ایف اے ٹی ایف کا منی لانڈرنگ کے حوالے سے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ

ایف اے ٹی ایف

اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایشیاء پیسفیک گروپ نے پاکستان سے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کردیا۔

پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے ایشیاء پیسفیک گروپ کے درمیان مذاکرات ڈیڑھ ہفتے تک اسلام آباد میں جاری رہے جو اب ختم ہوگئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفیک گروپ کے وفد نے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایشیا پیسفیک گروپ کے وفد نے آج صبح پاکستانی حکام سے اختتامی ملاقات کی جس میں وفد نے ابتدائی رپورٹ پاکستانی حکام کو پیش کی۔

loading...

ذرائع نے بتایاکہ ایشیا پیسفیک گروپ پہلی رپورٹ 19 نومبر تک پاکستان کو پیش کرے گا جب کہ گروپ نے مارچ یا اپریل 2019 میں دوبارہ پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایشیا پیسفیک گروپ نے جولائی 2019 میں پاکستان کے حوالے سے رپورٹ پبلک کرنے کا بھی فیصلہ کیاہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا بتانا ہےکہ منی ٹریل کی نشاندہی کے لیے مختلف اقدامات کی منظوری دی گئی ہے اور ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر ریگولیشنز 2018 میں ترمیم بھی کردی گئی ہے۔

واضح رہےکہ ایف اے ٹی ایف نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کی روک تھام میں ناکامی پر پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کررکھا ہے۔

وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ٹاسک فورس بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس میں حساس اداروں، نیب، اےاین ایف اور ایف آئی اے کے حکام شامل ہوں گے۔

Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں