سائنسی ایجادات اور اسلام ۔۔۔

اسلام

ایسا لگتا ہے کہ سائنس دانوں کی سب سے بڑی پریشانی حضرت محمد پر نازل ہونے والی کتاب قرآن پاک (اسلام) ہے۔ جس میں موجودہ اور جدید ادوار کی ایجادات اور دریافتوں کے بارے میں صدیوں پہلے ہی نشاندہی کردی گئی تھی۔ چلیں وہ تو ٹھرے سائنسی مخلوق … تحقیق کرنا ان کی فطرتِ ثانیہ ہے. پر ہم مسلمان کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں..؟ اگر ہم سب مسلمان ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے. اسلام ہر معاملے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے اور ہمیں ترقی و کامیابی کے اصولوں سے روشناس بھی کراتا ہے. ہمارا ایمان حضورﷺ کی سنت پر عمل پیرا ہو کر اور دل جان سے یقین رکھتے ہوئے ہی مکمل ہو سکتا ہے.

لیکن افسوس ہم اپنی کتاب اور اپنی سنت و احادیث سے دور مغرب کے دور میں جینے لگے ہیں ہم اسلام کو جانتے ہیں لیکن پھر بھی مغرب کے اصولوں اور طور طریقوں کو اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں لیکن اصل بھلائی اور کامیابی صرف اور صرف اسی سنت پر عمل کرنے سے حاصل ہو سکتی ہے.
جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
“بے شک حضور پاک ﷺ کی زندگی میں تمہارے لیئے بہترین نمونہ ہے.”

سرور عالم حضور اکرم ﷺ کا ارشاد پاک ہے :
“تم میں سے جو شخص کامیابی حاصل کرنا چاہتا اسے چاہیئے کہ الله کی کتاب ( قرآن پاک ) اور اس کے رسول ﷺ کی سنت پر عمل کرے.”

یہ بھی پڑھیں: سورة مریم میں چھپے سائنسی معجزے کا اعتراف

سنت رسول ﷺ پر عمل کرنا ہم سب مسلمانوں پر فرض ہے۔ حضور پاک ﷺ نے جو طریقے ہمیں بتائے ہیں جو کام کرنے کو کہا ہے اور جن سے منع فرمایا ہے وہ یقینًا ہمارے لئے فائدہ مند ہیں۔

چند تحقیقات اور اسلامی سائنسی معجزات کا اعتراف

1. بیٹھ کر پانی پینا

حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ پانی ہمیشہ بیٹھ کر پینا چاہیئے اور اب سائنس کا کہنا ہے کہ پانی کھڑے ہو کر پینے سے پانی سیدھا گٹھنوں میں چلا جاتا ہے اور اس طرح گھٹنوں میں درد پیدا کرنے کاباعث بنتا ہے اور آج تقریبًا ہر بندہ اس بیماری میں مبتلا ہے ۔

2. مسواک کرنا

1. مسواک کرنے سے خطرناک جرثیم کا خاتمہ

کیا آپ جانتے ہیں؟ انسان کے منہ میں کچھ ایسے جراثیم پائے جاتے ہیں جو کسی بھی قسم کے برش اور ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے سے بھی صاف نہیں ہوتے اور ایسے جراثیم کو صرف مسواک کے ذریعے سے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔

2. مسواک کرنے سے دماغی قوت میں اضافہ

ایک اور میڈیکل تحقیق کے مطابق مسواک کے استعمال سے نا صرف انسانی دماغ کو قوت ملتی ہے بلکہ دماغ میں تیزی بھی آتی ہے۔

3. مسواک کرنے سے کانوں کی بیماریوں کا علاج

متعدد ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس کچھ ایسے مریض آتے ہیں جو کان کی مختلف قسم کی بیماریوں اور شدید درد میں مبتلا ہوتے ہیں اور مہنگے سے مہنگا علاج کروانے کے باوجود بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا.پھر جب ایسے مریضوں کی اچھی طرح سے تشخیص کی جاتی ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے مسوڑوں میں پیپ پڑ گئی ہے اور پھر جب مسوڑوں کا علاج کیا جاتا ہے تو انہیں مسواک کرنے کو کہا جاتا ہے تو ساتھ ہی ان کے کان بھی بالکل صحت مند ہو جاتے ہیں
اسی طرح دانتوں کی خرابی آنکھوں کی خرابی کا موجب بھی بنتی ہے کمزور بینائی کے مریضوں میں ذیادہ تر مریض دانتوں کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

4. مسواک کرنے سے معدہ کی بیماری کا علاج

ماہرین کے تجربات سے یہ بات تحقیق شدہ ہے کہ تقریبًا 80 فیصد امراض کی وجہ معدہ اور دانتوں کی خرابی ہے اسی لئے آجکل ہر تیسرہ بندہ معدہ کی بیماریوں میں مبتلا ہے۔اس کے علاوہ حالیہ تحقیق سے یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ جو ٹوتھ برش ایک بار استعمال ہو جائے اس میں جراثیم کی ایک تہ جم جاتی ہے پھر اگر اسی برش کو دوبارہ استعمال کیا جائے تو یہ صحت کے لیئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی سے صاف کرنے کے باوجود بھی وہ جراثیم صاف نہیں ہو پاتے ۔ اور اپنی نشونما برقرار رکھتے ہیں مزید یہ کہ برش کے استعمال سے دانتوں کے اوپر والی سفید اور چمکیلی تہہ بھی اتر جاتی ہے اور اس طرح دانتوں کے درمیان میں خلا پیدا ہو جاتا ہے اور دانت مسوڑوں کی جگہ چھوڑ جاتے ہیں لہذا جو اجزا دانتوں میں پھنستے رہتے ہیں وہ دانتوں کے لیئے شدید نقصان دہ ہے اور بلآخر سارے جسم میں بیماریاں پھیلانے کا باعث بنتے ہیں ۔ اس لیئے ہی 1400 سال پہلے ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہمیں مسواک کرنے کا حکم دیا تھا۔

3.سیدھی کروٹ سونا

حضور پاک ﷺ نے ہمیں بتایا کہ سوتے وقت ہمیشہ دائیں جانب کروٹ لے کر سونا چاہیئے اور اب حالیہ تحقیق کے بعد سائنس دانوں کا یہ کہنا ہے کہ دائیں طرف کروٹ لے کر سونے سے دل پر زیادہ زور نہیں پڑتا ،کیونکہ اس طرح دل کے بائیں طرف کا حصہ دائیں کروٹ ہونے کی حالت میں،بائیں طرف سے اوپر ہوتا ہے ،اس طرح خون کو پمپ کرنے میں زور نہیں لگانا پڑتا جس سے دل پر کم دباؤ پڑتا ہے اور خون دل سے نکل کر جسم میں آسانی سے گردش کرتا ہے ۔
اس طرح حضور اکرم ﷺ نے بتایا کہ
ہمیں کس طرح لیٹنا چاہیے ۔ اس بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے
کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو پیٹ کے بل لیٹتے دیکھا تو فرمایا
” اس طرح لیٹنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے “۔(ترمذی)
اور آج میڈیکل سائنس ہمیں یہ معلومات فراہم کرتی ہے کہ منہ کے بل اوندھے لیٹنے سے دل اور گردہ پر برا اثر پڑتا ہے ۔نیز نظام انہظام بھی متاثر ہوتا ہے ۔

4.قیلولہ کرنا

سائب بن یزید کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ جب دوپہر کو ہمارے پاس سے گزرتے تو فرماتے “جاؤ قیلولہ کرو”۔(شعیب الایمان 182،جلد5)۔
اسی طرح حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ قیلولہ کرو کیونکہ شیطان قیلولہ نہیں کرتا (طبرانی ،ابو نعیم ،دیلمی)۔
ایک اور حدیث کے راوی حضرت سہل ابن سعد ؓ ہیں اور وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جمعہ کے دن جمعہ کے بعد کھانا کھاتے اور پھر قیلولہ کرتے ۔(بخاری،ترمذی)
اور آج پروفیسر جم ہارن ،ڈائریکٹر سلیپ ریسرچ لیبارٹری انگلینڈ کا کہنا ہے کہ
” دوپہر 2 سے 4 بجے تک انسانی جسم میں اتار چڑھاؤ (تغیریات/ تبدیلیوں) کا گہرا عمل ہوتا ہے ،اس لیے زیادہ تر لوگوں پر اس وقت نیند کا غلبہ ہوتا ہے ۔”
اسی لئے پروفیسر جم ہارن تجویز کرتے ہیں کہ اگر دوپہر کو 20 منٹ تک کے لیئے سویا جائے تو اس سے انسان کی کام کرنے کی قوت بڑھ جاتی ہے اور جسم میں چستی اور راحت محسوس ہوتی ہے ۔

جیسا کہ میں نے شروع میں کہا کہ سنت رسول ﷺ پر عمل کرنے سے ہم ہمیشہ تندرست و توانا زندگی گزاریں گے اب
ان ساری باتوں سے یہ اندازہ باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے سالوں پہلے جو اسلام کے طریقے ہمیں بتائے ہیں وہی سب باتیں آج سائنس پیش کر رہی ہے ۔ اس لیئے ہمیں چاہیئے کہ اسلام کے اصولوں کو اپنائیں ۔ اور مغرب کے طور طریقے بھلا دیں ۔ کیونکہ ہم الحمدالله مسلمان پیدا کیے گئے ہیں اور مسلمان ہیں ۔ اس طرح ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ ہم اسلام کے اصولوں اور طریقوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔۔

(جاری ہے…)
زونیرہ شبیر
پنڈیگھیب ، اٹک

Spread the love
  • 9
    Shares

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں