سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف غداری کے مقدمات درج

سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف غداری کے مقدمات درج

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور میمو گیٹ سکینڈل میں ملوث حسین حقانی کے خلاف غداری کے مقدمات درج

یہ مقدمات کوہاٹ کے شہری مومن، محمد اصغر اور شمش الحق نےتھانہ کینٹ اور تھانہ بلی ٹنگ میں درج کرائے۔ ایف آئی آر میں درخواست گزاروں کی جانب موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حسین حقانی نے سفیر ہوتے ہوئے بھارتی اور سی آئی اے کے جاسوسوں کو ویزے جاری کیے۔ درخواست میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ حسین حقانی نے اپنی کتابوں کے ذریعے پاکستان کو بدنام کیا ہے جس سے حسین حقانی غدار ثابت ہوتے ہیں۔  مقدمات دفعہ 120 بی اور 121 اے کے تحت درج کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ حسین حقانی کے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں اپنا ایک مضمون لکھا تھا۔ جس میں حسین حقانی نے دعوایٰ کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کے خلا ف ابیٹ آباد میں انہوں نے امریکی انتظامیہ کی مدد کی تھی۔  اور اسی کالم میں ہی حسین حقانی نے امریکیوں کو ویزے جاری کرنے کے حوالے سے بات کی ہے۔

میمو گیٹ کیا ہے۔

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں حسین حقانی امریکی سفیر تھے۔ اور 2011 میں میمو گیٹ سکینڈل اس وقت سامنے آیا جب ایک پاکستانی  نژاد امریکی شہری اور کاروباری شخص منصور اعجاز  نے دعوایٰ کیا کہ انہیں ایک پیغام موصول ہوا، جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا تھا۔ اور یہ پیغام انہیں حسین حقانی کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔

حسین حقانی پر الزام یہ عائد کیا جاتاہے کہ انہوں نے ابیٹ آباد آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کے خلاف امریکہ کی مدد حاصل کرنے کے لیے یہ میمو لکھا تھا۔

تاہم اس الزام کے بعد حسین حقانی مستعفی ہو گے تھے۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں