لاء کالجز کے الحاق پر پابندی عائد، صبح پان کی دکان چلانے اور شام کو لاء کرنے والے وکیل پیدا نہیں کرنے۔ چیف جسٹس

چیف جسٹس نے غیر معیاری لاء کالجز سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران تمام یونیورسٹیوں کو نئے لاء کالجز کے ساتھ الحاق پر پابند آئد کر دی۔

چیف جسٹس نے لاہور سپریم کورٹ رجسٹری میں سماعت کے دوران تمام یونیورسٹیوں کو نئے لاء کالجز کے ساتھ الحاق پر پابند آئد کر دی۔ اور تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو لاء کالجز کی صورت حال کے حوالے سے بیان حلفی جمع کروانے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایسے وکیل پیدا نہیں کرنے جو صبح پان کی دکان چلاتے ہوں اور شام کو لاء کی ڈگری لیتے ہیں۔  چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ این ٹی ایس سروس کا فائدہ جب امتحان نقل سے پاس کیے جاتے ہوں۔

تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاء کالجز کی ریفارمز کے لئے معروف قانون دان حامد خان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ شخصیات تو آتی جاتی رہتی ہیں،  ادارے قائم رہنے چاہیے ۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں