آزادی اظہار کے نام پر سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیئے، وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے دو روزہ بین الاقوامی رحمت اللعالمین ﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مذہب کی ہتک کے خلاف بین الاقوامی قرارداد لے کر آئے گا۔

آزادی اظہار کی آڑ لے کر دنیا کے سوا ارب مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچائی جاسکتی۔ وفاقی حکومت کے زیر اہتمام کانفرنس میں سعودی عرب، عراق، ایران اور دیگر ممالک سے آنے والے مہمانوں کے علاوہ علما و مشائخ کی بڑی تعداد موجود تھی۔

وزیراعظم نے کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کے دوران کہا کہ اللہ نے انسان کو ایک مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رحمت للعالمین کا خطاب دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہر چند سالوں بعد مغربی ممالک میں نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں انہیں اس عمل سے روکنے کے لیے ‘انٹرنیشنل کنونشن آن پریوینٹنگ دی ڈیفرمیشن آف رلیجنز’ کنونشن لے کر آرہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ مختلف ممالک سے اس کنونشن پر دستخط کرائیں گے کہ آزادی اظہار کے نام یا اس کی آڑ لے کر سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف نہیں پہنچائی جاسکتی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے ماہر قانون احمر بلال صوفی کو اپنا بین الاقوامی نمائندہ خصوصی مقرر کیا ہے اور انہیں ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ مختلف ممالک میں جاکر اس کنونشن پر دستخط کرائیں تاکہ مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کو قانونی حیثیت مل جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مغربی ممالک کے لوگوں کو نبی ﷺ کے بارے میں پتہ ہی نہیں، وہ ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں تو مسلمانوں کو غصہ آتا ہے اور لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں اور اپنے ہی ملک میں توڑ پھوڑ ہوجاتی ہے، اس عمل سے انہیں پروپیگنڈا کرنے کا موقع مل جاتا ہے کہ اسلام انتشار پھیلاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے اسکالرز عوام کو بتائیں کہ حضورﷺ نے سب سے پہلے انسانوں کے کردار بدلنے کی کوشش کی، پاکستان ایک عظیم ملک اس وقت بنے گا جب ہم خود کو تبدیل کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ہماری نئی حکومت آئی تو ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا تاہم ہم نے ان کے منسٹر سے بات کی اور پہلی مرتبہ اس مقابلے کا انعقاد منسوخ کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اس معاملے کو او آئی سی میں بھی اٹھایا اور وہاں بات کی کہ سب کو ملکر مغرب کو یہ بات بتانی چاہیے کہ نبی ﷺ ہمارے نزدیک کتنے قابل احترام ہیں اور ہم نے اقوام متحدہ میں بھی یہ معاملہ اٹھایا جس کی تائید کی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ انڈونیشیا اور ملائشیا میں کوئی فوج نہیں گئی تھی بلکہ مسلمان تاجر گئے تھے جن کے کردار دیکھ کر وہاں کے لوگ مسلمان ہوئے، ہندوستان میں بزرگوں نے اسلام کا پیغام پھیلایا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج بل گیٹس اور اسٹیو جابز پر لکھی گئی کتابیں پڑھی جاتی ہیں کہ وہ کیسے کامیاب ہوئے، حضورﷺ کی زندگی پر لکھی گئی کتابیں پڑھنی چاہیے جنہوں نے پوری دنیا کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں