کوئلے کی کانیں یا موت کی وادیاں۔۔۔ اجمل شبیر

کوئلے کی کانیں
loading...

پاکستانی نیوز چینلز پر آئے دن یہ خبریں گردش کرتی نظر آتی ہیں کہ بلوچستان کے فلاں علاقے میں کوئلے کی کان منہدم ہو گئی اور اتنے کان کن جاں بحق ہو گئے۔ گزشتہ روز بھی کچھ ایسے ہی خبر سامنے آئی کہ کوہاٹ میں کوئلے کی کان منہدم، 9 کان کن جاں بحق۔ دوسری خبر تھی کہ کوہاٹ پولیس نے ایک مزدور کو بچا لیا۔ جب کہ تیسری خبر تھی کہ تمام کان کنوں کا تعلق ضلع شانگلہ سے تھا۔

نیوز چینلز پر بیٹھے کلرک صحافی بھی اس طرح کی خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ دو ایک مرتبہ ٹکر چلتے ہیں اور پھر اچانک بریکنگ نیوز آ جاتی ہے۔ سب جاں بحق کان کنوں کو بھول جاتے ہیں۔ عوام کا بھی یہی احوال ہے کہ وہ اس طرح کی خبر کو معمول کا حصہ سمجھتے ہیں۔ حکومت اور عدلیہ کا تو اس طرف دھیان ہی نہیں جاتا۔

بلوچستان کے کوئلے کی کانوں میں مسلسل اموات ہو رہی ہیں۔ ان کانوں میں جو مزدور کام کرتے ہیں ان میں سے اسی فی صد کان کن مزدوروں کا تعلق شانگلہ اور سوات کے آس پاس کے علاقوں سے ہے۔

سوات اور شانگلہ میں اس حوالے سے ایک محاورہ بھی زبان زد عام ہے کہ ہمارا بچہ جائے گا بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں کام کرے گا، پیسے بھیجے گا، جب پیسے آنا بند ہو جائیں گے تو وہ تابوت میں واپس آئے گا۔ یہ محاورہ افسانوی خیال نہیں بلکہ حقیقی صورت احوال کی عکاسی کرتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 2010ء سے 2018ء تک بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں 318 کان کن جاں بحق ہوئے۔ رواں سال بلوچستان میں ابھی تک 50 غریب کان کن جاں بحق ہو چکے ہیں۔

لورالائی کے علاقے دکی میں سب سے زیادہ کوئلہ نکالا جاتا ہے اور سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی یہیں ہوتی ہیں۔ اس ملک میں کان کے مالک کی حالت بادشاہوں جیسی ہے۔ وہ اربوں میں کھیلتا ہے اور محلات میں رہتا ہے لیکن کان کن بدنصیب مزدور کی حالت بد ترین ہے اور اس کا مقدر یہی ہے کہ اس نے کان میں خوف ناک صورت احوال میں مرنا ہی ہوتا ہے۔

معلوم نہیں اس سیکٹر پر حکومت، عدلیہ اور میڈیا والے توجہ کیوں نہیں دیتے۔ شاید وہ ان مزدوروں کو انسان ہی نہیں سمجھتے یا شاید یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو پیدا ہی مرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان کی کانوں میں کہیں نہ کہیں حادثہ ہوتا ہے۔

1923ء میں انگریز سرکار نے مائین ایکٹ بنایا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت ضروری ہے کہ کوئلہ کان کے نزدیک ہر وقت ایمبولینس موجود رہے۔ اس کے علاوہ کوئلہ کان کے نزدیک ایک ڈسپنسری اور کوالیفائیڈ ڈاکٹر کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ بھی ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ کان کنوں کے لیے پینے کا صاف پانی ہونا چاہیے لیکن ایسا کوئی انتظام کوئلہ کانوں کے قریب نظر نہیں آتا۔

ایکٹ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ کان کن آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کر سکتا لیکن اس سے دس سے بارہ گھنٹے تک کام کرایا جاتا ہے اور بے چارے مزدور کو اوور ٹائم کی مزدوری نہیں دی جاتی۔ میڈیا پر اس حوالے سے کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ سول سوسائٹی ان کان کنوں کی اموات اور ان کے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھاتی۔ شاید ان کو انسان نما جانور سمجھا جاتا ہے۔

یہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے جس پر میڈیا اور حکومت کو زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئلے کا کاروبار بہت بڑا کاروبار ہے۔ کوئلے کی کانوں کے مالک اربوں کماتے ہیں۔ کیا کبھی نیوز چینلز نے معلوم کیا کہ ان مزدوروں کو کتنی اجرت دی جاتی ہے؟ جی جناب کوئلہ کان کن کو ہر روز کے ایک ہزار روپے ملتے ہیں اور وہ بارہ گھنٹے کام کرتا ہے۔

شانگلہ، دیر اور سوات وغیرہ سے نوجوان مزدور آتے ہیں۔ یہ انتہائی غریب نوجوان ہوتے ہیں انھیں تین ہزار سے چار ہزار فٹ نیچے گہرائی میں جانا پڑتا ہے۔ ان کے لیے نیچے وینٹیلیشن کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ سانس بند ہوتی ہے اور مر جاتے ہیں۔

ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ غریب نوجوان مزدور صرف آٹھ سے دس سال تک کام کر سکتے ہیں کیونکہ اس کے بعد انہیں ٹی بی اور ہیپٹائیٹس جیسی امراض لاحق ہوجاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پچاس فیصد سے زائد مزدور ٹی بی جیسی موزی مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب کان کن مر جاتا ہے کسی حادثے کا شکار ہوجاتا ہے تو کوئلے کی کان کے مالک انھیں دو لاکھ معاوضہ دینے کا اعلان کرتے ہیں لیکن یہ معاوضہ لواحقین کو پانچ سے سات سال کے بعد جا کر ملتا ہے۔

اٹھارویں صدی میں کوئٹہ میں کوئلہ دریافت ہوا تھا۔ اس کے لیے انگریز سرکار نے مائین ایکٹ 1923ء میں بنایا تھا۔ آج تک اس ایکٹ میں اصلاحات نہیں کی گئیں اور نا ہی اس ایکٹ پر عمل کیا گیا ہے۔

حکومت اور لیبر ایسوسی ایشنز والے اس پر توجہ نہین دیتے۔ عدلیہ بھی ایسے معاملات پر سوموٹو نوٹسز لینے سے گھبراتی ہے یا ان کے لیے یہ انسانی المیہ اہم ہی نہیں ہے۔

یکم مئی یوم مزدور کو سیمینار ہوتے ہیں ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے لیکن کوئلہ کانوں میں کان کنوں کے مرنے کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔ کوئلے کی کانوں میں موت و حیات کے درمیان مسلسل مقابلہ ہے۔ موت ہمیشہ غریب مزدور کو شکست دے دیتی ہے۔ ہماری عدلیہ، حکومت اور میڈیا موت کا یہ رقص دیکھ رہے ہیں اور اسے روزانہ کا معمول سمجھتے ہیں۔

Spread the love
  • 1
    Share

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں