قائمہ کمیٹیوں پر اتفاق رائے:حکومت کا اپنا مفاد

قائمہ کمیٹیوں

پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان قائمہ کمیٹیوں کے معاملے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے اور ان کمیٹیوں کی سربراہی اس فارمولے کے تحت تقسیم ہو گی جو گذشتہ حکومت کا تھا۔ بی بی سی اردو کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ جو اپوزیشن کے پاس کمیٹیاں تھیں وہ ان کے پاس اور جو حکومت کے پاس تھیں وہ موجودہ حکومت کے پاس جائیں گی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ آئندہ اجلاس تک قائمہ کمیٹیاں تشکیل پا جائیں۔اسد قیصر کا کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹیوں کے معاملے پر حزبِ اختلاف سے اب کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے جبکہ دونوں جانب مسئلہ صرف میڈیا اور اخباروں کی حد تک ہی ہے۔واضح رہے کہ مقامی میڈیا میں سامنے آنے والی بعض خبروں میں کہا گیا تھا کہ اپوزیشن نے غیر اہم قائمہ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ قبول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان میں جولائی میں ہونے والے انتخابات میں تحریکِ انصاف کی کامیابی اور حکومت سازی کے بعد سے تاحال قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے ایوان میں قانون سازی کا عمل بھی شروع نہیں ہو سکا۔قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کے مسئلے پرگزشتہ تین ماہ سے جاری ڈیڈ لاک طویل بحث مباحثے اور تلخ نوائی کے بعد بمشکل ختم ہوا تھا کہ باقی پارلیمانی کمیٹیوں کی سربراہی کے معاملہ پر نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ، جس سے قانون سازی کا عمل پھر معطل ہوتادکھائی دیدیا۔

حکومت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پی اے سی کا سربراہ بنانے کو تیار نہیں جبکہ اپوزیشن کا اصرار تھا کہ سابقہ روایات کی روشنی میں انہیں چیئرمین بنایا جائے ۔ عمران خان کی ذاتی مداخلت سے یہ مسئلہ حل ہوا۔ معاملہ اب آگے چلتا دکھائی دے رہا تھا کہ اپوزیشن نے غیر اہم کمیٹیوں کی سربراہی قبول کرنے سے انکار کر دیا اور حکومت سے خزانہ، اقتصادی امور، داخلہ اور خارجہ امور سمیت اہم کمیٹیوں کی سربراہی مانگ لی ۔ قومی اسمبلی میں پارٹی تناسب سے طے ہوا تھا کہ 23کمیٹیوں کی سربراہی حکومتی پارٹی کو اور19کی اپوزیشن کو ملے گی اب جبکہ حکومت نے شماریات، سائنس و ٹیکنالوجی اور موسمی تغیرات جیسی کمیٹیوں کی چیئرمین شپ حزب اختلاف کی پارٹیوں کو پیش کی تو انہوں نے اسے مسترد کر دیا اور ان کمیٹیوں کا مطالبہ کر دیا جن پر حکومت اپنے نمائندوں کا تقرر چاہتی ہے۔

loading...

یہ بھی پڑھیں: آئندہ ماہ حکومت کا منی بجٹ لانے کا اشارہ

اس سے پارلیمنٹ میں اہم امور پر فیصلوں کا عمل ایک بار پھر غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گیا۔ ارکان اسمبلی کا چاہے حکمراں اتحاد سے تعلق ہو یا اپوزیشن سے، سب عوام کے منتخب نمائندے ہیں اور عوام کی خواہش ہے کہ پارلیمانی عمل آئین اور قانون کے مطابق کسی تعطل کے بغیر چلتا رہے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے رویوں میں لچک پیدا کریں اور افہام و تفہیم سے بلاتاخیر یہ مسئلہ حل کریں۔ نئی قومی اسمبلی قائم ہوئے چار ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔

مگر قائمہ کمیٹیوں کا قیام تاخیر کا شکار ہونے کی وجہ سے کوئی قانون سازی نہیں ہو سکی جبکہ ملک کو درپیش مسائل کی وجہ سے کئی معاملات پر پارلیمنٹ کے فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ حکومت کے اندر کئی وزراء اب بھی یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا حادثہ ہو جائے جس کے نتیجے میں شہباز شریف کو اس کی سربراہی نہ ملے جو وزراء یہ موقف اختیار کئے بیٹھے ہیں بظاہر لگتا ہے کہ انہوں نے اس معاملے کو خواہ مخواہ اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے اور اب بھی وہ اڑچن ڈالنا چاہتے ہیں،جب ان کی دال نہیں گلی تو انہوں نے باقی کمیٹیوں کی تشکیل میں اپوزیشن کو غیر اہم کمیٹیوں کی سربراہی پر ٹرخانے کا منصوبہ بنا لیا،لیکن اپوزیشن نے جواب میں اہم کمیٹیوں کی سربراہی مانگ کر ایک بار پھر ڈیڈ لاک پیدا کر دیا۔

جس کا بہترین حل تو یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اندر رکنیت کے مطابق فیصلہ کر لیا جائے۔ اہم وزارتوں کی ایک فہرست بنا کر تناسب کے حساب سے فیصلہ کر لیا جائے اور ڈنڈی مارے بغیر اپوزیشن کو اس کا حصہ دے دیا جائے تو سارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔لیکن لگتا ہے حکومت کے بعض ارکان اس معاملے کو بھی لٹکانا چاہتے ہیں تاکہ انہیں پی اے سی کے مسئلے پر جو خفت اٹھانا پڑی ہے، اس کا کچھ نہ کچھ ازالہ تو ہو سکے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں