وٹامن ڈی کی کمی خوراک سے پوری ہو ہی نہیں سکتی (حمید ندیم)

چند دن ہوئے حسب ِ معمول میں اپنے دوست کی کلینکل لیبارٹری پر بیٹها تھا۔  میں نے نوٹ کیا کہ وٹامن ڈی کے ٹیسٹ کچھ زیادہ ہی آنے لگے ہیں – اچانک مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ اسے لوکل لیول کا ریسرچ پراجیکٹ ہی بنا لیا جائے۔ پهر کیا تها “ہمیں مل گیا بہانہ تیری دید کا ” والا معاملہ ہو گیا- اور یہ ریسرچ پراجیکٹ شروع ہو گیا – جو اس مضمون کا سنگِ بنیاد ثابت ہوا۔  پراجیکٹ میں میں نے دو لیبارٹریوں کو شامل کیا- کم از کم ، فورٹ عباس (جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولنگر کی تحصیل)  میں یہ بہترین لیبز ہیں- کام کے لحاظ سے بھی اور معیار کے لحاظ سے بھی – ان دونوں لیبارٹریوں سے جو ڈیٹا ملا وہ خاصا چشم کشا ہے۔

 اس ڈیٹا کے مطابق تقریباً تقریباً سارے ٹیسٹ عورتوں کے تهے۔ اور وہ بھی زیادہ تر شہری عورتوں کے۔ اور تقریبا سب کا رزلٹ ایک ہی تها، وٹامن ڈی کی کمی۔ اس کا مطلب یہ ہو کہ فورٹ عباس شہر کے تقریبا 100 فیصد خواتین وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔  اسے سروے کہہ لیں یا فیلڈ ورک کہہ لیں – اس سے فارغ ہوا تو میں لائبریری ورک میں لگ گیا – ڈاکٹری کی کتابیں پڑھیں – جن میں “Medical Diagnosis ” اور “Davidson’s Medicine” شامل ہیں – صورتِ حال یہاں بھی بڑی حیران کن سامنے آئی۔  سارے مطالعے کا خلاصہ یہ ہے

وٹامن ڈی کی کمی خوراک سے تو پوری ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ ہماری کھانے کی تمام چیزوں میں وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے صرف خوراک سے انسانی جسم کو درکار وٹامن ڈی ضرورت پوری نہیں کی جا سکتی۔  ایسے میں وٹامن ڈی کا ہمارے پاس واحد ذریعہ صرف دھوپ رہ جاتی ہے – اوردھوپ بھی خاصی شدت والی – جس میں Ultra Violet radiation کافی ہو – مگر بد قسمتی سے ہماری عورتیں ہمارے جیسے گرم ملک میں بھی اس نعمت سے خود ساختہ محرومی کا شکار ہیں – ان کو رنگ گورا کرنے کی پڑی ہے  ہڈیاں رہیں نہ رہیں۔  جبکہ ہڈیاں بننے کے لئے اور ہڈیاں قائم دائم رکھنے کے لئے وٹامن ڈی ناگزیر ہے۔ اور یہی نہیں وٹامن ڈی ہو بھی تو بھی اس کے ساتھ کیلشیم ہونا لازمی ہے۔  اور کیلشیم زیادہ تر ہڈیوں والے گوشت اور دودھ میں پایا جاتا ہے – اور ہماری خواتین  ان دونوں کا استعمال کم کم ہی کرتی ہیں۔  اور بہت سی تو ان سے ویسے ہی محروم ہیں بہرحال  بڑی عمر کے افراد میں وٹامن ڈی کی اس کمی والی بیماری کو ہڈیوں کا کهرنا

، Demineralisation ، اور Osteomalacia کہا جاتا ہے۔

اس کی علامات کے متعلق مشہور ڈاکٹر Davidson لکھتے ہیں

 ” Osteomalacia in adults presents insidiously . Mild osteomalacia can be asymptomatic or present with fractures. More severe osteomalacia presents with muscle and bone pain, general malaise and fragility fractures. Proximal muscle weakness is prominent and the patient may walk with a wadding gait and struggle to climb stairs or get out of the chair. ”

رہا اس بیماری کا علاج۔  تو ہمارے ہاں پاکستان میں وٹامن ڈی-2 کا ایک ٹیکہ ملتا ہے۔ اس ٹیکے کو ہفتے میں ایک یا دو بار 6 سے 12 ماہ تک پینا چاہیے،  جو Orally بھی پی لیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں پانی کی بجائے دودھ میں ملا کر پینا بہتر رہے گا مگر ہمارے ہاں چونکہ اکثر کیلشیم کی بهی کمی ہوتی ہے۔  تو بہتر ہوگا کہ وٹامن ڈی کے ساتھ ساتھ کیلشیم کی گولیاں وغیرہ بھی لے لی جائیں –

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں