بوڑھے ماں باپ کو اُف تک نہ کرو ……. 2

ماں باپ

حصہ اول کے لیے یہاں کلک کریں:
بوڑھے ماں باپ کو اُف تک نہ کرو …1

چند واقعات :

جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ بوڑھے ماں باپ سے اوبچی آواز میں بولنا بھی گناہ کبیرہ ہے لیکن آج کے دور میں یہ سب عام بات ہو چکی ہے
1. ایک مرتبہ ایک والد نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ بیٹا وہ سامنے دیوار پہ کیا ہے ؟ تو اس کے بیٹے نے جواب دیا کہ بابا وہاں کوا بیٹھا ہے ۔ بوڑھے باپ نے پھر پوچھا کہ بیٹھا دیوار پہ کیا ہے ؟ اس نے پھر بتایا کہ کوا ہے تیسری بار بوڑھے باپ نے پھر پوچھا کہ دیوار پہ کیا ہے ؟ اس بار بیٹے نے غصے سے کہا بابا بتایا تو ہے کہ دیوار پہ کوا بیٹھا ہےآپ کوسمجھ نہیں آتی ۔ تو بوڑھا باپ مسکرانے لگااور آنکھوں میں نمی بھر کر بولا : بیٹا میں جانتا ہوں وہاں دیوار پہ کوا بیٹھا ہے لیکن جب تم چھوٹے سے اور اسی طرح دیوار پہ ایک کوا آ کر بیٹھا تھا تب تم نے مجھ سے دس بار پوچھا تھا کہ بابا وہ کیا ہے تو میں نے دس بار تمہیں پیار سے بتایا تھا کہ بیٹا دیوار پہ کوا بیٹھا ہے ۔

اولاد کبھی سوچتی ہی نہیں کہ یہ وہی ماں باپ ہیں جنہوں نے انہیں بچپن میں چلنا سکھایا آج وہ کمزور ہیں ان میں چلنے کی اب طاقت نہیں رہی اب ہمیں اسی طرح ان کی مدد کرنی چاہئے ۔ لیکن یہ ماں باپ ہی ہوتے ہیں جو اولاد کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتے اپنی نیندیں خراب کر کے اولاد کی نیند کی پرواہ کرتے ہیں اپنی خواہشات تو کیا ضروریات بھی چھوڑ دیتے ہیں لیکن اولاد کا ہر خواب پورا کرتے ہیں ۔ بوڑھے والدین کو اولڈ ہاوس میں جا کر چھوڑ آنا اب عام سا ہو گیا ہے ۔ اور یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ والدین جو بچوں کو اس دنیا میں لے کر آتے ہیں انہیں ان کے ہی گھر سے نکال دیا جاتا ہے ۔
2. ایک مرتبہ ایک شخص اپنی بوڑھی ماں کو اولڈ ہاوس میں رہنے کے لیئے چھوڑ آیا اور اپنا نمبر دے آیا کہ اگر ماں مرنے لگی تو مجھے اطلاع کر دینا خیر اس بوڑھی ماں کے مرنے کا وقت قریب آ گیا اس کے بیٹے کو فون کیا گیا کہ آپ کی ماں کی حالت تشویشناک ہے اور لگتا ہے وہ اب مرنے کے قریب ہیں ۔ تب اس بوڑھی کا بیٹا آیا اور آتے ہی سوال کیا کہ ماں آپ کی کوئی آخری خواہش ہو بتائیے تا کہ میں وہ پوری کر سکوں ۔
بوڑھی ماں کی آنکھیں نم ہوئیں اور بولی بیٹا یہاں اس اولڈ ہاوس کے پنکھے خراب ہیں تو اگر ہو سکے تو یہاں کہ پنکھے ٹھیک کروا دینا کہ یہاں گرمی بہت ہے ۔ بیٹا حیران ہوا اور بولا کہ ماں اب کیا فائدہ اب تو تُو مرنے والی ہے پہلے بتا دیتی تو میں پہلے ٹھیک کروا دیتا تو تمہیں بھی اس کا کچھ فائدہ ہو جاتا ۔ تو اس بوڑھی ماں نے کہا کہ نہیں بیٹا مجھے پنکھوں کی ضرورت ہی نہیں ہے میں تو اس وقت کے لیئے کہ رہی ہوں کہ جب تو بوڑھا ہو جائے گا اور تیری اولاد تجھے یہاں چھوڑ جائے گی تو تُو یہ گرمی کیسے برداشت کرے گا بس مجھے اس وقت سے ڈر لگ رہا ہے ۔ مجھے یہ پنکھے اپنے لیئے نہیں بلکہ تمہارے لیئے چاہیئیں ۔

3. ایک مرتبہ ایک بوڑھا آدمی اپنا موبائل اٹھا کر ایک دکان پر گیا اور دکان والے یعنی موبائل ٹھیک کرنے والے سے بولا کہ بیٹا ذرا میرا فون تو ٹھیک کر دو یہ خراب ہو گیا ہے ۔ اس دکان والے نے بابا جی کا موبائل دیکھا اور بتایا کہ بابا جی یہ فون تو بالکل ٹھیک ہے بابا جی نے پھر کہا کہ نہیں بیٹا ذرا غور سے دیکھنا یہ خراب ہے ۔ اس آدمی نے پھر دیکھا اور بتایا کہ بابا جی آپ کا فون بالکل ٹھیک ہے اس میں کوئی خرابی نہیں ہے ۔ یہ سن کر بابا جی کی آنکھیں آنسووّں سے بھر گئیں اور بولے کہ بیٹا اگر یہ موبائل فون ٹھیک ہے تو پھر اس میں سے آواز کیوں نہیں آتی میرے بیٹے مجھے کال کیوں نہیں کرتے میں ہر روز چوبیس گھنٹے اسے کان کے ساتھ لگائے رکھتا ہوں کہ کبھی تو میرے بیٹے مجھے کال کریں گے اور کبھی تو ان کی آواز آئے گی مگر اس میں سے آواز نہیں آتی ۔ ۔ ۔ اور پھر وہ رونے لگے ۔۔

اگر دیکھا جائے تو یہی سب سے خوبصورت افضل سچا اور بہترین رشتہ ہے یہی ماں باپ ہمارے لئے اتنا کچھ کرتے ہیں لیکن بدلے میں کچھ نہیں مانگتے ۔
ایک بات بتائیں اگر آپ کے پاس کچھ نا ہو حتی کہ رہنے کے لیئے ایک گھر تک نا ہو اور پھر ایک دن اچانک آپ کو ایک خوبصورت محل نما گھر دیا جائے اور آپ انتہائی خوشی کے عالم میں محل کے اندر جانا چاہیں اور پھر آپ کو پتہ چلے کہ اوو ہو محل کا تو دروازہ ہی بند ہے وہ کھل نہیں سکتا لیکن وہ محل آپ کا ہی ہے تو پھر ایسے محل کا کیا فائدہ ۔۔ ؟
اسی طرح ماں کے پیروں تلے جنت ہے اور باپ جنت کا دروازہ ہے ۔۔۔ اگر ماں ناراض ہو جائے تو جنت کی خواہش ہی بیکار ہے اور اگر باپ راضی نہیں تو پھر اس جنت کا کیا فائدہ جسکا دروازہ ہی بند ہو ۔
والدین اپنے بچوں کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتے ہیں لیکن جب وہ خود چل نہیں سکتے تو اولاد انہیں بیساکھی پکڑا کر چلنے پہ مجبور کر دیتی ہے ۔
اور باپ تو وہ ہستی ہے کہ جس کے پسینے کی ایک بوند کا حساب بھی کبھی اولاد نہیں دے سکتی لیکن وہ باپ جب بوڑھا ہو جاتا ہے تو اولاد اسے گھر سے نکال دیتی ہے ۔ ایک بوڑھا کمزور باپ اپنا زیادہ وقت گھر سے باہر رہ کر گزارتا ہے ۔ گھر میں بچے کوئی اہم بات کر رہے ہیں لیکن باپ ان کے ساتھ نہیں بیٹھتا یا خاموش رہتا ہے کیوں ۔۔۔ ؟ اس لیئے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس گھر میں اس کی کوئی اہمیت نہیں اسکی بات کی کوئی قدر نہیں ۔

آج کل کے بچے اپنے ماں باپ سے بے خبر اپنی ہی دنیا میں مگن زندگی گزار رہے ہیں اک بیٹا جو ہزاروں کا لنج اور ڈنر دوستوں کو کھلا دیتا ہے اسے یہ تک نہیں پتہ ہوتا کہ میری ماں کی دوائی ختم ہے اور ماں یہ سوچتی رہتی ہے کہ وہ اپنے بچے کو کیسے کہے کہ اس کی دوائی ختم ہو چکی ہے اور اس کے جوڑ اب درد کرنے لگے ہیں وہ ماں جو اپنے منہ کا نوالہ بھی اولاد کے منہ میں ڈال دیتی ہے وہ آج اپنی دوائی کے لیئے بھی اولاد کو کچھ نہیں بتاتی ۔

4. ایک مرتبہ ایک نوجوان شخص کام سے واپسی پر تھکا ہارا گھر لوٹا تو سیدھا جا کر اپنے کمرے میں لیٹ گیا اتنے میں اس کا باپ بیٹے سے ملنے اس کے کمرے میں آیا تو بیٹے نے باپ کو دیکھتے ہی عجیب شکل بنائی اور اپنی تھکاوٹ اور بے چینی ظاہر کی اسکا بوڑھا باپ وہیں سے باہر نکل گیا پھر اس شخص کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی تو وہ فورًا اٹھ کر بیٹھ گیا اور باتیں کرنے لگا پھر اپنے بچوں سے ملا تو اسے احساس ہوا کہ جیسے میری ساری تھکاوٹ اپنے بچوں کو دیکھتے ہی دور ہو گئی اس طرح میرے بابا بھی مجھ سے ملنے آئے تھے اس نے فورًا بچوں کو چھوڑا اور اپنے بوڑھے باپ کے پاس چلا گیا اور باپ کے گلے لگ کر رونے اور معافی مانگنے لگا۔

والدین تو اتنے عظیم ہوتے ہیں کہ اولاد کچھ بھی کر لے کتنی ہی غلطیاں اور کوتاہیاں ہی کیوں نا کر لے بس ایک بار معافی مانگنے سے وہ سب بھول جاتے ہیں انہیں یاد رہتا ہے تو بس یہ کہ ہمارے بچے ہماری قدد اور عزت کرتے ہیں ۔ اولاد اپنے ماں باپ کو کچھ دینے کے قابل ہی کہاں ہوتے ہیں وہ تو بس تھوڑا سا وقت چاہتے ہیں اپنے بچوں کی توجہ چاہتے ہیں اور بھلائی تو اس میں بھی اولاد کی ہی ہوتی ہے ڈھیروں دعائیں اور کامیابیاں ۔
کہتے ہیں اس دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں جن کی وجہ سے یہ دنیا قائم ہے ۔ یہ بات بالکل درست ہے ۔ اس دنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اپنے جنت یعنی ماں اور جنت کے دروازے یعنی باپ کی عزت اور قدد کرتے ہیں ۔

5. ایک بار ایک شخص کام سے واپس آیا تو اس کی بیوی نے اس کے سامنے کھانا رکھا تو اس نے کہا کہ آج دہی نہیں ہے ؟ تو اس کی بیوی نے بتایا کہ نہیں آج تو دہی نہیں ہے ۔ کہنے لگا ماں آپ دہی لادیں نیچے والی دکان سے ۔ اس شخص کی بیوی کہنے لگی آج تم ایسے ہی کھانا کھا لو ۔ کہنے لگا نہیں دہی کے بغیر مزح نہیں آتا پھر ماں سے بولا پلیز ماں لا دیجیئے نا ۔ اس شخص کی بیوی نے پھر کہا اچھا چلو علی ( انکا بیٹا ) لا دیتا ہے لیکن اس نے کہا نہیں علی کارٹوں دیکھ رہا ہے ۔ تب اس کی بوڑھی ماں اٹھی اور آہستہ قدموں کے ساتھ دہی لینے چلی گئی ۔ اس شخص کی بیوی نے کہا آپ نے ماں کو کیوں تکلیف دی آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا اس عمر میں اتنا جڑھنا اترنا آسان نہیں لگتا ؟ تو اس شخص نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نے ماں کو چلنے کے لیئے کہا ہے اپنے لیئے تو نہیں لیکن میرے لئے تو کریں گی ۔ اور پھر وہ دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا اور ماں کا انتظار کرنے لگا اتنے میں ماں واپس آ گئی تو اس نے ماں کو بٹھایا اور پانی کا گلاس تھمایا تب اسکی ماں نے کہا بیٹا مجھے تیری ساری چلاکیاں پتہ ہیں میں جانتی ہوں تو نے مجھے اس لیئے دہی لانے کا کہا تاکہ میں تھوڑا چل پھر سکوں ۔۔

اوپر بتائی گئی ان ساری آیات ، احادیث مبارکہ اور مختلف واقعات سے صاف طور پر والدین کی عظمت اجاگر ہو جاتی ہے کہ اسلام میں والدین کی کیا اہمیت ہے ۔ اور ہم سب یہ بات جانتے بھی ہیں کہ والدین کی عظمت کیا ہے لیکن افسوس کہ پھر بھی والدین کو دکھ تکالیف اور آنسو دیتے ہیں انہیں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں ۔
والدین اولاد کو پالتے پوستے ہیں انہں چلنا سکھاتے ہیں انہیں پڑھاتے لکھاتے ہیں شعور دیتے ہیں زندگی میں جینے کے طریقے سکھاتے ہیں لیکن وہی ماں باپ جب تھوڑے کمزور ہوتے ہیں تو اولاد انہیں بوجھ سمجھنے لگ جاتی ہے لیکن والدین ہی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں ۔ انہیں سے زندگی میں رونق اور بہاریں ہوتی ہیں ۔
کسی نے بہت خوبصورت بات کہی ہے کہ :
” خواہشات تو والدین کے پیسوں سے پوری ہوتی ہیں اپنے پیسوں سے تو بس بمشکل ضروریات ہی پوری ہو پاتی ہیں ”
آخر میں میں بس اتنا ہی کہوں گی کہ
” والدین کی عظمت کو میرا سلام “

(ختم شد)
زونیرہ شبیر
پنڈیگھیب ،اٹک

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

بوڑھے ماں باپ کو اُف تک نہ کرو ……. 2” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں