سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ:تعمیراتی شعبہ پریشان

سیمنٹ کی قیمت

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سیمنٹ کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ سیمنٹ ہر نوعیت کی تعمیرات کا ایک اہم اور کلیدی جزو ہے۔ جب اس کی قیمت بڑھے گی تو تعمیراتی کام چاہے حکومت کے ہوں یا عوام کے نجی بری طرح متاثر ہوں گے۔ جب تعمیراتی سرگرمیاں محدود ہو جائیں گی تو وہ تمام اجزا جو اس کا حصہ ہوتے ہیں بھی کم مانگ کا شکار ہو جائیں گے۔ مزدور کو مزدوری کے مواقع کم ملیں گے۔ لکڑی، لوہا، ریت بجری ہر ایک کی مانگ کم ہو جائے گی۔ اس طرح معیشت سست روی کا شکار ہو جائے گی۔

اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہو گا اور مہنگائی کے اثرات دوچند ہو جائیں گے۔ دوسری طرف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے منسوب یہ خبر آئی ہے کہ حکومت سے مذاکرات کے دوران فنڈ کی طرف سے مطالبہ ہوا ہے کہ ٹیکسوں کو بڑھایا جائے اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ جی ایس ٹی کی شرح میں اضافہ کر کے اسے 18 فیصد کر دیا جائے۔ ایک طرف صنعتیں بند پڑی ہیں۔ دوسری طرف قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ چولہے جلنے بجھنے لگے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ جی ایس ٹی میں اضافے کی شکل میں اکثر چیزوں کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔

اس کا نتیجہ غربت بڑھنے کے سوا کیا نکل سکتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حکومت جو عوام سے ووٹ لے کر آئی ہے اور بار بار ہر موقع پر یہ یاد بھی کرواتی رہتی ہے، عوام کی مشکلات کے بارے اس قدر غیر حساس ہے۔ اس کی وجہ حکومتی اکابرین کا اپنا اقتصادی پس منظر ہے۔ جب فیصلے کرنے والے ارب پتی، کروڑ پتی امراء، روسا ہوں تو کیا وہ ایک غریب پر اپنے فیصلوں کے اثرات کو سمجھ سکتے ہیں، یہ ناممکن ہے۔ ہر ماہ لاکھوں کمانے والا شخص کبھی یہ نہیں سمجھ سکتا کہ 18 ہزار روپے میں ایک خاندان کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔ پاکستان کی 99 فیصد سے زیادہ آبادی اور تعداد میں ایک فیصد سے بھی کم افراد میں کوئی قدر مشترک نہیں۔ جس روز یہ صورت حال بدل جائے گی اس روز فیصلوں کی نوعیت میں بنیادی تبدیلی آ جائے گی۔ اس ملک کے عوام کو اس تبدیلی کے لیے اورنہ جانے کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔

Spread the love
  • 11
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں