ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان,ڈالر کی قدر میں 8 روپے کا اضافہ

ڈا لر

ڈالر کے انٹربینک ریٹ 110.50روپے سے بڑھ کر 118.50روپے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے ‘ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی خرید و فروخت بند کردی گئی
حالیہ ریکارڈ اضافے کے باعث صرف ایک روز میں قرضوں کا حجم 800 ارب روپے تک بڑھ گیا ، ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا: معاشی ماہرین
کراچی: ڈالر کو ایک بار پھر پر لگ گئے اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 8 روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔تفصیلات کے مطابق انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 8 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ڈالر کے انٹربینک ریٹ 110 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 118 روپے 50 پیسے کی نئی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے ہیں جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی خرید و فروخت ہی بند کردی گئی ہے۔مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پر بیرونی قرض کا حجم کم و بیش 89 ارب ڈالر ہے، ڈالر کی قدر میں حالیہ ریکارڈ اضافے کے باعث صرف ایک روز میں قرضوں کا حجم 800 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔ ڈالر کی قدر میں اس اضافے کے باعث ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے بیرونی قرض بڑھ گیا ہے اور 8 ہزار ایک سو ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔معاشی تجزیہ کار اسد رضوی کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار ہیں اور بیرونی قرض اور دیگر ادائیگوں پر ہفتہ وار 20 سے 25 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے۔معاشی تجزیہ کار مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ ڈالر کی اونچی اڑان کے بعد مہنگائی کا دور شروع ہوگا، گاڑیاں اور دیگر چیزیں مہنگی ہوں گی۔تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافے سے لوکل انڈسٹری کو سپورٹ ملے گی تاہم اس سے پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک گزشتہ کئی مہینوں سے پاکستان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ پاکستانی روپے کی قدر کم کرکے ڈالر کی شرح مبادلہ کو ’’حقیقت پسندانہ‘‘ بنایا جائے اور اسے 115 روپے کے لگ بھگ مقرر کیا جائے۔ اس حوالے سے ورلڈ بینک کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی، پاکستان کی معاشی نمو کیلیے مفید ثابت ہوگی

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں