کراچی میں نقیب اللہ محسودکی ‘پولیس مقابلے’ میں ہلاکت ٗچیف جسٹس نے ازخود نوٹس لے لیا

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ سے 7 روز میں واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔تفصیلات کے مطابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار نے 13 جنوری کو کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں پولیس مقابلے کے دوران 4 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔جن میں مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور کالعدم لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والا نقیب اللہ بھی شامل تھاراؤ انوار کا دعویٰ تھا کہ نقیب اللہ جیل توڑنے، صوبیدار کے قتل اور ایئرپورٹ حملے میں ملوث مولوی اسحاق کا قریبی ساتھی تھا۔تاہم نقیب اللہ کے رشتے داروں اور دوستوں نے راؤ انوار کے پولیس مقابلے کو ‘جعلی’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مقتول کاروبار کے سلسلے میں کراچی آیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ سے 7 روز میں واقعے کی رپورٹ طلب کرلی

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں