ارکان پارلیمنٹ کی دوہری شہریت کا مسئلہ

دوہری شہریت

سپریم کورٹ نے دوہری شہریت ثابت ہونے پر مسلم لیگ(ن)کے دو سینیٹروں کی رکنیت ختم کر دی ہے اور الیکشن کمیشن کو حکم دیاہے کہ وہ سعدیہ عباسی اور ہارون اختر خان کے نام ڈی نوٹیفائی کر دے، دونوں سینیٹر مارچ2018 کو سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے اور اگر انہیں رکنیت مکمل کرنے کا موقع ملتا تو وہ 2024 تک سینیٹ کے رکن رہتے،سپریم کورٹ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ غیر ملکی شہریت چھوڑ کر دوبارہ الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

سعدیہ عباسی کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ غیر ملکی شہریت چھوڑ چکی ہیں اور اس کا سرٹیفکیٹ بھی آ چکا تاہم جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ وہ کاغذاتِ نامزدگی داخل کئے جانے کے وقت امریکی شہری تھیں۔ سپریم کورٹ نے سینیٹر نزہت صادق اور سابق سینیٹر(موجودہ گورنر پنجاب) چودھری محمد سرور کے غیر ملکی شہریت چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ تصدیق کے لئے بھیجنے کا بھی حکم دیا ہے اور اِن دونوں کے متعلق مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی ہے۔

سپریم کورٹ اِس سے پہلے حکم دے چکی ہے کہ غیر ملکی شہریت کا حامل کوئی شخص عوامی عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا اور نہ ہی قومی اسمبلی،سینیٹ یا صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے۔ سابق وزیراعظم کو تو محض اقامے پر نا اہل کردیا گیا، شہریت تو پھر شہریت ہے۔ چودھری محمد سرور جب مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں پنجاب کے گورنر بنے تھے تو انہوں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ وہ برطانیہ کی شہریت چھوڑ چکے ہیں،گورنری چھوڑ کر وہ تحریک انصاف کی سیاست کرتے رہے اور مارچ2018 میں سینیٹر منتخب ہوئے تو ان کی دوہری شہریت کا معاملہ عدالت میں پہنچا، اِس دوران وہ سینیٹ کی ر کنیت سے مستعفی ہو کر دوبارہ پنجاب کے گورنر بن چکے ہیں اور ان کی چھوڑی ہوئی نشست پر ضمنی انتخاب بھی ہو چکا ہے تاہم اب عدالت ہی ان کی شہریت چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے بعد کوئی فیصلہ کرے گی،ان کے چھوٹے بھائی بھی2018 کا انتخاب لڑنا چاہتے تھے، لیکن دوہری شہریت ان کے بھی آڑے آ گئی اور ان کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہو گئے۔

اعلی سرکاری مناصب پر بہت سے ایسے افسر متعین رہ چکے ہیں اور شاید اب بھی ہوں،جن کے پاس دوہری شہریت رہی پاکستان میں ملازمتوں کی بخیر و خوبی تکمیل کے بعد ایسے افسر اپنی پسند کے دوسرے ممالک میں جا بسے اور وہاں ریٹائرمنٹ کے ایام اطمینان سے گزارنے لگے،پاکستان میں ماضی میں اعلی ترین سیاسی عہدوں پر بھی ایسے حضرات فائز رہے،جن کے پاس دوہری شہریت تھی ان میں کئی تو بہت ہی نامور تھے، آج بھی سیاست میں ایسے رہنما متحرک ہیں،جن کے پاس دوہری شہریت ہے، وہ اپنی سیاسی جماعتوں کے تو روحِ رواں ہیں،ان کے بغیر ان کی پارٹیوں کے اندر پتہ تو کیا کوئی انسان بھی جنبش نہیں کر سکتا،لیکن فنی وجوہ کی بنا پر وہ نہ تو اپنی جماعتوں کے سربراہ ہیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ایسا عہدہ ہے، جس پر وہ دوہرے شہری ہونے کی وجہ سے براجمان نہیں ہو سکتے۔یہ حضرات رہتے تو بیرون ملک ہیں،لیکن اپنی سہولت کے مطابق پاکستان آتے رہتے ہیں اور یہاں حالات کے مطابق اپنا مختصر کردار ادا کر کے سٹیج سے اتر جاتے اور واپس تشریف لے جاتے ہیں۔

ممکن ہے فنی طور پر ان کی یہ تمام سیاسی سرگرمیاں عین قانون کے مطابق ہوں،لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی اپنی جماعتوں میں تطہیر کی مہم شروع کریں اور دوہری شہریت کے حامل اپنے ارکان سے کہیں کہ بہتر ہے وہ ان ممالک میں جا کر سیاست کریں،جس کا انتخاب انہوں نے دوسرے وطن کے طور پر برضا و رغبت کیا ہے، پاکستان میں سیاست کا حق صرف ان لوگوں کو ہونا چاہئے جن کے پاس صرف اسی کی شہریت ہے اور جو پاکستان اور اس کے عوام کے دکھ سکھ کے وقت یہاں موجود رہتے ہیں،دوہری شہریت کی وجہ سے اور کچھ نہیں تو ملک سے محبت تقسیم ضرور ہو جاتی ہے،کیونکہ برطانیہ اور تاجِ برطانیہ سے وابستہ ممالک کے شہریوں کو ان ممالک کے لئے ہر قسم کی قربانیاں دینے کا حلف بھی اٹھانا پڑتا ہے، اسی طرح امریکی شہریت لیتے وقت کوئی شہری حلف اٹھاتا ہے کہ وہ اس کے لئے جان کی قربانی بھی پیش کرے گا، اِس لئے جو شخص اس ملک سے وفاداری کا حلف اٹھاتا ہے اور بیک وقت پاکستان کا شہری بھی ہے اگر اسے کسی وقت دونوں ممالک میں سے ایک کے ساتھ اظہارِ محبت کرنا پڑے تو وہ کِس کے ساتھ جائے گا،جس ملک میں وہ پل بڑھ کر جوان ہوا یا جس ملک کی شہریت اس نے بقائمی ہوش و حواس حاصل کی اور اس کے حصول کے وقت اس سے وفاداری کا حلف بھی اٹھایا؟ یہ معاملہ خود سیاسی جماعتوں کو نپٹانا چاہئے،کیونکہ دوہری شہریت کی وجہ سے جب کسی رکن پارلیمینٹ کی رکنیت منسوخ ہوتی ہے تو اِس کا نقصان بھی سیاسی جماعتوں کو ہوتا ہے۔

جن دو سینیٹروں کو سپریم کورٹ نے پارلیمینٹ کی رکنیت کے نااہل قرار دیا ہے انہیں تو معلوم ہی ہو گا کہ ان کے پاس دوہری شہریت ہے اِس لئے انہیں اپنی پارٹی کو حقیقتِ حال سے پوری طرح باخبر رکھنا چاہئے تھا تاکہ وہ انہیں ٹکٹ دیتے وقت اس پہلو کو مدِ نظر رکھتی،اگر انہوں نے پارٹی کو اِس ضمن میں اعتماد میں لے لیا تھا تو پھر پارٹی کا فرض تھا کہ وہ انہیں ٹکٹ جاری کرنے سے پہلے اِس امر کا اہتمام کرتی کہ وہ غیر ملکی شہریت سے دستبردار ہونے کا ثبوت پہلے پارٹی کو دیں تاکہ جب یہ معاملہ عدالت میں جائے تو پارٹی قانونی پوزیشن سے پوری طرح باخبر ہو۔اب دونوں سینیٹروں کی رکنیت ختم ہونے کا انہیں ذاتی طور پر نقصان تو ہوا ہی ہے، پارٹی کو بھی یوں نقصان ہوا ہے کہ وہ ان کی جگہ اپنے ارکان منتخب کرانے کی پوزیشن میں نہیں،کیونکہ جس ایوان نے انہیں منتخب کیا تھا وہ ختم ہو گیا اور اب پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کی اکثریت ہے جو ضمنی انتخاب میں اپنے دو ارکان منتخب کرا سکتی ہے،اسی طرح سینیٹ میں مسلم لیگ(ن) کی دو نشستیں بیٹھے بٹھائے کم ہو جائیں گی اور اگر کسی قانونی سقم کی وجہ سے سینیٹر نزہت صادق بھی نااہل ہو گئیں تو تیسری سیٹ بھی چلی جائے گی۔سیاسی جماعتیں ماضی میں ٹکٹ جاری کرتے وقت اِس پہلو کو زیادہ دھیان میں نہیں رکھتی رہیں اب اِس جانب سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی۔

Spread the love
  • 7
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں