جانیے فلسطینی صحافی نے پورا گاؤں یہودی قبضے میں جانے سے کیسے بچایا؟حیران کن رپورٹ

صحافی نے جو طریقہ اختیار کیا وہ شائد کسی زیرک ترین جنگی منصوبہ ساز کے دماغ میں بھی کبھی نہیں آیا ہو گا،رپورٹ

 1948ء میں فلسطین پر قبضے کے دوران ایک فلسطینی صحافی نے پورے گاؤں کو صہیونی ٹولیوں کے قبضے میں جانے سے بچا لیا۔ اس صحافی نے جو طریقہ اختیار کیا وہ شائد کسی زیرک ترین جنگی منصوبہ ساز کے دماغ میں بھی کبھی نہیں آیا ہو گا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق فلسطینی صحافی عارف حجاوی نے یہ پورا واقعہ اپنی ایک ٹوئیٹ میں بیان کیا ۔

مذکورہ برس 15 مئی کو صہیونی گروہوں نے خوف و دہشت کو فلسطینیوں کی زبردستی ہجرت کے واسطے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ بعض علاقوں میں اس لیے قتل عام کیا گیا تا کہ ملحقہ علاقوں میں رہنے والوں کے دلوں میں خوف بیٹھ جائے اور وہ بچوں ، خواتین اور بوڑھوں کی زندگی کے ڈر سے بھاگ نکلیں،فلسطین کے شہر بیت لحم کا مضافاتی گاؤں بتّیر ان دیہات میں شامل تھا جس کے باسی پڑوسی علاقوں میں ہونے والے قتل عام سے ڈر کر ہجرت کر گئے تھے۔ تاہم فلسطینی صحافی حسن مصطفی مذکورہ گاؤں میں ہی رہا۔ وہ روزانہ شام کو خالی گھروں میں جا کر وہاں تیل کے لیمپ روشن کرتا۔ اس کے نتیجے میں صہیونی عناصر نے گمان کیا کہ بتیر کے رہنے والے چوکنا اور مسلح ہیں۔ اس طرح یہ گاؤں 1948ء میں قبضے سے محفوظ رہا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں