افغانستان: انتخابات کے دوسرے روز بھی عسکریت پسندوں کا حملہ، 12 افراد ہلاک

افغانستان

افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے دوسرے دن بھی عسکریت پسندوں نے پولنگ کے عمل کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا اور ایک بم دھماکے میں بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تکنیکی مسائل اور دہشت گردی کے خطرات کے باوجود افغانستان میں دوسرے روز پارلیمانی انتخابات جاری ہیں۔

آزاد الیکشن کمیشن (آئی ای سی) چیئرمین عبدالبدیع سیات کا کنہا ہے کہ30  لاکھ افراد رجسٹرڈ ووٹرز نے ہفتے کو اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جس میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ کابل میں جبکہ سب سے کم ٹرن آؤٹ جنوبی صوبے ارزغان میں رہا ہے۔

افغانستان کے 4 سو سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل جاری رہے گا جس میں صرف کابل کے ہی 45 پولنگ اسٹیشن شامل ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق اب تک افغانستان انتخابات کے دوران ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد 200 ہوگئی ہے۔

loading...

یہ افغانستان میں ہونے والے تیسرے عام انتخابات ہیں اور طالبان کی دھمکیوں اور ملک میں امن عامہ کی خراب صورتحال کی وجہ سے موجودہ انتخابات پہلے ہی ساڑھے تین سال تاخیر سے منعقد ہو رہے ہیں۔

طالبان کی جانب سے دھمکیوں اور انتخابی مہمات پر کیے گئے جان لیواء حملوں کی وجہ سے ووٹرز ٹرن آؤٹ بہت کم رہا۔

یاد رہے کہ انتخابات میں شریک تقریباً اڑھائی ہزار امیدواروں میں سے کم از کم 10 الیکشن سے قبل کیے گئے حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

افغانستان میں عام انتخابات کے دن بم دھماکے سمیت مختلف پرتشدد واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 28 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔

ان واقعات کے بعد متعدد جگہوں پر پولنگ کا عمل روک دیا گیا تھا تاہم ان پر اتوار کو دوبار پولنگ کروانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں