد مغموم تھا۔ اپنی پوزیشن سے اچھی طرح واقف تھا۔ اُسے اس بات کا احساس تھا کہ وہ ایک ادنیٰ درجے کا ملازم ہے اور اپنے آقا کی لڑکی سے محبت کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی بے اختیار ا س سے محبت کرتا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے اور پھر اس کی محبت فریب تو نہیں۔ وہ اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ آدھی رات کے قریب اس کی کوٹھڑی کے دروازے پر دستک ہُوئی۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ لیکن پھر اُس نے خیال کیا۔ کہ مالی ہو گا ممکن ہے اس کے گھر میں کوئی ایکا ایکی بیمار پڑ گیا ہو۔ اور وہ اس سے مدد لینے کے لیے آیا ہو۔ لیکن جب اُس نے دروازہ کھولا تو زہرہ سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔ جی ہاں زہرہ۔۔۔۔۔۔ دسمبر کی سردی میں شال کے بغیر وہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اُس کی زبان گنگ ہو گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ کیا کہے، چند لمحات قبر کی سی خاموشی میں گزر گئے۔ آخر زہرہ کے ہونٹ وا ہُوئے اور تھرتھراتے ہوئے لہجے میں اُس نے کہا۔

مزید پڑھیں: اولاد

’’نعیم میں تمہارے پاس آ گئی ہوں۔ بتاؤ اب تم کیا چاہتے ہو۔۔۔۔۔ لیکن اس سے پہلے کہ تمہاری اس کوٹھڑی میں داخل ہوں۔ میں تم سے چند سوال کرنا چاہتی ہوں۔ ‘‘

نعیم خاموش رہا۔ لیکن زہرہ اس سے پوچھنے لگی۔

’’کیا واقعی تم مجھ سے محبت کرتے ہو؟‘‘

نعیم کو جیسے ٹھیس سی لگی۔ اس کا چہرہ تمتما اُٹھا۔

’’زہرہ تم نے ایسا سوال کیا ہے جس کا جواب اگر میں دوں تو میری محبت کی توہین ہو گی۔۔۔۔۔۔ میں تم سے پوچھتا ہوں۔ ‘‘

کیا میں محبت نہیں کرتا؟‘‘

زہرہ نے اس سوال کا جواب نہ دیا۔ اور تھوڑی دیر خاموش رہ کر اپنا دوسرا سوال

’’میرے باپ کے پاس دولت ہے، مگر میرے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں، جو کچھ میرا کہا جاتا ہے میرا نہیں ہے، ان کا ہے۔ کیا تم مجھے دولت کے بغیر بھی ویسا ہی عزیز سمجھو گے؟‘‘

نعیم بہت جذباتی آدمی تھا۔ چنانچہ اس سوال نے بھی اُس کے وقار کو زخمی کیا بڑے دُکھ بھرے لہجے میں اُس نے زہرہ سے کہا۔

’’زہرہ خدا کے لیے مجھ سے ایسی باتیں نہ پوچھو جن کا جواب اس قدر عام ہو چکا ہے کہ تمہیں تھرڈ کلاس عشقیہ ناولوں میں بھی مل سکتا ہے‘‘

زہرہ اس کی کوٹھڑی میں داخل ہو گئی۔ اور اس کی چارپائی پر بیٹھ کر کہنے لگی۔

’’میں تمہاری ہوں اور ہمیشہ تمہاری رہوں گی۔ ‘‘

زہرہ نے اپنا قول پورا کیا جب دونوں لکھنو چھوڑ کر دہلی چلے آئے اور شادی کرکے ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے لگے۔ تو ڈپٹی صاحب ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہاں پہنچ گئے۔ نعیم کو نوکری مل گئی تھی۔ اس لیے وہ گھر میں نہیں تھا۔ ڈپٹی صاحب نے زہرہ کو بہت بُرا بھلا کہا۔ ان کی ساری عزت خاک میں مل گئی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ زہرہ نعیم کو چھوڑ دے اور جو کچھ ہو چکا ہے اسے بھولا جائے۔ وہ نعیم کو دو تین ہزار روپیہ دینے کے لیے بھی تیار تھے۔ مگر انھیں ناکام لوٹنا پڑا۔ اس لیے کہ زہرہ نعیم کو کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ اس نے اپنے باپ سے کہا۔

’’ابّا جی! میں نعیم (کے) ساتھ بہت خوش ہوں۔ آپ اس سے اچھا شوہر میرے لیے کبھی تلاش نہیں کر سکتے۔ میں اور وہ آپ سے کچھ نہیں مانگتے۔ اگر آپ ہمیں دعائیں دے سکیں۔ تو ہم آپ کے ممنون ہوں گے۔ ‘‘

ڈپٹی صاحب نے جب یہ گفتگو سُنی تو بہت خشم آلود ہُوئے۔ انھوں نے نعیم کو قید کرا دینے کی دھمکی بھی دی مگر زہرہ نے صاف صاف کہہ دیا۔ ابّا جی! اس میں نعیم کا کیا قصور ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم دونوں بے قصور ہیں۔ البتہ ہم ایک دوسرے سے محبت ضرور کرتے ہیں اور وہ میرا شوہر ہے۔۔۔۔ یہ کوئی قصور نہیں ہے میں نابالغ نہیں ہوں۔ ‘‘

ڈپٹی صاحب عقلمند تھے، فوراً سمجھ گئے کہ جب ان کی بیٹی ہی رضامند ہے تو نعیم پر کیسے جُرم عائد ہو سکتا ہے۔ چنانچہ وہ زہرہ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گئے۔ کچھ عرصے کے بعد ڈپٹی صاحب نے مختلف لوگوں کے ذریعے سے نعیم پر دباؤ ڈالنے اور اس کو روپے پیسے سے لالچ دینے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ دونوں کی زندگی بڑے مزے میں گزر رہی تھی۔ گو نعیم کی آمدن بہت ہی کم تھی۔ اور زہرہ کو جو نازونعم میں پلی تھی۔ بدن پر کھُردرے کپڑے پہننے پڑتے تھے۔ اور اپنے ہاتھ سے سب کام کرنے پڑتے تھے۔ مگر وہ خوش تھی۔ اور خود کو ایک نئی دنیا میں پاتی تھی۔ وہ بہت سکھی تھی۔۔۔۔۔۔ بہت سکھی۔ نعیم بھی بہت خوش تھا۔ لیکن ایک روز خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ زہرہ کے سینے میں موذی درد اٹھا اور پیشتر اس کے کہ نعیم اس کے لیے کچھ کر سکے وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئی اور نعیم کی دنیا ہمیشہ کے لیے تاریک ہو گئی۔ یہ داستان اُس نے رُک رُک کر اور خود مزے لے لے کر قریباً چار گھنٹوں میں سنائی۔ جب وہ اپنا حال دل سنا چکا۔ تو اس کا چہرہ بجائے زرد ہونے کے تمتما اُٹھا جیسے اُس کے اندر آہستہ آہستہ کسی نے خون داخل کر دیا ہے۔ لیکن اس کی آنکھوں میں آنسوتھے اور اس کا حلق سوکھ گیا تھا۔ داستان جب ختم ہوئی۔ تو وہ فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ جیسے اسے بہت جلدی ہے اور کہنے لگا۔

’’میں نے بہت غلطی کی۔۔۔۔۔۔ جو آپ کو اپنی داستانِ محبت سنا دی۔۔۔۔۔۔ میں نے بہت غلطی کی۔۔۔۔۔۔۔ زہرہ کا ذکر صرف مجھی تک محدود رہنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ اُس کی آواز بھرّا گئی۔۔۔۔۔ میں زندہ ہُوں اور وہ۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے وہ کچھ نہ کہہ سکا اور جلدی سے میرا ہاتھ دبا کر کمرے سے باہر چلا گیا۔ نعیم سے پھر میری ملاقات نہ ہوئی۔ اپولوبندر پر کئی مرتبہ اس کی تلاش میں گیا۔ مگر وہ نہ ملا چھ یا سات مہینے کے بعد اُس کا ایک خط مجھے ملا۔ جو میں یہاں پر نقل کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ صاحب! آپ کو یاد ہو گا۔ میں نے آپ کے مکان پر اپنی داستانِ محبت سنائی تھی۔ وہ محض فسانہ تھا۔ ایک جھوٹا فسانہ کوئی زہرہ ہے نہ نعیم۔۔۔۔۔ میں ویسے موجود تو ہوں مگر وہ نعیم نہیں ہوں جس نے زہرہ سے محبت کی تھی۔ آپ نے ایک بار کہا تھا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو محبت کے معاملے میں بانجھ ہوتے ہیں۔ میں بھی ان بدقسمت آدمیوں میں سے ایک ہُوں جس کی ساری جوانی اپنا دل پرچانے میں گزرگئی۔ زہرہ سے نعیم کی محبت ایک دلی بہلاوا تھا اور زہرہ کی موت۔۔۔۔۔ میں ابھی تک نہیں سمجھ سکا۔ کہ میں نے اسے کیوں مار دیا۔ بہت ممکن ہے کہ اس میں بھی میری زندگی کی سیاہی کا دخل ہو۔ مجھے معلوم نہیں۔ آپ نے میرے افسانے کو جھوٹا سمجھا یا سچا لیکن میں آپ کو ایک عجیب و غریب بات بتاتا ہوں کہ میں نے۔۔۔۔۔ یعنی اُس جھوٹے افسانے کے خالق نے اس کو بالکل سچا سمجھا۔ سو فیصدی حقیقت پر مبنی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے واقعی زہرہ سے محبت کی ہے۔ اور وہ سچ مچ مر چکی ہے۔ آپ کو یہ سُن کر اور بھی تعجب ہو گا کہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا۔ اُس افسانے کے اندر حقیقت کا عنصر زیادہ ہوتا گیا۔ اور زہرہ کی آواز، اُس کی ہنسی بھی میرے کانوں میں گونجنے لگی۔ میں اُس کے سانس کی گرمی تک محسوس کرنے لگا۔ افسانے کا ہر ذرہ جاندار ہو گیااور میں نے۔۔۔۔۔۔۔ اور میں نے یوں اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھودی۔۔۔۔۔ زہرہ فسانہ نہ سہی مگر میں تو فسانہ ہوں۔ وہ مر چکی ہے۔ اس لیے مجھے بھی مر جانا چاہیے۔ یہ خط آپ کو میری موت کے بعد ملے گا۔۔۔۔۔۔۔ الوداع۔۔۔۔۔۔ زہرہ مجھے ضرور ملے گی۔۔۔۔۔ کہاں!۔۔۔۔۔۔ یہ مجھے معلوم نہیں۔ میں نے یہ چند سطور صرف اس لیے آپ کو لکھ دیے ہیں کہ آپ افسانہ نگار ہیں اگر اس سے آپ افسانہ تیار کر لیں تو آپ کو سات آٹھ روپے مل جائیں گے۔ کیونکہ ایک مرتبہ آپ نے کہا تھا کہ افسانے کا معاوضہ آپ کو سات سے دس روپے تک مل جایا کرتا ہے۔ یہ میرا تحفہ ہو گا۔ اچھا الوداع۔ ‘‘

آپ کا ملاقاتی۔

’’نعیم‘‘

نعیم نے اپنے لیے زہرہ بنائی اور مر گیا۔۔۔۔۔ میں نے اپنے لیے یہ افسانہ تخلیق کیا ہے اور زندہ ہوں۔۔۔۔۔ یہ میری زیادتی ہے۔

سعادت حسن منٹو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں