پہلے جیتنے والوں کی ہار اور ہارنے والوں کی جیت

ضمنی انتخابات

(محمد اعظم عظیم)

پچھلے دِنوں سے ملک بھر میں جو ضمنی انتخابات کی ہاہاکار مچی ہوئی تھی وہ پہلے مرحلے میں 14 اکتوبر کو مجموعی طور پر پرامن ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد ماند پڑ گئی ہے جبکہ 21 اکتوبر کو ضمنی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ البتہ چودہ اکتوبر کو ملک میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے اب تک کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق عام انتخابات میں بہت نہیں تو کم از کم تین اہم حلقوں میں جیتنے والوں کی ہار اور ہارنے والوں کی جیت ہوئی ہے اگرچہ ابھی حتمی (سرکاری) نتائج کا اعلان نہیں ہوا مگر آج ضمنی انتخابات میں جیتنے والے جشن اور ہارنے والے دھاندلی کی غمزدہ راگنی پر نوحہ کناں ہیں۔ دونوں جانب سے اپنے لحاظ سے نتائج پر اظہار خیال کا جیسا سلسلہ جاری ہے یہ بھی سب کے سا منے ہے۔

اس سے بھی انکار نہیں کہ رواں حکومت کو ضمنی انتخابات نے بڑے حیران کن اپ سیٹ دیے ہیں۔ جیسے پہلے جیت کر نشتیں چھوڑنے والے وزیراعظم عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر امیدوار ضمنی انتخابات میں ہار گئے ہیں اور 25 جولائی کے عام انتخابات میں ہارے ہوئے خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی کو ضمنی انتخابات میں اپنے مخالف سے ہزاروں کی لیڈ سے کامیابی ملی ہے۔ جو یہ ثابت کرتی ہے کہ آج رواں حکومت کے پہلے سو روزہ پروگرام سے ڈالرز کی اُونچی اُڑان اور بے لگام ہوتی مہنگائی سے عوام میں مایوسی پھیلی چکی ہے۔

آج ووٹرز نے سابق حکومت کے کارناموں، منصوبوں اور مہنگائی کا موازنہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے کفایت شعاری اور اقتصادی اعلان اور منوں دودھ دینے والی بھینسوں کی نیلامی، قیمتی گاڑیوں کی نیلامی اور 100 دن کے ابتدائی اقدامات اور اعلان سے کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کا ضمنی انتخابات میں نتیجہ یہ آیا ہے کہ عام انتخابات میں ن لیگ کے ہارے ہوئے بڑے بڑے برج پھر جیت گئے ہیں۔

اس طرح آج ووٹرز کا ن لیگ کے اُمیدواروں کی جھولی میں جیت کا تحفہ ڈالنا وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے لیے حیران کن ہونا چاہیئے۔ اَب حکومت کو ہر حال میں سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہیئے کہ آج کے بعد سے ایسا کیا کیا جائے کہ حکومت پر ووٹرز کا اعتماد بحال ہو اور بار بار یوٹرنز سے اجتناب کرتے ہوئے۔ اَب خالصتاً عوامی مفادات جیسے گیس کی بڑھی قیمتوں کو کم اور مہنگائی کو جلد از جلد نچلی سطح پر لانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی تو ممکن ہے کہ عوام کاحکومت پر اعتماد بحال ہوجائے ورنہ ؟ اب ایوان میں نمبرز گیم کے ساتھ مضبوط ہوتی اپوزیشن ایوانوں کے اندر اور باہر سے حکومت کو حقیقی معنوں میں لوہے کے چنے چبوا کر ہی دم لے گی۔

loading...

یقیناً اس موقع پر برسرِاقتدار جماعت پاکستان تحریک اِنصاف کو اپنی سو روزہ پالیسیوں کا ضرور موازنہ کرنا ہوگا۔ اسے سوچنا ہوگا کہ اس سے ضرور کچھ ایسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ جن کی وجہ سے اِس پر عوام کا اعتماد کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ اسے سوچنا چاہیئے کہ ابھی تو ابتداء ہے۔ حکومت کے سامنے پورے 4 سال 10 ماہ کا لمباعرصہ پڑاہے۔ اگر حکومت کی آئندہ بھی ایسی پالیسیاں رہیں جن کی وجہ سے عوام کا حکومت پر سے اعتماد ختم ہوتا رہا تو ایسے میں پی ٹی آئی کی حکومت سوچ لے کہ اِس کے لیے اپنی حکومتی مدت پوری کرنا مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔

بیشک اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں اپوزیشن کی زیادہ نشتوں پر کامیابی دراصل پی ٹی آئی کی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اب ایوان میں خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی اور دیگر ن لیگ والوں کا قدم رنجا فرمانا وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بنا رہے گا کیوںکہ خواجہ سعد رفیق اور شاہد خان عباسی نائب نوازشریف ہیں۔ نواز شریف جیسا سوچتے ہیں، جیسا کہنا چاہتے ہیں۔ وہ خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی سے کہلوا دیتے ہیں۔ غرض یہ کہ خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی کی شکل میں نوازشریف جسمانی نہیں تو کم از کم روحانی طور پر ایوان میں ضرور داخل ہوچکے ہیں۔

آج حکومت کے سامنے اس کے سوا کوئی متبادل نہیں کہ حکومت کو اپنی پچاس پچپن دنوں کی کارکردگی اور گڈگورنس کا احتساب کرتے ہوئے اپنی عوام دوست پالیسیاں مرتب کرنی لازمی ہوگئی ہیں تاکہ عوام اور حکومت کا اعتماد کا رشتہ بحال رہے اور وفاق سمیت صوبوں میں اپوزیشن اپنے نمبرز گیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے۔ اگر حکومت کے خلاف عوام کو اکسا کر کسی قسم کی تحریک کو ہوا دیں تو عوام اس کی آواز پر لبیک کہنے سے پہلے حکومت کی جانب دیکھیں۔ ناکہ اپوزیشن کے ایک اشارے پر حکومت کے خلاف روڈ پر نکل جائیں۔

ان سطور کے رقم کرنے تک ضمنی انتخابات کے غیرحتمی غیرسرکاری جیسے نتائج سامنے آئے ہیں اس کے مطابق ضمنی انتخابات میں زیادہ تر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کی اچھی خاصی مارجن سے جیت نے واضح کر دیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے اپنے پہلے سو دنوں میں عوام میں اپنا اعتماد کھو دیا ہے۔ یہیں سے موجودہ حکومت کے لیے امتحانات اور نئے چیلنجز کے نئے دریچے کھل گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان سے کس طرح نبرد آزما ہوتی ہے اور عوام میں اپنا کھویا ہوا اعتماد کب اور کتنا بحال کروانے میں کامیاب ہوتی ہے۔

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں