اپنی موت کا ڈرامہ کرنے والا مفرور مجرم فرانسیسی قلعے سے پکڑا گیا

موت کا ڈرامہ

اپنی موت کا ڈرامہ کرنے والے یوکرین کے ایک بھگوڑے کو فرانسیسی قلعے سے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی یوروپول نے  دیجون سے ایک ہائی پروفائل مجرم کو پکڑنے کا اعلان کیا تھا۔

حکام نے اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ حکام کو یقین ہے کہ منی لانڈرنگ اور فراڈ کے کئی کیسز کے پیچھے اسی شخص کا ہاتھ ہے۔

حکام نے اس شخص کو گرفتار کیا تو پہلے دن کے آخر تک اس کے قبضے سے 5.3 ملین ڈالر (4.6 ملین یورو) کے اثاثے ضبط کیے۔ اس سے قبضہ میں لیے گئے اثاثوں میں 12 ویں صدی کا رہائشی قلعہ، ایک قیمتی رولز رائس فینٹم۔ زیورات اور آرٹ کے 3 فن پارے شامل ہیں۔

یورو پول نے اس شخص کو “کنگ آف کیسل” کا خطاب دیا ہے۔ اس شخص نے حکام کو گمراہ کرنے کے لیے اپنی ہی موت کے جعلی سرٹیفیکیٹس بھی دکھائے۔

loading...

فرانسیسی حکام کو اس شخص پر شک قلعے کی خریداری کے لیے کی جانے والی مشتبہ ادائیگی کی وجہ ہوا۔ یہ قلعہ 3.5 ملین ڈالر (3 ملین یورو) میں لکسمبرگ کی ایک کمپنی نے خریدا تھا۔
لیکن اس کا بینیفیشل اونر یوکرین کا ایک شخص شہری تھا، جس پر یوکرین میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات تھے۔
پولیس نے لکسمبرگ اور یوکرین کے کیس میں شامل ہونے کی وجہ سے یورو پول کی مدد لی تو معلوم ہوا کہ یوکرین میں اپنی موت کا ڈراما کرنے والا شخص اس قلعے میں شاہانہ زندگی گزار رہا ہے۔
5 اکتوبر کو اس شخص کو تین ساتھیوں سمیت عالمی فراڈ اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔

یورو پول نے اگرچہ پکڑے جانے والے مجرم کی شناخت ظاہر نہیں کی لیکن یوکرین کے پروسیکیوٹر جنرل کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ فرانس کے ساتھ دیمترو مالینوسکی کی حوالگی کا مطالبہ کریں گے۔

دیمترو کا تعلق یوکرین کے پانچویں بڑے شہر اودیسا سے ہے۔ وہ بڑے فراڈ اور جعلسازی کے مقدموں میں تین سال سے یوکرین کی پولیس کو مطلوب ہے۔

Spread the love
  • 9
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں