وکلاء گردی :انصاف کا مفلوج نظام

جنرل سیکرٹری جی این شاہین

گوجرانوالہ میں لاہور ہائی کورٹ کا علاقائی بینچ بنانے کے مطالبہ کے حق میں چوتھے روز بھی ضلعی عدالتوں کی تالہ بندی جاری ہے ناکہ بندی سے انصاف کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ۔ چار روز میں آٹھ ہزار سے زائد مقدمات کی سماعت نہیں ہو سکی جبکہ عدالتوں کی تاکہ بندی کی وجہ سے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سائلین نے کہا کہ وہ انصاف کی امید پر عدالتوں میں آتے ہیں اور تالہ بندی کی وجہ سے انہیں آئندہ تاریخ بھی نہیں دی جاتی اور وہ واپس گھروں کو روانہ ہو جاتے ہیں جبکہ وکلا نے کہا کہ انصاف کو عوام کی دہلیز پر فراہمی کے لیے لاہور ہائی کورٹ کا علاقائی بینچ ضروری ہے۔

قبل ازیں فیصل آباد میں ڈپٹی کمشنر کو ایک سرکاری اجلاس کے دوران زبردستی سیٹ سے اٹھانے، انہیں دھکے دینے، ہاتھا پائی کرنے اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے والے وکلا کے خلاف کیا کارروائی ہو گی، ابھی معلوم نہیں۔ سرگودھا کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عتیق الرحمن کے کمر عدالت میں وکلا کا ایک ٹولہ جج صاحب کو سبق سکھانے کے لئے داخل ہوتا ہے،کیونکہ وہ قتل کے مقدمے میں گواہیاں قلمبند کرنے کا حکم جاری کرتے ہیں۔جج صاحب جان بچا کر اپنے چیمبر میں چلے جاتے ہیں، مگر وکلا کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ وہ عدالت کی کرسیاں اٹھا اٹھا کر زمین پر پٹختے ہیں اور ایک کرسی تو اٹھا کر جج صاحب کی کرسی پر دے مارتے ہیں۔گویا وکلا کی حربی کارروائیوں سے نہ تو انتظامی افسر محفوظ رہے ہیں اور نہ جج صاحبان، مگر پھر بھی ملک میں قانون کی حکمرانی کے دعوے جاری ہیں۔

کہا جا سکتا ہے کہ کالے کوٹ کی حکمرانی جاری ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس حکمرانی کا بال بھی بیکا کر سکے۔ کوئی چیف جسٹس آف پاکستان، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور ان کے ماتحت جج حضرات یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وہ کالے کوٹ والے وکلا کے دباؤ سے آزاد ہیں۔ کہیں نہ کہیں سب کے پر جلتے ہیں۔جب چیف جسٹس صاحبان علی الاعلان یہ کہیں گے کہ بار کونسلیں ان کی طاقت ہیں تو پھر اس طاقت پر غلبہ کیسے پایا جا سکتا ہے۔کوئی بتائے کہ ہمارے ہاں فوری انصاف کے جو خواب دکھائے جاتے ہیں۔وہ کیسے پورے ہو سکتے ہیں۔آپ ججوں کی تعداد فوری طور پر دوگنا بھی کر دیں تو انصاف پھر بھی نہیں ملے گا، کیونکہ انصاف کی باگیں تو وکلا کے ہاتھ میں ہیں۔صرف سپریم کورٹ کی سطح پرمعاملات قابو میں ہیں وگرنہ نچلی عدالتوں میں تو ان کا سکہ چلتا ہے۔ کسی جج نے ذرا سی اونچی آواز نکالی تو اس کی شامت آ گئی۔ہڑتال کا اعلان ہو گیا۔

ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو جو حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے، گریبان سے پکڑنے کی جرأت کون کر سکتا ہے، لیکن وکلا کے لئے یہ بائیں ہاتھ کا کھیل ہے،کیونکہ وہ جانتے ہیں ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہو گا، ہو گیا تو سنا نہیں جائے گا۔ سنا گیا تو جج خلاف فیصلہ نہیں دے سکے گا اور بالآخر وکلا کی شرائط پر صلح ہو جائے گی۔جب سے یہ رجحان بنا ہے کہ اپنے علاقے میں ہائی کورٹ کا بنچ بنوایا جائے، معاملہ اور بھی بگڑ گیا ہے۔اس کا فراہم کردہ انصاف سے زیادہ فکر معاش سے تعلق ہے۔

چھوٹے شہروں کے وکلا کی خواہش ہے کہ ان کے علاقے میں ہائی کورٹ بنچ بنے تاکہ وہ بھی مقدمات حاصل کر سکیں، اب لاہور کا گوجرانوالہ یا فیصل آباد سے کتنا فاصلہ ہے کہ وہاں ہائی کورٹ کے بنچ بنائے جائیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ علاقائی بنچوں میں بھی فیصلے سرعت کے ساتھ نہیں ہوتے، سالہا سال چلتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان بنچوں میں کم جج تعینات کئے جاتے ہیں، پھر وہ کچھ عرصے کے بعد تبدیل ہو جاتے ہیں۔نیا بنچ بنتا ہے تو اس کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، وہ مقدمے کو نئے سرے سے پڑھتا اور سنتا ہے۔ اکثر اوقات تو تاریخ ہی نہیں نکلتیلیکن وکلا کو اِن باتوں سے کوئی غرض نہیں، وہ ہائی کورٹ میں صرف اپنا کوٹہ چاہتے ہیں۔

غالباً اس کے لئے ان کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں ، اِس لئے احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔مثلًا فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژن کے کتنے کیس لاہور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں، ان کو ڈسپوز آف کرنے کی شرح کیا ہے۔ چیف جسٹس سے یہ درخواست کی جا سکتی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں اِن ڈویژنوں کے کیسوں کی سماعت کے لئے علیحدہ جج مقرر کئے جائیں، تاوقتیکہ علیحدہ بنچ قائم نہیں ہو جاتے، مگر اس پہلو پر وکلا کی کوئی توجہ نہیں۔ اگر مولانا خادم حسین رضوی سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ احتجاج کریں،مگر پرامن رہ کر، پھر وکلا کو اس ضابطہ کے تحت کیوں نہیں لایا جاسکتا۔ وکلا تو سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں گھس کر اینٹ سے اینٹ بجاتے ہیں۔ملتان میں کئی برسوں سے علیحدہ ہائی کورٹ کے لئے وکلا کا احتجاج جاری ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وکلا انصاف کے نظام کو بالخصوص اور ملک کے نظام کو بالعموم مفلوج کرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں بالخصوص جب سے افتخار محمد چودھری نے انہیں استعمال کر کے جنرل پرویز مشرف کو شکست دی ہے۔ یہ خود کو ملک کی سب سے بڑی طاقت سمجھنے لگے ہیں۔کیا ہی اچھا ہو کہ ریاست کا یہ طاقتور طبقہ اپنی طاقت کو مثبت انداز میں استعمال کرے۔ قائداعظم جیسا وکیل بننے کی کوشش کرے۔وکلا انصاف کی راہ میں رکاوٹیں نہ ڈالیں،بلکہ اسے پیغمبرانہ پیشہ سمجھ کر لوگوں کو انصاف دِلانے کا بیڑہ اٹھائیں۔معاشرے میں جو امیج بن چکا ہے اسے تبدیل کریں۔وکلا معاشرے کا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ ہیں، ان کی شرافت و متانت اور انصاف پسندی کی تو مثالیں دی جانی چاہئیں۔ چیف جسٹس بھی اپنے جذباتی خطابات میں انہیں کئی بار یہی تلقین کرچکے ہیں۔کیا وکلا اس پہلو پر توجہ دیں گے یا اپنے اسی تشخص کو برقرار رکھنا چاہیں گے، جو معاشرے کی نفرت کا ہدف بن چکا ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں