مردوں کی کمر پر دانتوں سے کاٹ کر علاج کرنے والی جعلی پیرنی

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایسے جعلی عامل اور ڈبے پیر پائے جاتے ہیں جو عوام کی سادگی کا فائدہ اٹھا کر انہیں نہ صرف غلط کاموں پر مائل کرلیتے ہیں بلکہ عوام کو لوٹنے کے نت نئے طریقے بھی اپنا لیتے ہیں۔

مثال کے طور پر وہاڑی کے نواحی علاقے میں ایک پریوں والا پیر سامنے آیا تھا جو ہر شخص کا پریوں اور جنات کے ذریعے علاج کیا کرتا تھا اور اس کام کی اچھی خاصی فیس بھی وصول کرتا تھا۔

لیکن جب حقیقت کھلی تو یہ بات سامنے آئی کہ پریوں والا پیر دراصل نائی کا کام کرتا تھا اور بہتر روزگار نہ ہونے کے باعث لوگوں کو بیوقوف بنانے کا کام شروع کردیا تھا۔

سادہ لوح عوام کو یہ پیر کس طرح بیوقوف بناتے ہیں اس کا اندازہ 10 سے 12 سال پہلے خانیوال میں پیش آنے والے واقعے سے بھی لگایا جاسکتا ہے جب جعلی پیر گندے نالے میں اتر گیا اور اپنے 100 کے قریب مریدین کو بھی پہلے تو اچھی طرح گندے پانی میں نہلایا اس کے بعد انہیں یہ پانی بھی پلاتا رہا ۔

سرگودھا میں پیش آنے والا واقعہ زیادہ پرانا نہیں ہے جہاں ایک جعلی پیر نے اپنے 20 مرید ڈنڈوں کے وار سے قتل کردیے۔ مریدین اپنے پیر کا تشدد اس لیے برداشت کرتے رہے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ان کا پیر انہیں دوبارہ زندہ کردے گا۔ موت کا یہ خوفناک کھیل پوری رات چلتا رہا ۔

مرد پیروں کی جانب سے تو لوگوں بالخصوص خواتین کو بیوقوف بنایا ہی جاتا ہے لیکن اب مارکیٹ میں ایک پیرنی بھی آدھمکی ہے جو مردوں کی کمر پر اپنے دانتوں سے کاٹ کر ان کے گردے کی پتھری کا علاج کرتی ہے۔

سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے ایک جوگن بنی خاتون میڈیکل سائنس کے تمام اصولوں کو بے کار ثابت کر رہی ہے۔ خاتون اپنے علاقے میں گردوں کے علاج کے حوالے سے مشہور ہے ۔ گردے کی پتھری کے مریض اس پیرنی کے پاس آتے اوراپنا علاج کراتے ہیں۔

جعلی پیرنی

اس خاتون کا طریقہ علاج یا طریقہ واردات بھی بہت منفرد ہے۔ یہ لوگوں کو لٹا کر ان کی کمر سے کپڑا ہٹا دیتی ہے جس کے بعد کمر پر ہاتھ رکھ کر کچھ ٹٹولتی یا پتھریوں کی تعداد کا اندازہ لگاتی ہے جس کے بعد کمر پر اپنے دانتوں سے کاٹتی ہے اور مبینہ طور پر گردوں کی پتھریاں نکال کر پاس موجود پانی میں ڈال دیتی ہے۔

جہالت ، کم علمی یا علاج معالجے کیلئے وسائل کی کمی کے باعث بہت سے لوگ اس طرح کے پیروں اور جعلسازوں کے بہکاوے میں آکر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لٹا دیتے ہیں۔

 کئی سال سے متواتر جعل سازی کے متعدد واقعات سامنے آنے کے باوجود حکومتی سطح پر ان جعلی عاملوں اور ڈبہ پیروں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر بھی نہیں ہیں۔

Spread the love
  • 19
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں