تاج محل اللہ کی ملکیت ہے، مقدمہ بھارتی سپریم کورٹ میں: جانیے سنی وقف بورڈ ایسا کیوں سمجھتا ہے؟

تاج محل
loading...

تاج محل میں شاہجہاں کا سالانہ عرس ہوتا ہے، وہاں جمعے کی نماز ہوتی ہے اور رمضان میں تراویح کی نماز ہوتی ہے ایسے میں وقف بورڈ کا اس پر حق ہونا چاہیے،چیئرمین ظفر احمد فاروقی

بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش کے سنی وقف بورڈ نے عدالت میں جوابی حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاج محل اللہ کی ملکیت ہے اور ان کے پاس اس کے وقف کیے جانے کی دستاویزات نہیں ہیں، تاہم یہ وقف شدہ عمارت ہے اس لیے اسے بورڈ کے حوالے کرنا چاہیے۔

سنی وقف بورڈ کے چیئرمین ظفر احمد فاروقی نے برطانوی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ یہ مقدمہ بہت پرانا ہے اور اب اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ ظفر احمد فاروقی کا کہنا تھا کہ ملک میں قبروں اور مساجد کو قانونی طور پر وقف کی املاک تصور کیا جاتا ہے اور اس طرح تاج محل بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بہت پہلے عرفان بیدار نام کے ایک شخص نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور یہ معاملہ 90 کی دہائی میں عدالت میں آیا تھا پھر انڈیا کے محکمہ آثار قدیمہ  نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں سنہ 2011 میں اپیل کی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ تاج محل مقبرہ ہے اور وہاں شاہجہاں کا سالانہ عرس ہوتا ہے، وہاں جمعے کی نماز ہوتی ہے اور رمضان میں تراویح کی نماز ہوتی ہے ایسے میں وقف بورڈ کا اس پر حق ہونا چاہیے۔ فی الحال تاج محل کا انتظام و انصرام محکمہ آثار قدیمہ کے ہاتھوں میں ہے۔

مزید پڑھیں۔  اداکارہ نیہا دھوپیا کا دبنگ انداز

جب وقف بورڈ کے چیئر مین سے  یہ سوال کیا گیا کہ کیا تاج محل کا انتظام محکمہ آثار قدیمہ سے لے کر وقف کے حوالے کر دینا چاہیے تو انھوں نے کہا کہ اس کا انتظام تو محکمے کے پاس ہی رہنا چاہیے کیونکہ وہ اچھی طرح سے اس کام کو انجام دے رہے ہیں اور یہ کہ وقف کے پاس ایسے وسائل نہیں کہ آثار قدیمہ کی اچھی طرح دیکھ ریکھ کر سکے، لیکن اس کا اسحقاق یا تشخص بورڈ کے پاس ہونا چاہیے۔انھوں نے بتایا کہ ریاست میں وقف کی اپنی ملکیت صرف دو ہیں، ایک جس میں ان کا دفتر ہے اور دوسرا پرانا دفتر اور یہ دونوں ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں