امیدوں کے دشمن،نام نہاد دانشور

پاکستان


پاکستان بننے کے ساتھ ہی طاقتور طبقہ ملک کے تمام وسائل پر قابض ہو گیا اور آزادی کے مفہوم کو صرف اپنے لیے استحقاق سمجھ کر اس کی حفاظت کے لئے دوسرے عوامل کو اپنے ساتھ ملالیا۔

بادشاہ اگر ظالم کرپٹ اور بے انصاف بھی ہو تو اُس کے ساتھ جڑے ہوے دانشور ہمیشہ سے اُس کی درازی عمر کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔سادہ سی وجہ اس کی یہ ہے کہ نظام کے تابع فواہد حاصل کر رہے ہوتے ہیں ۔
اگر کبھی بادشاہ کو بیماری بھی آنے لگے یا اُس کے ظُلم کے شکار عوام اُس کے ظلم و ذیادتی اور بے انصافی پر آواز اُٹھانے کی ہمت اور کوشش بھی کریں تو بادشاہ سے پہلے یہ نمک خوار اکھٹے ہو کر اُس روشنی کو بجھانے میں لگ جاتے ہیں۔وجہ اس کی بالکل سادہ سی ہے ان حرام خورں کو بادشاہ سے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی نہ وہ اسے کوئی دل سے اچھا سمجھتے ہیں صرف اپنے مفادات ، چوری ،فراڈکو خطرہ سمجھ کر نظام کو بچانے میں لگ جاتے ہیں۔

پاکستان میں زرعی اصلات کی کوئی حد مقرر نہ تھی کیونکہ ہندوستان کی آزادی کے موقعہ سے بھی جب کانگرس اپنا منشور بنا رہی تھی تو ہندوستانی نمائندہ جواہر لال نہرو نے باقاعدہ اعلان کیا کہ جو بھی نئے ہندوستان میں رہے گا 12ایکٹر اراضی سے زیادہ ملکیت بحق سرکار ضبط ہو گئی کوئی راجہ /مہارجہ /ریاست باقی نہ رہے گی صرف ہندوستان ہوگا۔پاکستان بننے سے پہلے تمام بڑے جاگیرداروں اور نوابوں ،وڈیروں نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی اور ہندوستان سے آئے ہوئے نواب ،راجے اور ریاستی مالکان نے پاکستان کو اپنا مسکن بناکرتمام زمینیں بچالیں ہندوستان سے آئے ہوئے بڑے لوگ) کلیم( کی شکل میں یہاں سرکاری اور ہندووں کی چھوڑی ہوئی زمینوں پر قابض ہو گئے اور ملک شروع سے ہی زمین اور کاشت کار کی تفریق میں بٹ گیا۔

پاکستان میں یہی طبقہ اقتدار میں رہا اور عوام کے ووٹوں سے جِسے یہ جمہوریت کہتے تھے اور دنیا کے بہترین نظام کے نام پر اپنے ہی ملک پر قابض طبقے نے کمال مہارت سے ملک کے” دانشور” طبقے کوبھی اپنے کارنامے بیان کرنے کے لئے مراعات سے نوازنا شروع کر دیا۔ ملک کے نام نہاد دانشور جنہوں نے لفظوں کے معنی بدل دیے اور رات کو دن اور دن کو رات لکھتے اور ثابت کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں ایک سے بڑھ کر ایک مراثی میدان میں آکر اپنی ہی طرح کے غریبوں کو سبز باغ دکھانے شروع کر دیتے ہیں اور ملک لوٹنے والے چوروں / ٹھگوں کے ساتھی بن گئے۔بادشاہ وقت /قابظ طبقہ کے ایسے جوہر بیان کرنے شروع کر دیے جو ان نالائقوں کو خود بھی پتہ نہ تھا۔ اب سوال سب سے اہم ہے کہ چند سال پہلے عام سی زندگی بسر کر نے والے نام نہاد دانشور جرم میں ساتھی بن گئے اور اپنے عوام جن کا یہ کبھی حصہ تھے کے خلاف سازشوں میں لگ گئے اور اگر کبھی عوام کے کچھ طبقے نے تبدیلی کی خواہش کی تو یہی نام نہاد دانشوار تلواریں سونت کر بادشاہ کو بچانے آگئے اور ننگے ہوتے ہوئے بادشاہ کو بھی خلت سلطانی میں دکھاتے رہے او ر نجات دھندہ کے طور پر پیش کرتے رہے۔

کچھ ایسے لوگوں پر TV اور اخباروں میں دیکھتے اور پڑھتے تو لامحالہ غصہ بھی آتا ہے شرم بھی آتی ہے کہ یہ کیسے ڈھٹائی سے سے جھوٹ بولتے ہیں مگر ٹھہریے….

یہ خود نظام کا حصہ ہیں ایسے نظام کا جہاں صِرف استحصال غریب کا ہوتا ہے ریاست کے فرائض میں جان ومال کا تحفظ صحت اور تعلیم ہے مگر یہ عوام کو اپنے تجزیوں اور تحریروں سے Misguide کر کے فوائد حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔یہ ہے وہ بیماری جو ملک پاکستان میں نظام کو گرنے نہیں دیتی اور پاکستان کو کھوکھلا کر رہی ہے۔یہ نظام کو گرنے نہیں دینا چاہتے کیونکہ یہ خودBeneficiary ہیں۔70سال پہلے پاکستان بنا تھا کہ یہاں سب لوگ برابر ہو نگے مگرصد افسوس ہے یہ خواب اِن لوگوں نے چھین لیئے جن پر کچھ لوگوں کوگمان تھا کہ تعلیم روشنی ہے مگر دُکھ کی بات کرنا پڑرہی ہے کہ دنیا کو جتنا نقصان (جعلی تعلیم یافتہ) نے پہنچایا ہے اتنا ان پڑھوں نے نہیں پہنچایا۔

ملک پر قابض حکمران اشرافیہ نے وسائل کی فراوانی کی وجہ سے اپنے خاندان کے بچوں کو مہنگے اسکولوں میں پڑھا کر اہم عہدوں پر فائز کروا دیا۔ خود سیاست میں آکر اقتدار پر بیٹھ گئے اور یوں یہ پاکستان ایک ایسی کلب کی صورت اختیار کر گیا جہاں دو پاکستان بن گئے ایک ووٹ دینے والوں کا پاکستان اور دوسرا ووٹ لینے والوں کا پاکستان ،پھر آہستہ آہستہ جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا آنکھوں سے اوجھل ہو گیا صرف فرق یہ تھا کہ غریب پاکستانی جیسے آزاد پاکستان میں جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دی تھیں بے زمین لوگوں بے گھر لوگوں کو ایک انچ زمین نہ مل سکی۔ اور گورے انگریز اور ہندو کے بعدانہوں نے اپنے لوگوں کو غلام بنا دیا گیا۔ جہاں اس کے اچھوتوں کی طرح سکول الگ ، ہسپتال الگ،آبادیاں الگ، وسائل الگ ، انصاف الگ اور کم وبیش شودر کے نزدیک زندگی گزارنے لگا۔

1979 میں صدر ضیاء الحق عنان اقتدار سبھال کر اپنے بچاؤ کے لیے بڑے لوگوں کا انتخاب کیا اور انصاف کے نام پرملک میں کچھ کاروباری لوگوں پر ہاتھ رکھا اور حکومت کرنے کے لیے ایک ایسا Nexes تیار کیا جس پر صدیوں اس کی جان کو روتی رہیں گی اس مردمومن نے اور چھوٹے آدمی نے افغانستان میں روس کے خلاف امریکہ کی حمایت کی اور تاریخ میں نام لکھوانے کے زعم میں پاکستانی عوام پر اپنے نایاب ہیرے مسلط کر دیے جو آج تک عوام کا آخری قطرہ نچوڑ رہے ہیں۔تیسرے مرحلے پر جب ضیاء الحق کی روحانی اولاد تیار ہوئی تو وہ سرمایہ داروں زمینداروں،سرداروں،وزیروں سے زیادہ ذہین اور شاطر تھی انہوں نے ملک کی تمام انڈ سٹری کوآپس میں بانٹ لیا اور عوام کو مزدوروں کی شکل میں اپنے پاس رکھ لیا۔
آپ کمال دیکھے۔
اس وقت ملک میں دو گروپ جس میں تمام سرمایہ دار اور فیکٹری مالکان ،حکومتی زعما مستقل اقتدارمیں رہنے والوں نے ایکا کر کے عوام کو ایک ہی وقت میں ملازم اور دوسرے لمحے اپنا سامان بیچنے کے لئے گاہک بنا لیا اور نظام کو مستقل مضبوط کرنے کے لیے دانشور رکھ لیے۔

Spread the love
  • 3
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں