میڈیا انڈسٹری کی اقتصادی حالت بھی بہتر بنائی جائے

میڈیا انڈسٹری

وزیراعظم عمران خان نے نیوز پرنٹ پر 5 فیصد ڈیوٹی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے، ہم میڈیا انڈسٹری سمیت تمام حلقوں کی جانب سے مثبت تنقید کا خیر مقدم کرینگے۔ ملکی اقتصادی مسائل کے سبب میڈیا کو بھی مسائل ہیں۔ ہم میڈیا کو سپورٹ کرینگے، مسائل پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔ مجھے امید ہے میڈیا بھی ذمہ دارانہ صحا فت کو فروغ دے گا، میری اور پی ٹی آئی کی کامیابی کی وجہ بھی میڈیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پا کستا ن نیوز پیپرز سوسائٹی، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز اور پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن کے وفود سے ملا قات کے دوران کیا۔

یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر قومی سیاست میں آنے سے اقتدار کی منزل کے حصول تک قومی میڈیا کی مکمل سپورٹ حاصل رہی ۔ سسٹم کی اصلاح ،کرپشن فری سوسائٹی کی تشکیل تبدیلی اور نئے پاکستان کا نعرہ آگے بڑھانے کیلئے میڈیا نے انکی آواز کے ساتھ آواز ملائی۔ اگرآجمیڈیا کی جانب سے انکی پارٹی پالیسیوں اور ایجنڈے کے بعض معاملات پر تنقید کی جاتی ہے تو اس کا مقصد بھی تعمیر وطن کیلئے ان کے کاز کو تقویت پہنچانے کا ہی ہے۔

قومی میڈیا نے ایک ذمہ دار ادارے کی حیثیت سے ملک میں جمہوریت کی عملداری آئین و قانون کی حکمرانی انصاف کی بلاامتیاز فراہمی اور جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے ہمیشہ فعال کردار ادا کیا ہے۔ میڈیا کو اپنے اس کردار کی ادائیگی کیلئے بالخصوص آمرانہ ادوار اقتدار میں کٹھنائیوں قدغنوں اشتہارات کی بندش اور سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑا۔ قید کوڑوں لاٹھی گولی سمیت مختلف سزائیں اور صعوبتیں بھی برداشت کیں مگر اظہار رائے کی آزادی پر کبھی مفاہمت نہیں کی ۔ایسے میں بعض کاروباری طبقات نے جائز ناجائز طریقے سے سمیٹے ہوئے اپنے دھن دولت کے زور پر پروفیشنلزم کی بنیاد پر استوار میڈیا انڈسٹری کو اپنے کالے دھن کے تحفظ کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنالیا اور اپنے اصل کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنے میڈیا گروپس بھی قائم کرلئے جن کے ماتحت انہوں نے حکومت اور ریاستی اداروں کو بلیک میل کرکے ان سے مفادات سمیٹنا اور اپنے کالے دھن پر جوابدہی سے خود کو مبرا سمجھنا شروع کر دیا۔ سابقہ حکومتوں کو بھی اسی صورتحال میں میڈیا کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے اور اس سے انکاری میڈیا گروپس کو اشتہارات اور کاغذ کے کوٹہ میں کٹوتی اور انکے واجبات کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر سزا دینے کا موقع ملنے لگا۔

اس صورتحال میں میڈیا کا موجودہ دور پروفیشنلزم کا دامن تھامنے والے میڈیا گروپ کیلئے کڑی آزمائش کا دور ہے جس سے گزرتے ہوئے انہیں اتنے زیادہ مالی مسائل کا سامنا کرنا پڑا کہ ان کا خود کو زندہ رکھنا بھی مشکل ہوگیا ۔اس کے باوجود قومی میڈیا بلاشبہ آج بھی جمہوری اقدار و روایات کے فروغ ملک میں آئین و انصاف کی حکمرانی اور راندہ درگاہ عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے بلاخوف و رغبت اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ اس تناظر میں وزیر اعظم کو میڈیا کو درپیش جن مسائل سے آگاہ کیا ہے انہیں حل کئے بغیر میڈیا کو زندہ نہیں رکھا جا سکتا۔ بے شک وزیراعظم نے بھی میڈیا سے متعلق مسائل پوری توجہ سے سنے اور انہیں حل کرنے کیلئے سابقہ ادوار حکومت کے جمع شدہ میڈیا کے بقایاجات کی ادائیگی سمیت تمام اقدامات بروئے کار لانے کا لائحہ عمل طے کرنے کا یقین دلایا ہے جس کیلئے انہوں مشورے بھی طلب کئے ہیں ۔

اسی طرح سرکاری اشتہاروں کو حکومتی مقاصد کے حصول کیلئے سابقہ حکمرانوں کی طرح بطور ہتھیار استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ماضی میں میڈیا کو اپنا دشمن سمجھنے کی سوچ سے ہی خرابیاں پیدا ہوتی رہی ہیں۔ اگر حکمران طبقات ایک اہم ریاستی ستون کی حیثیت سے میڈیا کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے قومی مفادات و مقاصد کیلئے اسکی معاونت حاصل کرنے کا کلچر پروان چڑھائیں تو یہی میڈیا تعمیرو استحکام وطن کیلئے حکومت کی ڈھال بنا نظر آئے۔ یہ امر واقع ہے کہ قومی میڈیا نے آئین پاکستان کے تحفظ اور اسکے ماتحت ملکی اور قومی مفادات کی وکالت و ترجمانی ہی کو ہمیشہ حرزِجاں بنایا ہے اور اس راہ میں ہاتھ قلم ہونے کی بھی کبھی پرواہ نہیں کی۔

حکمران بھی بہترین ملکی اور قومی مفادات کی ملکی اور عالمی سطح پر وکالت کیلئے میڈیا کو اپنا دوست بنائیں اور سمجھیں گے تو اس سے ملک کی بنیادیں مزید مضبوط بنانے میں ہی مدد ملے گی۔ موجودہ حکومت کو روایتی رطب اللسانوں کا دامن بہرصورت جھٹکنا اور پروفیشنلزم کا دامن تھامے ہوئے میڈیا گروپس کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی تاکہ قومی تعمیری صحافت اور اظہار رائے کی آزادی کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

Spread the love
  • 9
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں