کراچی واٹر بورڈ افسران نے کراچی کی 50 فیصد عوام کو آلودہ پانی فراہم کرنے کا اعتراف کرلیا

karachi water board

کراچی :  واٹر بورڈ افسران نے واٹر کمیشن کے سامنے کراچی کو 50فیصد آلودہ پانی فراہم کرنے کا اعتراف کرلیا۔ واٹر بورڈ کے ان افسران نے کہا کہ 50 فیصد پانی بغیر فلٹر کے فراہم کیا جاتا ہے سپریم کورٹ کی جانب سے جسٹس( ر) امیر ہانی مسلم کی سر براہی میں بننے والے واٹر کمیشن نے کراچی کو پانی فراہم کرنے والی کنیجھر جھیل کے دورے کے دوران جھیل میں آلودگی دیکھ کر واٹر بورڈ افسران پر اظہار برہمی کیا۔

واٹر کمیشن کے دورے کی نمائندگی ڈی ایم ڈی اسد اللہ خان نے کی امیر ہانی مسلم نے کنیجھر جھیل سے کراچی کو پانی فراہم کرنے والے کے ڈی اے بیراج اور فلٹر پلانٹس کا دورہ کیا اور پانی کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

کنیجھر جھیل میں آلودگی دیکھ کر امیر ہانی مسلم نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو زہریلا پانی فراہم کیا جا رہا ہے فراہم کیا جانے والا پانی میعاری نہیں ہے۔ کراچی میں پانی کی صورتحال یہ ہے تو دیگر شہروں کی حالت کیا ہو گی۔ انہوں نے واٹر بورڈ افسران کو حکم دیا کہ انہیں تفصیلات فراہم کی جائیں کہ کنیجھر جھیل میں اس وقت پانی کی سطح کیا ہے۔ انہوں نےبتایا کہ انہیں شکایت ملی ہے کہ کنیجھر جھیل میں کوٹری کے صنعتی یونٹس سے خارج ہونے والے فضلے کو شامل کیا جا رہا ہے۔

 جھیل کو آلودگی سے بچانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے ہونگے۔ دورے کے دوران کمیشن ارکان نے کے تھری پمپ ہاؤس میں کچرے کے ڈھیردیکھ کر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ پمپ ہاؤس کی صفائی فوری طور پر کرائی جائے ۔واٹر کمیشن نے فلٹر پلانٹ کی توسیع اور اس پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں