بسنت کا ثقافتی تہوار

بسنت صوبہ پنجاب کا وہ ثقافتی تہوار ہے جو صدیوں سے موسم بہار کو خوش آمدید کہنے کیلئے مقامی طور پر منایا جاتا رہا ہے۔ اس ثقافتی میلے سے اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملتا اور اربوں روپوں کا بزنس ہوتا تھا لیکن اس تہوار میں انسانی جانوں کے بڑھتے ہوئے ضیاع کے باعث 2005 میں عدالت عظمیٰ نے بسنت منانے پر پابندی لگا دی۔

بعد ازاں 2007 میں مسلم لیگ (ن )کی حکومت نے نوٹیفکیشن کے تحت پابندی عائد کی، تاہم موجودہ پنجاب حکومت نے آئندہ سال فروری میں بسنت منانے کا عندیہ دیا ہے۔ گزشتہ روز الحمرا آرٹس کونسل میں صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ بسنت کے تہوار کو منانے اور اس سے جڑے تمام منفی و مثبت مضمرات کا جائزہ لینے کیلئے وزیر قانون راجہ بشارت کی سربراہی میں آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تمام امور کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات وزیراعلیٰ پنجاب کو آٹھ یوم کے اندر پیش کرے گی جس کی روشنی میں بسنت منانے کی حتمی منظوری دی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ اس ضمن میں ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے بھی اجازت طلب کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:لاہوری بسنت… ماضی کا قصہ

دھاتی ڈور کے استعمال سے ماضی میں ہونے والی اموات کی وجہ سے بسنت منانے کے اعلان پر مختلف سماجی و سیاسی حلقے ملا جلا ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کو خدشہ ہے کہ کیمیکل ڈور پر مکمل پابندی اور فائرنگ کے واقعات کی روک تھام کئے بغیر کوئی بھی اقدام اٹھانا صائب نہ ہو گا۔ابھی حال ہی میں کراچی میں ایک بچی جاں بحق ہو گئی تھی، حالانکہ سندھ اور کراچی میں اول تو پتنگ بازی ہوتی نہیں تھی اور اگر ہوتی تو وہاں مانجھا لگی ڈور کا تصور نہیں تھا، سادہ ڈور سے پتنگ اڑائی جاتی تھی، لیکن یہ وبا اب وہاں تک پہنچ گئی کہ کاروبار کر کے منافع کمانے والے محدود ہونا پسند نہیں کرتے۔اس سے پہلے کہ بسنت اور پتنگ بازی کے پس منظر پر بات کی جائے۔

یہامر غورطلب ہے کہ پتنگ بازی پر پابندی طویل احتجاج اور جانی نقصان کے بعد لگائی گئی تھی۔ اس سلسلے میں دھاتی تار اور کیمیکل والی ڈور کو روکنے کے لئے انتظامیہ نے بہت کوشش کی، کامیابی نہ ملی کہ پتنگ باز اور ڈور بنانے والے باز نہ آئے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بسنت جیسے میلے لاہور شہر کو ثقافتی سطح پر نمایاں کرنے کے ساتھ عوام کیلئے بھی تفریح کا سستا ذریعہ ہیں۔ ان سے جہاں سیاحت کے فروغ میں مدد ملتی ہے وہیں دنیا بھر میں بھی ملک کا مثبت امیج اجاگر ہوتا ہے لہذا ایسی کلچرل سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے تاہم انسانی پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔ اس لئے ضروری حفاظتی انتظامات یقینی بنا کر ہی بسنت فیسٹیول منایا جائے تاکہ عوام حقیقی معنو ں میں لطف اندوز ہو سکیں۔

loading...

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں