پنجاب بھر کے افسران تعلقات عامہ کا ڈی جی پی آر کلرک یونین کی غنڈہ گردی پر شدید احتجاج

DGPR-AAJKAL
loading...

لاہور : تعلقات عامہ پنجاب کے دفتر میں یونین کے عہدیداروں کی غنڈہ گردی اورسینئر افسران کو تشدد کا نشانہ بنانے کے خلاف احتجاج اور اظہار مذمت کے لئے پنجاب بھر کے افسرانِ تعلقات عامہ ڈی جی پی آر ہیڈکوارٹر آفس پہنچ گئے

جہاں ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنزشاہد اقبال کی زیر صدارت منعقدہ مذمتی اجلاس میں افسران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس واقعہ کے ذمہ داران عناصر کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اجلاس میں متفقہ طور پرا علیٰ حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ڈی جی پی آر آفس کوکلرک یونین کے جرائم پیشہ عناصر سے پاک کریں تاکہ افسران و دیگر سٹاف پر امن ماحول میںیکسوئی سے سرکاری امور سرانجام دے سکیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پولیس انکوائری میں مجرم ثابت ہونے کی صورت میں صدر ڈی جی پی آر یونین تصور چوہدری کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔اجلاس کے بعد افسران کی چیف سیکرٹری پنجاب سے ملاقات کے لئے روانگی کے موقع پر یونین کے عہدیداروں اور ان کے ساتھیوں نے افسران پر ایک مرتبہ پھر حملہ کردیا اور سرکاری گاڑی کی ونڈسکرین توڑ دی ہو۔

افسران کو گندی اور غلیظ گالیاں دیں اور انہیں جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیں۔ افسران بمشکل اپنی جان بچاکر دفتر سے نکلنے میں کامیاب سکے۔ ڈی جی پی آر افسران بعدازاں سیکرٹری اطلاعات راجہ جہانگیر انورکو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے سیکرٹری اطلاعات کو بتایا کہ مناسب سیکیورٹی کی فراہمی کے بغیر ان کے لیے اب سرکاری امور کی انجام دہی ممکن نہیں رہی۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات نے افسران کو یقین دلایا کہ ڈی جی پی آر میں کسی شخص یا ادارے کو غنڈہ گردی اور افسران کو تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور بدقماش اور جرائم پیشہ سرکاری ملازمین کو یونین کا لبادہ اوڑ کر دفتر کے پرُامن ماحول کو خراب کرنے کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔

اعلی حکام نے تمام افسران کو یقین دلایا کہ سرکاری فرائض کی بلا تعطل انجام دہی کو یقینی بنانے کیلئے فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور اس کیلئے اضافی پولیس فورس کی تعینانی کا کام شروع کر دیا گیا ہے جبکہ سپیشل برانچ اور پرائیویٹ سکیورٹی ایجنسی کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔ افسران کو بتایا گیا کہ حکومت کیلئے افسران کی جان اور سرکاری ریکارڈکا تحفظ اولین ذمہ داری ہے اور اس معاملے پر قطعی طور پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ تصور چوہدری نے ڈائریکٹر الیکٹرانک میڈیا عابد نور بھٹی کے کمرے میں جا کر مار پیٹ کی اور اس دوران بلیڈ سے اپنے سر پر کٹ لگا کرڈائریکٹر الیکٹرانک میڈیا عابد نور بھٹی پر حملہ کرنے کا الزام لگا دیا

بعدازاں تصور چوہدری کے ساتھیوں نے دفتر میں ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑکی ، خواتین آفیسر ز کے ساتھ بدتمیزی اور نازیبا کلمات روا رکھے اورڈائریکٹر الیکٹرانک میڈیا عابد نور بھٹی کو ایک کمرے میں بند کر کے یرغمال بنا لیا جنہیں پولیس نے کارروائی کر کے اپنی حفاظت میں لے لیا۔پولیس حکام نے واقعہ کی فرانزک رپورٹ تیار کرلی ہے اور حقائق جاننے کے لئے فریقین کا پولی گرافک ٹیسٹ کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں