اگر ظرفِ سماعت ہو

تجاوزات

(سجاد اظہر)

انسان ہمیشہ سے ہی تجسس کے پیچھے بھاگتا ہے کہ نئی نئی چیزوں کا مشاہدہ کرے۔ یہی سلسلہ ہمارے ملک پاکستان کا بھی ہے کہ لوگ اب تبدیلی کے خواہاں تھے نئی حکومت میں انہیں ایک محسن نظر آ رہا تھا کہ کوئی راتوں رات عوام کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا۔ عوام اپنا راستہ سیدھا کریں نہ کریں، رہنماء اکیلا ہی سب ٹھیک کر دے گا۔ عوام کو سیدھے راستے چلانے کے لیے حکومت نے ٹریفک کا قانون لاہور کی حد تک کافی بہتر کر دیا ہے اور کافی بہتری نظر آ رہی ہے کہ لوگ انسان کی آنکھ سے کم اور کیمرے کی آنکھ سے زیادہ ڈرتے نظر آئے۔ کچھ لوگوں نے تو اپنے موٹر سائیکل جلا دیے اور ایک رکشہ جلنے کی خبر پہنچی۔

ہزار روپے کا ہیلمٹ نہیں لیا، دو ہزار کا چالان کروا لیا اور دو ہزار کا چالان نہیں بھرا پچاس ہزار کی موٹر سائیکل جلا دی۔ اب غور طلب بات یہ بھی ہے کہ کون جانتے بوجھتے اپنا نقصان کرے گا اور اگر کوئی خود کا نقصا ن کرسکتا ہے قانون پر عمل نہ کرنے کے لیے تو وہ دوسروں کا بھی کر سکتا ہے۔ ایسے بندے کو بھی روڈ پر نہیں ہونا چاہیئے تو قانونی اصلاحات کی خاص کر جو انسانی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہوں خیر مقدم کرنا چاہیئے۔

اس کے بعد ذکر کرتے ہیں ہاؤسنگ پروجیکٹ کا، حکومت نے اعلان کیا ہے کہ غریب عوام کے لیے سستے گھروں کا جو آسان اقساط میں دستیاب ہونگے تو پاکستان میں سوائے خانہ بدوش قبائل کے تمام پاکستانی گھروں میں ہی رہتے ہیں چند سفید پوش لوگ جو کسی بے انصافی کا شکار ہو کر اپنا سب کچھ گنوا بیٹھے ہوں سڑک پر آگئے ہوں اور اگر گھر خریدنے کی سکت عوام میں ہوتی تو پہلے سے گھر بنا چکے ہوتے اور اگر اقساط جمع کرانے کی استطاعت نہیں ہے تو ایسے غریب کیا کریں گے۔

گھر کی ضرورت کے لیے سب سے پہلے لاوارث بچے بچیاں چنے جائیں جو کہ ایدھی سنٹرز میں اور یتیم خانوں میں رجسٹرڈ ہیں اور ان کی عمر اٹھارہ سے تیس سال تک ہو۔ اس کے بعد بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کو چنا جائے جن کو سچ میں چھت کی ضرورت ہوتی ہے اور کوئی سہارا بھی نہیں دیتا اس معا شرے میں۔ تو ان کے لیے گھر کی اقساط اتنی آ سان ہونی چاہئیں کہ وہ ادا کرسکیں اور مفت بھی ہونا چاہیئے اور ان کی رجسٹریشن نادرا اور ان کے ادارے سے کی جائے اور حکو متی نمائندے خود کریں کیونکہ ان افراد کے لیے تو ایک شناختی کارڈ تک بنوانا محال ہے تو گھر کے لیے یہ بھاگ دوڑ کیسے کر سکتے ہیں اور جب یہ افراد سائے میں آ جائیں تو پھر باقی عوام کو گھروں کے پروجیکٹ میں حصہ دیا جائے اور ان سے قیمت بھی وصول کی جائے۔ نہیں تو ہونا یہ ہے کہ جس کے ابو جی ذرا چلنے پھرنے والے ہونگے ان کے گھر کے ہر فرد کا گھر ہوگا اور جو سچ میں حق دار ہوگا وہ ویسے ہی پڑا رہے گا۔ کوئی سیاست چمکائے گا تو کوئی اپنو ں کو نواز دے گا۔

اس کے بعد ذکر کرتے ہیں عوام سے غیرقانونی اراضی چھڑوانے کی تو ہر طرف ایک تماشا لگا ہوا ہے۔ کسی کا گھر گرا دیا گیا تو کسی کی روزی مٹی میں مِلا دی گئی اور ایسی بے حسی سے یہ ظلم کیا جاتا ہے کہ جیسے بادشاہ وقت نے ان کے رہنے اور کھانے کا انتظام اپنے دربار میں کر رکھا ہو۔ اس ملک میں رہنے والے ہر پاکستانی کا اس پر حق ہے یہ ضروری نہیں کہ وہ طاقتور ہی ہو۔

لوگوں کی چھپڑوں میں لگی ہوئی دکانیں گرا دی گئی نہ کہ اسے کہا گیا کہ اس زمین پر آپ کا کاروبار ہے تو حکومت نے زمین گھر تو نہیں لے کے جانی، بیچنی ہی ہے تو کیوں نا آپ ہی خرید لیں؟ اور مناسب قیمت یا آسان اقساط پر اس زمین کے مالکانہ حقوق دے دیے جاتے تو میں سمجھتا کہ فلاح کا اور خیر کا کام کیا گیا۔

اب بات اصل یہ ہے کہ غریب آدمی کو مہنگی جگہ پر کون بیٹھنے دیتا ہے۔ یہ بیچارے چھوٹے چھو ٹے مقامات پر اپنی روزی کا اڈا بنا کر بیٹھے ہوتے ہیں اور مہنگی زمینوں پر ذرا لوگ بھی بڑے ہوتے ہیں تو گزارش یہ ہے کہ اس کام میں مختلف درجے بنائے جائیں کہ اگر رہائشی گھر ہے تو پہلے تو کوشش کی جائے کی جو رہ رہا ہے اسے ہی مالکانہ حقوق دے دیے جائیں اور اگر وہ نہیں خرید سکتا تو اسے بدلے میں گھر دے دیا جائے۔ ہاؤسنگ پروجیکٹ میں اور قبضہ دینے کے بعد قیمتی جگہ خالی کرا لی جائے۔

دوسرے نمبر پر آ تا ہے کاروباری پلاٹ یا جگہ۔ تو اس میں بھی دیکھا جائے کہ کسی کا روزگار نہ چھینا جائے یا تو اس جگہ کے مالکانہ حقوق دیے جائیں اور قیمت وصول کی جائے یا چھ مہینے کا نوٹس دیا جائے اور پھر کارروائی کی جائے اور بجائے مشین سے ہر چیز تہس نہس کرکے روندنے کے اس کو تسلی سے ڈیزائن کیا جائے۔

شہری اور دیہی آبادیوں میں جو زمین سرکاری پڑی ہوئی ہے اس کا سروے کروایا جائے پھر اس میں رہائشی اور کاروباری زمین کو الگ الگ کیا جائے پھر دیکھا جائے کہ اگر اس زمین پر ایک غریب اور ضرورت مند فرد ہے تو اس سے معقول قیمت وصول کر کے اس کو مالکانہ حقوق دیے جائیں اور اگر صاحب حیثیت فرد ہے تو اسے دوسرے درجے میں رکھا جائے اور اس عمل میں عوام کی فلاح ہو، انہیں اذیت میں مبتلا نہ کیا جائے۔ ایک طرف حکومتی نمائندے دعوے کر رہے ہیں کہ اتنے ہزار کنال جگہ خالی کروا لی تو کیا اس جگہ کو استعمال کرلیا؟ اس زمین کی قیمت خزانے میں جمع ہوئی اور حکومت کو کیا مالی فائدا ہوا؟ یا مزید وسائل ضائع ہوئے۔

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں