قدامت کی حسین مثال۔۔۔

عظیم حسین:

موئن جو دڑو کا نام تو ہم سب نے بچپن ہی سے سنا اور کتابوں میں بھی پڑھا ہے۔ تاریخ یا مطالعہ پاکستان کی کتاب جو ہمیں سکول میں پڑھائی جاتی تھی، اُس کا ایک اہم اور تفصیلی مضمون موئن جو دڑو اور ہڑپہ پر مشتمل ہوتا تھا۔

موئن جو دڑو وادی سندھ کی قدیم تہزیب کا مرکز تھا۔ یہ لاڑکانہ سے 20 کلومیٹر دور اور سکھر سے 80 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہ شہر 2500 قبل مسیح میں آباد ہوا مگر 1700 قبل مسیح میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر ختم ہوگیا۔ ماہرین کے مطابق زلزلہ، دریائے سندھ کے رُخ کی تبدیلی یا سیلاب شہر کے ختم ہونے کی اہم وجوہات ہو سکتی ہیں۔ موئن جو دڑو 1922ء میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل نے دریافت کیا اور حیران کُن بات یہ ہے کی اُن کی گاڑی آج بھی موہنجوداڑو کے عجائب گھر کی زینت ہے۔ موئن جو دڑو اپنے وقتوں میں ایک ترقی یافتہ اور بڑا شہر تھا۔ اس کی شہری منصوبہ بندی قابلِ تعریف ہے۔

loading...

اِس شہر کا نام یقیناً کچھ مختلف ہے، جس کے معنی “مُردوں کا ٹیلہ”ہیں اور یہ سندھی زبان کا لفظ ہے۔ موئن جو دڑو ایک آباد اور ترتیب سے بسا ہوا شہر تھا۔ یہاں تقریباً 35000 لوگ بستے تھے، پانی کی نکاسی کا اچھا انتظام تھا اور گلیاں کھُلی اور سیدھی تھیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ یہ شہر سات مرتبہ اُجڑا اور دوبارہ بسایا گیا جس کی بنیادی وجہ دریائے سندھ سے آنے والا سیلاب تھا۔ دلچسپ اور قابلِ فخر بات یہ ہے کہ موئن جو دڑو اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثہ قرار دیے جانے والے مقامات کی فہرست میں شامل ہے۔ اِس خوبصورت و نفیس مقام پر دنیا بھر میں کئی دستاویزی فلمیں بھی بنائی گئیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر سے سیاح یہاں کا رُخ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ آج بھی ماہرِ آثارِ قدیمہ اس شہر کو مزید کھوجنے میں لگے رہتے ہیں۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں