الف اللہ اور انسان ۔ الف ہی وجود مطلق کی علامت۔

الف اللہ اور انسان

مذہبی اور دنیاوی مسائل پر بنایا گیا ہم ٹی وی کا ڈرامہ سیریل “الف اللہ اور انسان” مطلوبہ ریٹنگز اور پزیرائی اپنے نام کر کے ختم ہوگیا۔ سماجی بگاڑ اور معاشرتی الجھنوں میں پھنسے لوگ تشنگی اور مایوسی کی دلدل میں دھنستے جارہے ہیں۔

آج کے دور میں اخلاقی بُرائیاں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ اگر کوئی حق وسچ کی راہ میں چلنا چاہے تو اسے لوگ کملا، پگلا یا پھر دیوانہ سمجھتے ہیں۔

اگر “الف اللہ اور انسان” ڈرامہ دیکھیں تو اس میں بھی دیوانگی کا عنصر غالب نظر آئیگا۔ ایک مزار پر بیٹھے نواجوان شخص کو دیکھ کر کئی بار تو میری اپنی فیملی کے لوگوں نے اعتراض کیا اورکہا،

کیا یہ پاگل ہے، اس کی مت ماری گئی ہے۔ مرا بابا ہے اوریہ اس کی جگہ بابا بن گیا ہے۔

خاندان کے افراد کا شش و پنج اور اضطراب غلط بھی نا تھا۔ آج کے دور میں اتنا شیرجوان گھبروکسی کلب میں تودیکھا جاسکتا ہے۔ سڑکوں پر چمکتی گاڑیاں دڑاتا تو پایا جاسکتا ہے۔ لیکن ایک مزار پر اس خوبصورت گبرو جوان کی موجودگی ہی شائد دیکھنے والے کو متاثر کئے بغیر نا رہ سکی۔

ڈارمے کی کہانی اِس نوجوان کی آزمائشوں اور محبت میں ناکامی کی گرد گھومتی ہے۔ یہ نوجوان اپنی پریشانیوں کی رہنما ئی کسی ‘اللہ والے’ بزرگ سے حاصل کرنے کی خاطر ایک ولی اللہ کے مزار کا رُخ کرتا ہے۔

اس ڈرامہ میں مندرجہ ذیل حقیقی رنگ نظر آتے ہیں۔

1۔ اگر کوئی اچھا ہے تو ایسا نہیں کہ اس کے ساتھ کچھ برانہیں ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ ایسے شخص کو زیادہ آزمائے ۔

2 ۔ ڈرامے میں” الف سے اللہ اور الف سے انسان” کو ایک ربط کے ساتھ جوڑا ہے۔ ایک تشبیح ہے کہ انسان خود کو اللہ سے جدا کیوں سمجھتاہے۔ کیوں نہیں سمجھتا کہ اس کے اندر اللہ ہی کی روح ڈالی گئی ہے اور روح کی تسکین ہی اسے جینے کا مقصد اور قرب الہٰی دے سکتی ہے۔

خدارا! اپنے بچوں کو لنچ نہ دیں

یہ تسکین کسی شخص کی محبت کو حاصل کرنے میں یا اللہ کی مخلوق کی تکلیف دینے میں یا دولت شُہرت میں چھپی نہیں ہے۔ یہ صر ف و صرف اللہ کی رضا وقرب سے حاصل ہوتی ہے۔

ڈرامے کے اختتامی سین میں ہی مرکز ی خیال چھپا ہے۔ جب انسان کی روح اور جسم دنیا کی قید سے نکل کر قرب الہٰی سے آشنا ہوتی ہے۔ تو سکون ونور کے امبار آشکار ہوتے ہیں اور یہ صر ف اسی صور ت میں ممکن ہے۔ جب انسان غصہ ، فریب ،مکاری، جھوٹ وحسد، ضد جیسی برائیوں کو شکست دیتا ہے اور اللہ کی خوشنودی کوحاصل کرتے ہو ئے آگے بڑھتاہے ۔ پھر ہی وہ دنیا وآخرت میں سرخروہوتاہے۔

ہمارے  اعمال  آزمائش  کا  شکار  ہوں  یا  نفس  پرستی  کی  قید  میں  جکڑے  ہوں یا پھر خالقِ  حقیقی  کی  رضا  میں راضی رہنے میں کوشاں ہوں۔ یہی الفاظ گونجتے ہیں۔ کانوں میں جب جب ہم اللہ کے راستے کو اپناتے ہیں ۔ یہی  ٹکرا کر لوٹتے ہیں ضمیر کی طرف۔

اے ابن آدم ! ایک تیری چاہت ہے اور اک میر ی  چاہت۔ پر ہوگا وہی جو میری چاہت ہوگی۔

الف وجود مطلق کی علامت، اللہ اگر الف سے ہے توانسان بھی الف سے ہی بنتا ہے۔ یہی انسان کی حقیقت ہے۔

تو پھر دنیا میں کیا تیری، کیا میری کی جنگ کیوں؟

بابا بلھے شاہ کا فرمان

الف تُوں اگے کجھ نہ آیا،،

خواجہ غلام فرید نے اکھیا

ہکو الف مینوں بر مانوم ڑی

تتی بت موں نہ بھا نوم ڑی

اجر وہ ہی پاتا ہے جو نفرت کو نہیں بلکہ محبت کو اپنائے۔ جو اکڑے نا بلکہ درگزر کرے۔

عشق وقرب کی انتہا اور روح کا قرار الف سے بنائے گئے انسان کے لئے الف سے اللہ کی محبت اور قرار میں ہی پوشیدہ ہے۔۔

تحریر: خدیجہ چوہدری

(Visited 7 times, 1 visits today)
loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں