بھارتی جنونیت کے آگے بند باندھنے کی ضرورت

بھارتی جنونیت

شمالی کشمیر کے ضلع بارہ مولا میں دو الگ الگ واقعات میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید نوجوانوں کی تعداد 5 ہو گئی۔ پہلے واقعے میں اوڑی سیکٹر کے بونیار علاقے میں فوج نے تلاشی آپریشن کے دوران 4 نوجوانوں کو درانداز قرار دے کر شہید کر دیا۔ بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا نے میڈیا کو بتایا کہ اوڑی سیکٹر میں دراندازی کی کوشش میں 3 نامعلوم عسکریت پسند مارے گئے ان سے گولہ بارود بھی ملا ہے۔ دوسرے واقعے میں کرالہارعلاقے میں مزید 2 نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا۔ بارہ مولا سری نگر ہائی وئے پر سی آر پی ایف نے کرالہارعلاقے میں ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں 2 نوجوان مارے گئے۔ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے علاقے ٹہاب میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں بھارتی فوج کی ایک گاڑی تباہ جبکہ 7 اہلکار زخمی ہو گئے۔ پلوامہ ٹہاب روڑ پر ترچھل پل کے قریب بھارتی فوج کی 55 آر آر کی ایک کیسپر گاڑی بچھائی گئی بارودی سرنگ کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں گاڑی کو شدید نقصان ہوا جبکہ 7 اہلکار زخمی ہوئے۔ زور دار دھماکے سے پورا علاقہ دہل اٹھا۔ دھماکے کے فوراً بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا جو قریب 20 منٹ تک جاری رہا۔ اس کے بعد علاقے کو سیل کیا گیا اور تلاشیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے بھارتی فوج کی طرف سے شہادتوں میں اضافے کے خلاف عوام کو احتجاج سے روکنے کے لیے سرینگر میں پابندیاں عائد کردی ہیں۔

بھارت کی مودی سرکار کشمیری نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر فعالیت اور انکی جانب سے اقوام عالم میں بھارتی فوجوں کے مظالم بے نقاب کرنے سے عاجز آکر انہیں بزور کچلنے کی ٹھانے بیٹھی ہے۔ اس مقصد کے لیے ہی مقبوضہ کشمیر میں محبوبہ مفتی کی کٹھ پتلی حکومت کو ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا اور پورا میڈیا اپنے کنٹرول میں لیا گیا۔

مقبوضہ وادی میں جدید اور مہلک ہتھیاروں کے ذریعے کشمیریوں پر مظالم کا تسلسل تو گزشتہ چار سال سے برقرار ہے جس کے دوران نوجوان کشمیری لیڈر برہان وانی سمیت سینکڑوں کشمیری عوام شہید اور اسرائیلی ساختہ پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے ہزاروں نوجوان مستقل اندھے اور اپاہج ہوچکے ہیں تاہم مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد بھارتی فورسز نے مودی سرکار کے ایجنڈے کے عین مطابق وہاں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔

بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے نہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری ہے نہ ہی اس نے دوطرفہ مذاکرات کے لیے شملہ معاہدے کو کبھی پرکاہ کی حیثیت دی ہے۔ اس کا ایجنڈا کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی کو جیسے تیسے عملی قالب میں ڈھالنے کا ہے جس کے لیے اسے مسلمہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی بھی پاسداری نہیں اور اسکی فوجیں وحشت و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے کشمیری عوام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ کشمیریوں کی جدوجہد کا ساتھ دینے اور علاقائی اور عالمی فورموں پر انکے کاز کے لیے آواز اٹھانے پر بھارت پاکستان کی سالمیت کے بھی درپے ہے جس پر بھارت کی سول اور فوجی قیادتوں کی جانب سے آئے روز سرجیکل سٹرائیکس اور باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی گیدڑ بھبکیاں لگائی جارہی ہیں۔

اسی بنیاد پر مودی سرکار کی جانب سے سرحدوں پر کشیدگی مسلسل بڑھائی گئی ہے اور حیلے بہانے سے پاکستان کے ساتھ ہر سطح کے مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں ہی بھارت کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور اسکے ایک قدم آگے بڑھانے کی صورت میں پاکستان کی جانب سے دو قدم بڑھانے کا اظہار کیا اور مودی کے تہنیتی پیغام کے جواب میں بھی پاکستان بھارت تنازعات کے حل کے لیے دوطرفہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جو درحقیقت پاکستان کے اس اصولی مؤقف ہی کا اعادہ تھا جو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر سمیت تمام باہمی تنازعات کے حل کے لیے سابقہ حکومتوں کی جانب سے بھی اختیار کیا جاتا رہا مگر بھارت اپنے خبث باطن کے باعث پاکستان کے ساتھ حل طلب تنازعات طے کرنے کی راہ پر نہیں آتا۔

بھارت نے گزشتہ ماہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر وزراء خارجہ کی باضابطہ ملاقات کی پیشکش قبول کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد ٹھکرا دی اور اسی بنیاد پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے ہم منصب وزیر خارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی کے ساتھ سرد مہری والا رویہ اختیار کیا اور اسکے بعد مودی سرکار کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جنگ کی فضاء بنا دی گئی جس پر پاکستان کی سول اور عسکری قیادتوں کو بھی جنونی بھارت کو مسکت جواب دینا پڑا۔

اب مودی سرکار کشمیریوں کے درپے ہے اور وحشیانہ مظالم کے ذریعے انکے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ چنانچہ بھارتی فوجوں کے مظالم سے گزشتہ دو ہفتے کے دوران دو درجن کے قریب کشمیری نوجوان شہید ہوچکے ہیں۔ ظلم و جبر کے ایسے ہتھکنڈوں کا مقصد حق خودارادیت کے لیے توانا ہونیوالی کشمیریوں کی آواز ہمیشہ کے لیے دبانا اور ان پر بھارتی فوجوں کے مظالم اقوام عالم کی نگاہوں سے اوجھل رکھنا ہے تاہم دنیا بھر میں پھیلے متحرک کشمیریوں نے اب تک بھارت کی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی۔ آج مسئلہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ کشمیری عوام نے کٹھ پتلی اسمبلی کے انتخابات کی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی نگرانی میں کرائے گئے بلدیاتی انتخابات کو بھی مسترد کرکے اور ان انتخابات کا بائیکاٹ کرکے دنیا کو بھارتی تسلط قبول نہ کرنے کا ٹھوس پیغام دے دیا ہے جبکہ بھارتی جنونی عزائم و اقدامات کا ہماری جانب سے بھی منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔

اگر بھارت کشمیری عوام کو کیمیائی ہتھیاروں کے ذریعے مکمل کچلنے اور پاکستان کی سالمیت پر اوچھا وار کرنے کی منصوبہ بندی کیے بیٹھا ہے جس کا اسکی جنگی تیاریوں سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے تو عساکر پاکستان بھی دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کے لیے مکمل تیار ہیں اور قوم بھی عساکر پاکستان کے ساتھ یکجہت ہے۔ کوئی یہاں چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھا اور نہ ہی ملک کی سالمیت کے خلاف جارحیت کا سوچنے والوں کا ہار پہنا کر استقبال کیا جائے گا۔

اس تناظر میں مودی سرکار کو آگاہ ہونا چاہیئے کہ اسے ہماری جانب سے ایسے کو تیسا والا جواب ہی ملے گا۔ اگر بھارت پرامن بقائے باہمی کے آفاقی اصولوں کا بھی قائل نہیں اور اس نے علاقائی اور عالمی امن تہہ و بالا کرنے کی ہی ٹھانی ہوئی ہے تو اقوام عالم اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر بھارتی جنونی ہاتھ بہر صورت روکنا ہونگے۔ بصورت دیگر بھارتی توسیع پسندانہ عزائم علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو بھی غارت کرکے چھوڑیں گے۔ پاکستان کو بہرصورت اپنے دفاع و تحفظ کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت کوئی بھی قدم اٹھانے کا حق حاصل ہے جس کا نتائج سے عالمی قیادتوں کو اس لیے بھی آگاہ ہونا چاہیئے کہ بھارتی جنونیت کے آگے بند نہ باندھنے کے باعث ہی اسکی نوبت آئے گی۔

Spread the love
  • 5
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں