راؤ انوار پر ہونے والا خودکش حملہ بھی مشکوک لگتا ہے :ڈی آئی جی ایسٹ

نقیب اللہ قتل کیس
loading...

راؤ انوار پر ہونے والا خودکش حملہ بھی مشکوک لگتا ہے، خودکش حملے میں حملہ آور جل کے نہیں مرتا اور مبینہ خود کش حملے کی تحقیقات کے لئے افسران کو لکھ دیا ہے، ڈی آئی جی ایسٹ

کراچی:سابق ایس ایس پی ملیرراؤ انوارنقیب اللہ قتل کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے،راؤ انوار کو اتوارکی شب گیارہ بجے ڈی آئی جی ایسٹ کے دفتر طلب کیا گیا تھا۔طلبی کے باوجود وہ ڈی آئی جی ایسٹ سلطان خواجہ کے دفتر نہیں پہنچے۔ راؤ انوار کو تحقیقاتی کمیٹی پر اعتراض ہے اور انہوں نے نقیب اللہ قتل کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ سلطان خواجہ نے کہاکہ ایس ایس پی ملیر رابطہ کرنے کے بجائے میڈیا پر بیانات دے رہے ہیں، وائرلیس پر انٹری کے باوجود وہ اب تک ہمارے رابطے میں نہیں آسکے۔انہوں نے کہاکہ ایس ایس پی ملیر نے جواب دینے کے لیے آنا پسند نہیں کیاہم سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل کررہے ہیں مگر راؤ انوار یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ہم ان کی بات کو نہیں سن رہے، ان کے موبائل مسلسل بند جارہے ہیں۔سلطان خواجہ نے کہاکہ ہم پر کسی ادارے کا کوئی دباؤ نہیں ہے، تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کریں گے اور نقیب کے اہل خانہ کی مدعیت میں درج ہونے والے مقدمے کی روشنی میں مزید کارروائی کو آگے بڑھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر راؤ انوار کو پولیس پر اعتبار نہیں ہے تو وہ ہیومن رائٹس کمیٹی میں اپنا بیان ریکارڈ کروا دیں۔ تحقیقات شواہد کی بنیاد پر کی جائیں گی۔ اگر را ؤانوار کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کریں گے ہم ان کی باتوں کو سنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سوالات انکوائری میں سامنے لائیں گے۔ پولیس پارٹی نے کس کے کہنے پر نقیب اللہ کو اٹھایا؟۔ پارٹی سربراہ راؤ انوار تھے ان کا کیا موقف ہے؟۔انہوں نے کہاکہ نقیب اللہ کے دہشت گرد ہونے کے شواہد نہیں ملے اورخیبرپختونخوا پولیس کو بھی نقیب اللہ کا کوئی کرمنل ریکارڈ نہیں ملا اس کیس کی شفاف تحقیقات کررہے ہیں، نقیب کے اہلخانہ کے بیان پرقانونی کارروائی آگے بڑھائیں گے۔ سلطان خواجہ نے کہا کہ کن پولیس اہلکاروں نے نقیب اللہ کو اٹھایا بطور ایس ایس پی ان کی کیاذمہ داری تھی، ہم راؤ انوار اور ان کی ٹیم کا موقف جاننا چاہتے ہیں جب کہ را ؤانوار کا نمبر بند جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راؤ انوار کے ماضی کے مقابلوں میں کوئی متاثرہ فیملی شکایت کرتی ہے تو تحقیقات کریں گے۔ڈی آئی جی سلطان خواجہ نے راؤ انوار پر ہونے والے خودکش حملے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ راؤ انوار پر ہونے والا خودکش حملہ بھی مشکوک لگتا ہے، خودکش حملے میں حملہ آور جل کے نہیں مرتا اور مبینہ خود کش حملے کی تحقیقات کے لئے افسران کو لکھ دیا ہے جب کہ اسٹار گیٹ فائرنگ کیس کی تحقیقات بھی جاری ہے۔دوسری جانب راؤ انوار نے اپنے بیان میں کہاہے کہ انہیں تحقیقاتی کمیٹی پر اعتراض ہے اور وہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔ راؤ انوارکے مطابق انار خان اور فیصل چوہدری نے تصدیق کی تھی کہ نقیب اللہ دہشتگرد ہے جبکہ نقیب کو سچل چوکی کے انچارج اکبر نے گرفتار کیا تھا۔ میں بھاگنے والا نہیں مقدمات کا سامنا کروں گا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں