ظلم ، رسوائی غریب کا ہی مقدر کیوں؟ پرویز خٹک

تحریک انصاف کا پیغام اور مشن ہے کہ کرپٹ اشرافیہ کے خلاف ایماندار قیادت کو آگے لائے بغیر ترقی ممکن نہیں‘ اشرافیہ نے اپنی خوشحالی کیلئے عوام کو بدحال کر دیا
علماء کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے پارٹی عالم اسلام کی حقیقی معنوں میں زیادہ خدمت کے قابل بن سکے گی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا تقریب سے خطاب

loading...

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے علماء کا خیر مقد م کیا ہے اور کہا ہے کہ اُن کی شمولیت سے پی ٹی آئی زیادہ مضبوط بن کر عوام کی فلاح و بہبود کے ساتھ ساتھ اسلام اور عالم اسلام کی حقیقی معنوں میں زیادہ خدمت کے قابل بن سکے گی ۔ انہوں نے کہاکہ عوام و خواص کی تحریک انصاف میں شمولیت عوام کی اپنی فلاح اور خوشحالی کی طرف عملی قدم ہے ۔تحریک انصاف روایتی سیاسی جماعت ہے اور نہ ہی اس میں شمولیتیں روایتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت پسند جماعت ہے جو جھوٹ ، فریب اور دھوکہ دہی پر مبنی سیاست کے خلاف اور غریب کے حقوق کیلئے کھڑی ہے۔مفاد پرست اشرافیہ نے اپنی خوشحالی کیلئے کروڑوں عوام کو بد حال کر دیا ۔نا انصافی ، ظلم اور رسوائی غریب ہی کا مقدر کیوں۔کب تک قوم اس ظلم سے سمجھوتہ کرتی رہے گی ۔ تحریک انصاف کا پیغام اور مشن ہے کہ کرپٹ اشرافیہ کے خلاف ایماندار قیادت کو آگے لائے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ عوام نے پی ٹی آئی کی مخلص قیادت پر اعتماد کا اظہار کیااور آئندہ بھی قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایماندار قیادت کو آگے لانے میں کردار ادا کریں گے ۔پی ٹی آئی میں شمولیت کا بڑھتا ہوا رجحان بد عنوان حکمرانوں اور شاطر اشرافیہ کی شکست اور خوشحال پاکستان کی نوید ہے ۔پی ٹی آئی بھاری اکثریت کے ساتھ مرکز اور صوبوں میں حکومتیں بناکر قوم کو خوشحال اور ملک کو حقیقی معنوں میں اسلام کا قلعہ بنائے گی بالخصوص خیبرپختونخوا میں کرپشن کی روایات کو شفاف اور عادلانہ فلاحی نظام میں بدل دے گی۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاجس میں ملاکنڈ سے 35 چیدہ علماء نے اپنی مختلف دینی و سیاسی جماعتوں کے سینکڑوں حامیوں ،طالب علموں اور کارکنان سمیت تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ان علماء نے صوبائی حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے اسلام اور عوام دوست اقدامات اور اصلاحات و قانون سازی کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ اُن کی سابقہ دینی سیاسی جماعتوں نے ماضی میں اسلام اور شریعت کے نام پر برسراقتدار آنے کے باوجود اسلام کی ذرہ برابر خدمت نہیں کی بلکہ اُلٹا علماء کو عوام کے سامنے شرمسار کیا یہی وجہ ہے کہ مدارس اور آستانوں سے علماء اور علمی خانوادے اب مخلصانہ دینی اور فلاحی خدمات کی بدولت پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں جس میں وقت کے ساتھ مزید اضافہ ہو گا۔ ملاکنڈ سے منتخب سینیٹر فدا محمد خان، صوبائی وزیر کھیل اور پی ٹی آئی ملاکنڈ ڈویژن کے صدر محمود خان، سابق وزیر میاں انور علی ، پی ٹی آئی ملاکنڈ کے جنرل سیکرٹری پیر مصور خان غازی اور کئی دیگر پارٹی زعماء بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اگر مخلص اور ایماندار لیڈر میسر ہو تو ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے۔ایک ایماندار لیڈر ہی قوم کو بحرانوں سے نکال سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ روٹی ، کپڑا، مکان ، اسلام اور پختونوں کے نام پر حکومتیں بنانے والوں نے اپنے ایجنڈے پر کبھی بھی عمل نہیں کیا۔ایم ایم اے نے اسلام کے نام پر حکومت تو بنائی مگر عملاً اسلامی تعلیمات کے فروغ کیلئے ایک کام بھی نہ کر سکی ۔موجودہ صوبائی حکومت نے سرکاری سکولوں میں ناظرہ و ترجمہ قرآن ، تعلیمی نصاب کو اسلام سے ہم آہنگ کرنے ،ختم نبوتؐ کو نصاب کا حصہ بنانے، مساجد کی سولرائزیشن ، جہیز اور سود کے خلاف قانون سازی کے ساتھ ساتھ آئمہ مساجد کیلئے اعزازیہ بھی مقررکیا ۔اسی طرح دیوانی مقدمات کو جلد نمٹانے کیلئے108 سال پرانے قانون میں ترمیم اور اصلاحا ت کیں نیز ایک سال کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی تاکہ عوام کو آباؤ اجداد کے اوقات سے جاری مقدمات و تنازعات سے نجات دلائی جا سکے جبکہ مرکز کے دائرہ اختیار میں آنے والے دہشت گردی و جرائم سے متعلق باقی مقدمات میں اصلاحات کیلئے وفاق کو سفارشات ارسال کیں تاکہ عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کی راہ ہموار کی جا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے اسلامی قوانین اور اقدار کیلئے علماء کونسل قائم کی تاکہ اُن کی سفارشات کی روشنی میں مزید اقدامات کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اپنے وسائل سے آئمہ کی معاونت کرنا چاہتی ہے ۔ فضل الرحمن اسلئے بیرونی ایجنڈا قرار دیتے ہیں کیونکہ اُن کا اپنا کاروبار چل رہا ہے۔وہ خود خوش ہیں مگر دوسروں کے حقوق پر سیاست کرتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کی وجہ اس کی غریب دوست پالیسی ہے۔اصلاح و ترقی سے محروم حلقے ہماری ترجیحات کا مرکز ہیں۔ صوبائی حکومت نے عوامی مسائل کے ازالے کیلئے ساڑھے چار سال بھر پور کوشش کی ہے۔صوبے کی تاریخ میں پہلی بارطبی اور تعلیمی مراکز میں ڈاکٹر اور اساتذہ پورے کئے گئے ہیں اور اُن کی ترقی نتائج سے مشروط کی گئی ہے ۔اسی طرح تھانوں اور پٹوار خانوں کی اصلاح پر بھی توجہ دی گئی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے تو تمام ادارے تباہ تھے ۔لوٹ مار اور رشوت عام تھی ۔ امیر اور غریب کیلئے الگ الگ معیار قائم کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ترقیافتہ ممالک میں سب کو ترقی کے یکساں مواقع اور ایک جیسی سہولیات میسر ہوتی ہیں مگر ہمارے ہاں سیاستدانوں نے نظام کو تباہ کردیا۔ایک محدود طبقہ خوشحال ہوتا چلا گیا اور کروڑوں عوام بدحالی کا شکار ہو گئے ۔ذاتی مفادات کا تحفظ ہی بدعنوان اشرافیہ کی جمہوریت ، حکومت اور یہی ان کی سیاست ہے۔یہ لوگ عوام کے مجرم ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف مفاد پرست عناصر کے خلاف عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ حقدار کو حق کی فراہمی ، میرٹ اور انصاف کی بالادستی صوبائی حکومت کا طرہ امتیاز ہے۔ماضی کے 65 سے 70 سالوں کا موجودہ حکومت کے ساڑھے چار سالوں سے موازانہ کریں تو حقیقت منکشف ہو جائے گی اور اخلاص اور دھوکے میں فرق واضح ہو جائے گا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف نے عوام دشمن عناصر کے خلاف اور عوام کی فلاح کیلئے جو جدوجہد شروع کی ہے اس کو منطقی انجام تک لے جائیں گے ۔تحریک انصاف میں شامل ہونے والوں میں ملاکنڈ کے جید عالم دین اور روحانی پیشوا مولانا شمس الوکیل اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا ولی اﷲ بھی شامل تھے۔ وزیراعلیٰ نے شامل ہونے والوں کو پارٹی کی ٹوپیاں پہنا کر خیر مقد م کیا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں