فیض آباد دھرناکیس: تین مقدمات میں خادم رضوی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

ہم تولبرل نہیں
loading...

تین مقدمات درج ٗدہشت گردی، پولیس پرتشدد، کارسرکار میں مداخلت سمیت دیگر سنگین نوعیت کی دفعات شامل

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس سے متعلق دیگر 3 مقدمات میں خادم حسین رضوی سمیت تین ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں اسلام آباد کے علاقے فیض آباد پر تحریک لبیک کی جانب سے دھرنا دیا گیا جو تقریباً 22 روز بعد ختم ہوا جبکہ اس دوران توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں پر حملے کے مقدمات بھی درج کیے گئے۔اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بار بار طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر گزشتہ روز پولیس خادم رضوی اور پیر افضل قادری کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

منگل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے فیض آباد دھرنے کے دوران پولیس چوکی پر حملے اور تشدد کے مقدمات کی سماعت کی جس میں تحریک لبیک کے خادم حسین رضوی سمیت تین ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔عدالت کی جانب سے تھانہ کھنہ میں درج تین مقدمات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، مقدمات میں دہشت گردی، پولیس پرتشدد، کارسرکار میں مداخلت سمیت دیگر سنگین نوعیت کی دفعات شامل ہیں۔

ان مقدمات میں خادم حسین رضوی، مولانا عنایت اللہ، ضیاء اللہ خیری اور شیخ اظہر تھانہ کھنہ پولیس کو مطلوب ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے ملزمان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیاہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں بھی فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی جس میں آئی ایس آئی کی جانب سے فیض آباد دھرنے کے حوالے سے 46 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں