انسان اور خدا کا رشتہ

تحریر: زونیرہ شبیر

(پنڈیگھیب (اٹک

اور پھر اس نے کہا تم تو برباد ہو جاو گی تم نے اپنے اللہ سے گلہ کیا

میں مسکرائی اور میں نے کہا میں تو اپنے اللہ سے ناراض بھی ہوتی ہوں شکوہ بھی کرتی ہوں اور اکثر ضد بھی ۔۔ اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا

میں مسکرائی اور پوچھا

کیا تم کسی سے ناراض نہیں  ہوتے ؟ کیا تم کسی سے گلہ نہیں کرتے ؟ یا کوئی شکوہ نہیں ؟

لمحہ بھر رکے اور حیرت سے دیکھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا

میں نے مسکرا کر کہا کس سے اور کیوں ہے گلہ ؟

کہنے لگے دوستوں سے عزیزوں سے جب وہ میری سنتے نہیں تو میں ان سے ناراض ہوتا ہوں مگر پھر اپنا سمجھ کر سب کہ دیتا ہوں پھر سب ٹھیک ہو جاتا ہے ۔

میں مسکرائی اور دھیمے لہجے میں بولی

بالکل اسی طرح جب اللہ تعالیٰ میری سنتے نہیں تو میں انسے ناراض ہوتی ہوں تو وہ کہتے ہیں

‘جو میں مانگ رہی ہوں وہ میرے لئے سہی نہیں ہے ‘

تب میں ضد کرتی ہوں سہی کرنے والے بھی تو آپ ہی ہیں مجھے سہی کر کے دیں

پھر کبھی اگر کافی وقت گزر جانے کے بعد بھی مجھے مانگی ہوئی شے نہیں ملتی تو میں شکوہ کرتی ہوں تب جواب آتا ہے

“صبر سے رحمت کا انتظار کرو جو چیز تمہارے لئے ہے وہ تمہارے ہی لئے ہے بس دیر سے آنا کسی حکمت کی وجہ سے ہے اور بیشک تم اللہ کی حکمت کو نہیں سمجھتے”

مزید پڑھیں۔  راؤ انوار کون ہے؟

وہ کہتے ہیں نا جو ہماری قسمت میں ہوتا ہے وہ ہمیں مل کر ہی رہتا ہے  ۔ پھر چاہے وہ دو پہاڑوں کے درمیان ہی کیوں نا ہو لیکن جو ہماری قسمت میں نہیں ہوتا وہ نہیں ملتا پھر چاہے وہ دو ہونٹوں کے درمیان ہی کیوں نہ ہو۔لیکن اب ہم قسمت کے ڈر سے چپ تو نہیں بیٹھ سکتے نا۔

میرا خیال ہے اگر اللہ تعالیٰ نے سب کچھ قسمت میں ہی لکھ دیا ہوتا تو وہ انسان کو دعا مانگنا کیوں سکھاتا ؟

اور ہو سکتا ہے اللہ نے قسمت میں یہ لکھا ہو کہ میرا بندہ مجھ سے مانگے گا تو میں اسے عطا کروں گا۔

اور میرا ماننا تو یہ بھی ہے کہ اللہ سے سب بھی مانگو دل کھول کر مانگو اللہ سے مانگنا  ہے کسی انسان سے تھوڑا ہی ۔

میں تو سب اللہ سے ہی مانگتی ہوں پھر چاہے وہ کوہ کاف کے پہاڑوں کے درمیان ہی کیوں نہ ہو ۔ اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سب عطا کرتا ہے وہ خود فرماتا ہے ” مجھ سے مانگو میں عطا کروں گا ”

وہ تو اللہ ہے رحمان ہے وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔

کتنی عجیب بات ہے نا کہ جب ہم کسی انسان سے کچھ مانگتے ہیں تو وہ ہمیں دھتکار دیتا ہے لیکن جب ہم اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں تو وہ خوش ہو کر دگنا نوازتے ہیں اور کتنی ہی عجیب بات ہے نا کوئی انسان کسی کو کچھ نہیں دے سکتا اور دینے والی ذات تو صرف اللہ کی ہے ۔

مزید پڑھیں۔  شراب نوشی اور چند احتیاطی تدابیر

ہم اتنے عجیب انسان ہیں کہ دنیا اور دنیا والوں کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں جبکہ اللہ خود فرماتا ہے

‘ایک بار تو مجھے پکار کر تو دیکھ ساری دنیا کو تیرا نہ کر دوں تو کہنا’

ایک بار اللہ تعالیٰ سے دوستی کر کے دیکھو ایک بار اسے سچے دل سے پکار کر تو دیکھو وہ تمہاری پکار کا جواب دے گا اور ضرور دے گا اور پھر کسی انسان کی ضرورت ہی نہیں رہے گی .

انشاءاللہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں